تین واقعات پر ردعمل – ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

1. پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے جو کہا وہ انہیں نہیں کہنا چاہیے تھا. مجھے امید ہے خود انھیں بھی اس بات کا احساس ضرور ہوا ہوگا. جتنا یہ مسئلہ فیس بک و سوشل میڈیا پر ڈسکس ہوا، اور جس شد و مد سے ہوا، اس نے یقیناً پروفیسر صاحب کو یہ باور کروا دیا ہوگا کہ وہ کوئی عام شخصیت نہیں. اس حوالے سے انھیں الفاظ کے انتخاب میں مزید محتاط رہنا چاہیے. جذبات بھی تقریر کا اہم حصہ ہوتے ہیں لیکن ان کا اظہار موقع اور اپنی شخصیت کی مناسبت سے ہونا چاہیے.

اگر وہ اپنے کہے پر معذرت کر لیں گے تو اپنا قد اور بڑھا لیں گے.. ورنہ پھر قوم درگزر سے کام لے اور آگے بڑھ جائے. آخر الذکر صورت میں درگزر کرنا ہے، فراموش نہیں!

2. پی آئی اے کے جہاز میں ہیروئن پکڑی گئی. ہیروئن تلاش کرنے والوں سے زیادہ اس کی اطلاع دینے والے کی ثقاہت کی داد دینا بنتا ہے. جس طرح جہاز ادھیڑ کر چپہ چپہ تلاش کیا گیا. سردار بے انت سنگھ والا لطیفہ یاد آ گیا. اوئے ڈھونڈو، آنکھیں کھول کر، ملے گی کیسے نہیں ؟ وہیں ہے، میں نے خود چھپائی ہے.

بظاہر . ہیروئن اسمگل کرنے سے زیادہ پکڑوانے کی نیت سے چھپائی گئی تھی.

بہرحال سٹوڈنٹ یونینوں کو بحال کروانے کے شوقین پہلے پی آئی اے کی یونینوں سے تو نمٹ لیں. یہ کینسر بن کر کھا گئیں اس ائیرلائن کو. اب دعا کریں پی آئی اے کی پروازیں بند نہ ہو جائیں یو کے اور یورپ کے لیے. پری ڈیپارچر چیکنگ تو سخت کرنا ہی پڑے گی. ہو سکتا ہے اس کے لیے گورے خود ہی تشریف لے آئیں.

3. ڈان والوں نے سی پیک ’’لِیکس‘‘ چھاپ دیں.

چلو اچھا ہوا. لگے ہاتھوں اس سے کئی فائدے ہو گئے. مثلاً، ڈان نے اپنی پوزیشن کلئیر کر لی. ہمارا کام تو خبر چھاپنا ہے، جہاں سے ملے گی چھاپ دیں گے. پہلے فوج کے خلاف تھی تو اب حکومت کے خلاف. یہ محض اتفاق ہے کہ دونوں مرتبہ اصل نقصان کا احتمال ملک ہی کو تھا. بہرحال اے پی این ایس کے لیے مضبوط گراؤنڈ بن گئی. آگے اور بھی آسانیاں ہو جائیں گی. اللہ اللہ خیر سلا !

یہ ردعمل دینا ہرگز ضروری نہیں تھا اور دنیا کے کوئی کام اس سے رکے نہیں ہوئے تھے، تاہم مفاد عامہ کے لیے جاری کیا گیا.

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

Protected by WP Anti Spam