آخرکہاں تک پھیلے گا بھگوا راج؟ غوث سیوانی

ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش پر قبضہ کے بعداب بی جے پی کا اگلا نشانہ کونسی ریاست ہے؟ کیا اسی سال ہونے والے گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابات میں بھی بھگواپرچم لہرائے گا؟ کیا اس کے بعد راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ پر اپنا قبضہ برقرار رکھتے ہوئے بی جے پی مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرل جیسی ریاستوں میں بھی اپنی قوت بڑھانے میں کامیاب ہوگی جہاں اس کا کبھی اثر نہیں رہا؟ ممکن ہے کچھ لوگوں کو محسوس ہوکہ ان ریاستوں میں بھاجپا کا کبھی اثر نہیں رہالہٰذا وہ کچھ خاص نہیں کرپائے گی تو انھیں آسام اورمنی پور کی مثال یاد رکھنی چاہئے کیونکہ نارتھ ایسٹ ہندوستان میں بھی اس کا اثر نہیں تھا مگر اب یہاں اس کی حکومت بن چکی ہے۔ فی الحال سنگھ پریوار کا سب سے زیادہ زور بنگال پر ہے، جہاں بی جے پی کے ووٹ بینک میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔

جہاں ایک طرف مغربی بنگال کو خاک وخون میں غلطاں کرنے کی فرقہ پرستوں کی طرف سے کوششیں جارہی ہیں، وہیں دوسری طرف ریاست کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی پوری قوت کے ساتھ ریاست کو ،تقسیم کرنے والی قوتوں سے، بچانے میں بھی مصروف ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ بھگوا پریوار کا اگلا نشانہ مغربی بنگال ہے جہاں کا معاشرہ رواداری، سیکولرازم اور قومی یکجہتی کا نمونہ رہا ہے۔مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے حال ہی میں کہاہے کہ صرف بنگال ہی ملک میں مذہب کے نام پر جاری عدم برداشت کے ماحول پر روک لگا سکتا ہے۔ممتا بنرجی نے کلکتہ میں گوتم بدھ جینتی کی تقریب کا آغاز کرتے ہوئے کہا، بنگال اپنے سیکولر معاشرے کے لئے جانا جاتا ہے، جہاں ہر مذہب کے لوگ برابری کے حق کے ساتھ اپنا تہوار مناتے ہیں۔ بنگال کی وزیر اعلی نے کہا، امن قائم کرنے کے لئے ہر شخص کو شراکت دینا ہوگا۔ ممتا کے اس بیان کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ ممتاکی پارٹی ترنمول کانگریس ایک مدت تک این ڈی اے کا حصہ رہی ہے اور انھوں نے بھی بنگال میں بی جے پی کو قدم جمانے میں مدد کی تھی۔ جن دنوں ترنمول کانگریس کے قیام کی تیاری چل رہی تھی راقم الحروف بھی بنگال کے سابق وزیراعلیٰ سدھارت شنکر رائے اور ان کے سابق پی اے اشفاق صاحب کے گھر پر کئی مٹینگوں میں شامل تھا ۔ ابتدا میں ممتابنرجی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی بات کو چھپائے ہوئے تھیں مگر جلد ہی وہ اصلیت پر آگئی تھیں اور ان کے رنگ بدلتے ہی ان کے کئی خیرخواہ ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ بہرحال یہ ہمارے ملک کی سیاست کی ستم ظریفی ہے کہ اقتدار اور ذاتی مفاد کے لئے صبح وشام سیاسی نظریے بدلتے رہتے ہیں لیکن قدرت کا قانون بھی ہے کہ ایک دن اپنا کیا سامنے آتا ہے اور اس وقت ممتا کے ساتھ بھی وہی ہورہا ہے۔ انھوں نے بنگال میں جس بی جے پی کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا تھا ، آج وہ انھیں کے اقتدار کے لئے خطرہ بن رہی ہے۔
بنگال پر سنگھ پریوار کی ٹیڑھی نظر
ماضی قریب میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جنھیں دیکھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں بنگال میں بھاجپا کی طاقت بڑھے گی اور ممتابنرجی تمام کوششوں کے باوجود یہاں بھگوا قوتوں کو پنپنے سے نہیں روک پائیں گی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے کچھ مہینوں میں یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے جس کا آغاز گزشتہ اپریل میں رام نومی کے جلوس سے ہوچکا ہے۔ آرایس ایس ،بی جے پی، وی ایچ پی اور دوسری سنگھی جماعتوں نے گزشتہ 5، اپریل کو جس طرح رام نومی کا جلوس نکالا اس نے ممتابنرجی کی نیند حرام کردی ہے۔ یہاں کے حالات پر نظر رکھنے والے محسوس کر رہے ہیں کہ بنگال کے پرامن ماحول میں نفرت کا زہر گھلنے لگا ہے اور اگر ممتابنرجی نے سختی اور حکمت عملی کے ساتھ حالات کا مقابلہ نہیں کیا تو نہ صرف ان کی حکومت جاسکتی ہے بلکہ بنگال میں فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوسکتے ہیں ۔رام نومی کے موقع پر بھگواجماعتوں نے تلواروں، کٹاروں، لاٹھیوں اور دوسرے ہتھیاروں کے ساتھ جو جلوس نکالا, اس نے ترنمول کانگریس سرکار کوپریشان کردیا ہے۔پوری ریاست میں اس قسم کی 150 سے زیادہ ریلیاں نکالی گئیں۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ ریلیاں پارٹی کے ہندوتو کے بنیادی نظریات کو مضبوط بنانے کے لئے نکالیں، وہیں ریاست کے اقتدار پر قابض ترنمول کانگریس کا خیال ہے کہ بی جے پی، لوگوں کو فرقہ وارانہ بنیاد پر، تقسیم کرناچاہتی ہے۔واضح ہوکہ ان میں سے کئی ریلیاں ،ایسے اضلاع میں نکالی گئی تھیں، جہاں فرقہ وارانہ کشیدگی کی تاریخ رہی ہے۔ دارالحکومت کولکتہ میں ہی کم سے کم 22 ریلیاں نکالی گئیں۔ پولیس ان ریلیوں کو لے کر خدشہ میں تھی پھر بھی کسی طرح کے تشدد کے واقعہ کی شکایت نہیں آئی ۔ ریلی میں شامل نوجوان ہاتھوں میں تلوار، چاقو اور کھمبے وغیرہ لئے ہوئے تھے۔ یہ نوجوان ’’جے شری رام‘‘ ’’جے بجرنگ بلی‘‘اور’’ ہر ہر مہادیو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔کچھ جگہوں پر پوسٹر بھی دکھے جن پر ایودھیا میں رام مندر بنانے کے عزم کا اظہار تھا۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی کے اسمبلی علاقے بھوانی پور میں تو بی جے پی حامی صبح نو بجے سے ہی جمع ہو گئے تھے، ان کے ہاتھوں میں ہتھیار بھی تھے۔ریاست کے درگاپورعلاقے میں آر ایس ایس کی درگا واہنی سے منسلک درجنوں لڑکیوں اور خواتین نے ہتھیاروں کے ساتھ ریلی نکالی، اسی طرح کھڑگپور، اسلامپور وغیرہ میں بھی ریلیوں میں شامل ہونے والوں کی تعداد اچھی خاصی تھی۔ اگرچہ کھڑگپور پولیس نے مغربی بنگال ریاستی بی جے پی صدر دلیپ گھوش کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے مگر صرف مقدمے یا گرفتاری سے یہ بلا نہیں ٹالی جاسکتی۔ گھوش پر رام نومی کے موقع پر ہتھیاروں کے ساتھ ریلی نکالنے کا الزام ہے۔ اس واقعہ کی از خود نوٹس لیتے ہوئے مغربی مدناپور ضلع پولیس نے کارروائی کی۔ پولیس نے گھوش اور ان کے حامیوں کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت کیس درج کیا ۔ دلیپ گھوش نے جلوس سے ایک دن قبل کہا تھاکہ بھگوان رام کے پاس تیر کمان ہوتا تھا تو ان کی پوجا خالی ہاتھ کیسے ہو سکتی ہے؟ جب محرم منایا جاتا ہے تو لوگ پولرائزیشن کی بات نہیں کرتے، جب عید اور کرسمس منایا جاتا ہے تو پولرائزیشن کی بات نہیں ہوتی لیکن رام نومی منانے پر کہتے ہیں کہ پولرائزیشن ہو رہا ہے۔ اگر رام نومی سے پولرائزیشن ہوتا ہے تو ہونے دو،ہم اسے منائیں گے۔ سنگھ پریوار کی ریلیوں کے جواب میں ممتا نے کہا تھا کہ، کچھ بی جے پی لیڈر، جو بنگالی ثقافت کو نہیں جانتے، انہوں نے خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لئے تلواروں کے ساتھ ریلی نکالی۔ بنگالی ثقافت وہ نہیں جو بی جے پی کر رہی ہے۔ وہ سیاست کے لئے مذہب کا استعمال کر ر ہی ہے۔
بنگال پر سنگھ کا دھاوا
بہرحال یہ ممتادیدی کے لئے ایک بری خبر ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کی تیاری کے تحت پارٹی، مغربی بنگال پر اپنا فوکس رکھے گی اور سینئر نیتاؤں کی فوج اتارے گی۔پارٹی اس مہم کے تحت ان ریاستوں پر نظریں جمائے ہوئے ہے، جہاں 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ا سے زیادہ سیٹیں نہیں ملی تھیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت، آنے والے دنوں میں، مرکزی وزراء سمیت پارٹی کے درجنوں سینئر لیڈران، مغربی بنگال کا دورہ کریں گے۔ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ،دیدی کے لئے خوش آئند نہیں ہے۔آزادذرائع بھی محسوس کر رہے ہیں کہ بنگال میں بھگواقوتوں کے اثرات میں اضافہ ہورہاہے اور اس کے لئے سنگھ پریوار کی کوششیں ہی نہیں بلکہ ممتابنرجی کے کچھ فیصلے بھی ذمہ دار ہیں۔ مثال کے طور پر ٹیپوسلطان مسجد کے امام مولانا نورالرحمٰن برکتی نے پچھلے دنوں کئی اول جلول بیان دیئے مگر حکومت کی طرف سے ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی اور بی جے پی وبھگوا نواز ٹی وی چینلوں نے اس بہانے ممتابنرجی پر مسلمانوں کی چاپلوسی کا الزام لگایا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی باتیں عام ہندووں کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرتی ہیں اور بی جے پی کا ووٹ بینک مضبوط کرتی ہیں۔
بنگال پر قبضہ کا بلیوپرنٹ تیار
گزشتہ دنوں تمل ناڈو میں آرایس ایس کے ایوان نمائندگان کی مٹینگ ہوئی جس میں بنگال پر قبضہ کے لئے بلیوپرنٹ تیار کیا گیا۔ کل ہند ایوان نمائندگان کی میٹنگ میں منظور تجویز میں مغربی بنگال کاخاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ریاست میں ہندو آبادی 1951 میں ریاست کی کل آبادی کا 78.45 فیصد تھی جو 2011 کی مردم شماری کے مطابق گھٹ کر 70.54 فیصد رہ گئی ہے۔ اسے سنگین خطرے کی گھنٹی بتایا گیا ۔ مغربی بنگال میں جہادی عناصر کی طرف سے تشدد کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور وہاں کی حکومت سے ہندوؤں کو تحفظ فراہم کرنے اور مرکز سے ان کے تحفظ کی نگرانی کی اپیل کی گئی۔واضح ہوکہ تمل ناڈو کے کوئمبٹور میں آر ایس ایس کے ایوان نمائندگان کی میٹنگ 19 سے 21 مارچ تک ہوئی۔ آرایس ایس کے ایک پرچارک کا کہنا ہے کہ بنگال میں عام ہندو تشدد کا شکار ہو رہا ہے۔ ریاست کی ترنمول کانگریس حکومت، اسے روکنے میں اب تک مکمل طور ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ایسے میں سنگھ اب مغربی بنگال پر توجہ مرکوز کریگا۔ ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سنگھ ،مغربی بنگال میں ہندوؤں کے خلاف جاری مبینہ تشدد کا مسئلہ اٹھا رہا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں حیدرآباد میں ہوئی سنگھ کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں بھی اس پر ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ اس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مغربی بنگال میں ہندوؤں کے خلاف جہادی تنظیموں کے تشدد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کو بھی اس سلسلے میں میمو رنڈم دیا گیاتھا، لیکن جیسا کہ آر ایس ایس عہدیدار کہتے ہیں، اب تک تشدد کے معاملات میں کمی نہیں آئی ہے۔ اس لئے نئی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
ترنمول لیڈروں کے خلاف کاروائی
بنگال میں ممتابنرجی مسلمانوں کے لئے تھوڑا بہت کام کرتی ہیں مگراس سے زیادہ مسلم نوازی کا پرچار کرتی ہیں، جس کے سبب بی جے پی کو’’ مسلم چاپلوسی‘‘ کے خلاف پرچار کا موقع مل جاتا ہے۔ مولانا نور الرحمن برکتی جیسے لوگ بھی اپنے احمقانہ بیانات سے آرایس ایس وغیرہ کے لئے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وہیں اکنامک ٹائمز کی ایک خبر بتاتی ہے کہ بی جے پی اب مغربی بنگال حکومت کے خلاف مورچہ کھولنے جا رہی ہے۔ اس کے لئے اپنے رسوخ اور طاقت کا استعمال کر مرکزی حکومت ان گھوٹالوں کی تحقیقات میں تیزی لائے گی، جن کے تار مغربی بنگال اور ترنمول کانگریس سے جڑتے ہیں جیسے کہ ساردا گھوٹالہ، نارد اسٹنگ اسکینڈل، روز ویلی چٹ فنڈ گھوٹالہ وغیرہ۔ نارد اسٹنگ اسکینڈل میں تو کلکتہ ہائی کورٹ نے بھی بی جے پی کو موقع دے دیا ہے۔ہائی کورٹ نے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی ہے۔ ان گھوٹالوں میں سبرت مکھرجی، سدیپ بندوپادھیائے، مکل رائے، سلطان احمد جیسے ترنمول کانگریس کے کئی بڑے لیڈر پھنسے ہوئے ہیں۔ بہرحال جس وقت کانگریس سورہی ہے، سماجوادی پارٹی خانہ جنگی میں مصروف ہے، بی ایس پی سکتے میں ہے،کمیونسٹوں کا وجود خاتمے کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسے وقت میں بی جے پی اور آرایس ایس 2019 کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ان ریاستوں میں اپنی دخل بنانے میں مصروف ہیں جہاں ان کی قوت کم ہے۔