مومن اور مسلمان - جاوید حسین آفریدی

یہ فرانس کی ایک سپر مارکیٹ تھی جس میں ایک نقاب پوش خاتون خریداری کر رہی تھیں۔ مطلوبہ اشیاء ٹوکری میں ڈالنے کے بعد جب وہ کاؤنٹر پر پہنچی تو وہاں چیونگ گم چباتی ایک نک چڑھی لڑکی کھڑی جو شکل و صورت سے عرب لگ رہی تھی۔ اس نے خونخوار نگاہوں سے نقابی لڑکی کو دیکھتا اور بڑبڑانے لگی۔ نقاب پوش خاتون نے کوئي جواب نہ دیا تو اس کی آواز اونچی ہونے لگی۔ "پہلے یہاں مسلمانوں کے مسائل کم ہیں کہ تم جیسی عورتیں انہیں مزید بڑھا دیتی ہیں۔ آخر سمجھتے کیوں نہیں کہ ہم یہاں صرف گھومنے پھرنے اور کمانے کے لیے آتے ہیں۔ اتنی ہی کامل مسلمان ہو تو جاؤ اپنے ملک میں، جو کرنا ہے وہاں خوشی سے کرو۔ یہاں تو ہمیں سکون سے رہنے دو"

خاتون یہ سب گفتگو آرام سے سن رہی تھیں۔ سامان اٹھانے سے قبل ادائیگی کرتے ہوئے انہوں نے چہرے سے نقاب ہٹایا تو یورپی نقوش والا چہرہ آشکار ہوگیا۔ "میں ایک فرانسیسی مسلمان ہوں، یہ میرا ملک ہے۔ یہاں اپنے ملک میں مشکلات برداشت کر رہی ہوں، صرف اپنے دین کے لیے۔ آپ مغرب کی ظاہری رونقوں سے متاثر ہونے کے بجائے دین اسلام پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ شاید یہ آپ جیسے ہی مسلمان ہیں جنہوں نے چند مراعات کی خاطر دین فروخت کردیا۔ میں جانتی ہوں اچھا راستہ کون سا ہے اور برا کون سا؟ اسلام کی حقیقت جانو، اصل حقیقت جانو! میں نے آدھی زندگی عیش و عشرت میں گزاری لیکن حقیقی خوشی نہيں ملی۔ یہ اطمینان اسلام کے دامن میں محسوس ہوا۔" اس کا چہرہ اور ایسے الفاظ لڑکی کے سر پر ہتھوڑے کی طرح برستے رہے اور جب وہ جانے لگی تو ایک ذہن کو دوراہے پر چھوڑ آئی۔

ایک طرف ایک مسلمان ہے جسے دین نسب میں ملا لیکن اسے اسلامی اقدار کی پروا نہیں جبکہ دوسری طرف وہ نو مسلم ہے جس نے مغرب میں رہتے ہوئے اسلام کی روشنی حاصل کی اور اس کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہوئی۔ وہ تمام طعنے اور مشکلات برداشت کرنے کو تیار ہے کیونکہ وہ اس حقیقت اور فرق کو جانتی ہے جو اسلام کے بغیر اور اسلام کے بعد ملا ہے۔ یہ فرق ہے مسلمان کا اور مومن کا۔

یہ بھی پڑھیں:   مغرب زدہ مظلوم مشرقی عورت - مومنہ خان

آج اس دور خانہ خراب میں ہم نے اسلام کے حوالے سے بھی معذرت خواہانہ رویہ اپنا لیا ہے۔ ہم اپنی ضروریات، بلکہ عیش و عشرت کے لیے اسلام پر کمپرومائز کرنے کوتیار ہیں۔ مغرب تو چھوڑیں، اب تو مشرق میں بھی اپنی دینی و مقامی اقدار کے حوالے سے احساس کمتری پایا جاتا ہے۔ نیک اعمال پر گناہ کا گمان اور بے غیرتی و بے حیائی پر فخر اس دور کا المیہ ہے۔

مسلمانوں نے دنیا پر حکمرانی تب کی جب وہ اسلام کی سنہری روایات پر عمل پیرا تھے۔ تب دنیا کی کوئی طاقت اسلام اور مسلمانوں کا راستہ نہیں روک پائی تھی۔ لیکن دین سے دوری ہی تھی جو ہمارے زوال کا سبب بنی اور آج اربوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود ہم پس رہے ہیں۔