نظریاتی کبڈی – احسن ملک

بہت سے افراد کی طرح راقم کا بھی ذاتی تجربہ ہے کہ اکثر و بیشتر جب بھی خود کو چار پڑھے لکھوں کی محفل میں پانچواں پایا تو اکثر گفتگو کثیفہ گوئی اور لچرپن سے شروع ہوکر درجہ بدرجہ حالات حاضرہ، غیبت اور سیاست کے رولر کوسٹر سے ہوتے ہوئے ایمانیات کے چوک کے چکر کاٹنے کے بعد لامحالہ کسی نہ کسی صورت میں دائیں بازو یا بائیں بازو سے وابستگی کی بحث کے ٹریفک جام میں جا پھنستی ہے۔ گفتگو کا یہ وہ نازک موڑ ہے جس کے دوران گپ شپ کی شروعات میں ہر کثیفے پر بلند آہنگ اجتماعی قہقہہ لگانے والے آستینیں چڑھائے، کف اڑاتے آمنے سامنے صف آرا کھڑےہوتے ہیں۔ ایسی کسی بھی صورتحال میں اصل مشکل کا شکار وہ غریب ہوتا ہے جسے نہ دائیں طرف والے اپنا مانتے ہیں نہ بائیں جانب والوں کو اس سے کوئی ہمدردی ہوتی ہے۔ دونوں کے نزدیک وہ شخص اپنے مشکوک رجحانات کے باعث ناقابل اعتبار اور اکثر قابل گردن زنی ٹہرتا ہے۔

گزشتہ 70 سال سے پاکستان کے عوام رائٹ اور لیفٹ کی اس نظریاتی کبڈی کا میچ عین درمیان اکھاڑے میں بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں ۔ نتیجتاً جوش و ولولے سے 'موٹیویٹڈ' کھلاڑی کسی بھِی ٹیم کا ہو ایک آک داؤ تماشائیوں کو ضرور لگا جاتا ہے۔ یہ لیفٹ اور رائٹ کی وہ جاری فکری کشمکش ہے جس نے اکثر فعل ذہنوں میں نظریاتی تقسیم کی ایک گہری لکیر ڈال رکھی ہے۔ بیانیوں کی اس رسہ کشی میں برتری کا راز کئی بظاہر غیر متعلقہ عوامل پر منحصر ہے جیسا کہ ملک پر اس وقت کس مکتبہ فکر کی حکمرانی ہے؟ حاکم وقت کو سگار اور سگ نوازی کا شوق ہے یا محض ٹوپی سے کام چلاتا ہے؟ یا کہ بین الاقوامی حالات کی مناسبت سے اس وقت کونسی تبدیلی کا جھنڈا لہرانا برکت کا باعث ہوگا؟ اس ہی سوال کاضمنی حصہ کہ افغانستان میں امریکیوں کا قیام ہے یا روسیوں کا؟ ان سوالات کے جوابات کی روشنی اور وقت کی نظریہ ضروریات کے حساب سے پرائم ٹائم پر کبھی 'انکل سام' کے تعاون سے ان روشن خیالوں کا بول بالا ہوتا ہے جو کبھِی سرخ نواز تھے تو کبھی اس ہی ٹائم سلاٹ پر مجلسیس متحدہ طور پر عمل میں آجاتی ہیں۔

اس نظریاتی تقسیم کے عالمی کارپوریٹ لیول سے اگر نیچے اتر کر اس کارپوریشن کی افرادی سطح کا جائزہ لیں تو بحیثیت ایک بے نظریہ شخص کے حالات آپ کے لیے مزید سخت ہیں۔ درجہ اول کے نظریاتی تو شاید آپ کا وجود اس روئے زمیں پر برداشت کرلیں لیکن دوسری سطح پر پائے جانے والے رہنماء و کارکنان کا مشن کلام دشنام اور حسب موقع و دستور ڈنڈے کے استعمال کے ذریعے آپ کی فکری تطہیر ہے۔

یہ وہ مقام خاص ہے جہاں بقول ایک سابق وفاقی وزیر کے غلیل کے سامنے دلیل کا استعمال صرف مزید ذلیل ہی کروانے کا سبب بنتا ہے۔ آپ لاکھ اس کشمکش سے جان چھڑوانے کی کوشش کریں یہ پر اتنا ہی گلے کا ڈھول بنتی جاتی ہے۔ اب صورتحال اس نہج پر مستحکم ہے کے قریبی احباب میں سے جو حضرات مروجہ روشن خیالی کے علمبردار ہیں وہ عاجز کواس کے بنیادی مذہبی عقائد اور جمعہ کے جمعہ مسجد میں حاضری کے باعث پکا مولوی قرار دے کر داعش کے اغراض و مقاصد کا چلتا پھرتا اشتہارقرار دیتے ہیں جبکہ حلقہ یاراں ہی کے بستہ الف کے نیکوکاروں کے مطابق سنجیدہ معاملات پر سوال و مخول کرنے کی اپنی گھٹیا عادت کے باعث راقم کب کا دوزخی ثابت ہوچکا ہے۔

دونوں گروہ آپ کی سہولت کے لیے آپ کی اپنی رائے و موقف سے قطع نظر آپ کی دین و دنیا کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ لمحوں میں کرڈالنے کی منفرد خوبی رکھتے ہیں۔ کسی جید روشن خیال سے اختلاف رائے کا اظہارکریں تو وہ حقارت آمیز انداز میں مسکراتے ہوئے آپکو آپ کی نسلوں سمیت جنگلی، جاہل و غیر مہذب کا لقب دیتا ہے۔ صالحین کے گروہ کسی کو ٹوکے جانے کا نتیجہ جائے وقوع ہی پر فی الفور جہنم کی آگ کی بشارت کی صورت میں نکلتا ہے۔

سرخ و سبز(اب تو ماشاء اللہ ست رنگی جھنڈا بھِی اس دوڑ میں شامل ہے) کی اس تقسیم کا خوابناک نظارہ شام سے رات گئے چینلوں کی سرفنگ کے دوران دوبالا ہوجاتا ہے۔ ہر جانب آپ کی دنیا اور آخرت کی بربادی کی نودیں سنائی جارہی ہوتی ہیں ۔ ایک حشر کا سا سماں ہوتا ہے۔ ایک طرف ایک صاحب خود پر ملحدانہ تدبر طاری کیے انسانی تاریخ کی تمام تر برائیوں کی جڑ مذہب کو قرار دے کر خدا کے وجود پر یقین رکھنے والے دنیا کے تمام اہل ایمان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک کر فرسودہ روایات کا غلام قرار دیتے ہوئے مذہب میں افیم کی مشابہت تلاش کررہے ہوتے ہیں (حالانکہ تاریخ گواہ ہے کسی بھی افیمی کو آج تک کسی مسجد میں نہیں دیکھا گیا۔ مسجد تو کیا افیم کی علت لگنے کے بعد سے اسے کہیں بھی نہیں دیکھا گیا) جبکہ دوسری جانب مذہبی چینل پر ایک نورانی چہرہ بزرگ جہنم کے ان درجوں کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں جو ان بد بختوں کے لیے مخصوص ہیں جن کے درزیوں کو ٹخنوں سے اوپر تک کے ڈیزائن کی شلواریں سینی نہیں آتیں۔ حضرت ساتھ ہی اس باریک بینی و تفصیل سے جہنم کی آب و ہوا، وہاں کے رہائشیوں کے مشاغل اور افتاد طبع کا نقشہ کھینچ رہے ہوتے ہیں کہ گویا ابھی ابھی بقلم خود وہیں سے وارد ہوئے ہیں۔

رائٹ اور لیفٹ کی تقسیم اور اس تقسیم کی کوکھ سے جنم لینے والی زہریلی بحث کے ستائے ہوؤں کی تعداد کو پیش نظر رکھیں اور ارد گرد پیدا ہونے والے نئے خیالات کے ارتعاش پر دھیان دیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ دو انتہاوں کے یہ ستائے بذات خود ایک گروہ کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں جن کی اساسی ترکیب میں دائیں اور بائیں بازو کے انتہائی نظریات سے بیزاری کے واضح اثرات ہیں۔ اندیشہ ہے کہ 'تنگ آمد بجنگ آمد' کے مترادف رائے کے اظہار کےکسی موزوں پلیٹ فارم کی غیرموجودگی اور فکری جھنجھلاہٹ کا شکار ہوکر کہیں یہ تماشائی اپنی الگ کبڈی شروع نہ کردیں ۔ خیال رہے مقابلہ دو میں ہو تو جھگڑا کہلاتا ہے تیسرے فریق کی شمولیت جھگڑے کو بلوے میں بدل دیتی ہے۔ فوڈفارتھاٹ!