پوتا چاہیے تو – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اس پر ہمیشہ میرا دل کڑھتا ہے کہ بچہ پیدا کرے تو زچگی کا درد سہے عورت،
بچے پیدا کرنے سے بچنا ہے تو فیملی پلاننگ کے لیے گنی پگ بنے عورت،
حمل ٹھہر گیا، ضائع کروانے کے لیے تکلیف اٹھائے تو بھی عورت،
ابارشن کروا کر خدا کی بھی مجرم قانون کی بھی مجرم اور ذہنی عذاب سہے عورت،
بچہ نہیں ہو رہا تو قصور وار کون؟ پھر وہی عورت.

ہند و پاک معاشرے میں بانجھ کا لقب عورت کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے جو کہ قطعی غلط ہے، اگر مرد بانجھ ہو تب بھی معاشرے کو یہی بتایا جائے گا کہ عورت بانجھ ہے اور مرد اس کی محبت میں دوسری شادی نہیں کر رہا. اس کیس میں بھی عظمت کا تاج مرد کے سر پر سجا دیا جاتا ہے
اگر بانجھ مرد مزید شادی بھی کر لے تب بھی تشخیص اور علاج کے نام پر عموما قربانی کا جانور عورت کو ہی بنا دیا جاتا ہے.

اور سب سے مزیدار لطیفہ ”دبئی انفرٹیلیٹی سنڈروم“ ہے. شوہر شادی کے دس پندرہ روز بعد جاب کے لیے بیرون ملک (مثلا دبئی) چلا جاتا ہے. بہو سسرال میں اجنبی رشتوں میں دن گزار رہی ہوتی ہے. شوہر کو کبھی ویزہ نہیں ملتا تو کبھی ملک کا چکر لگانے کے لیے رقم کا انتظام نہیں اور کبھی نوکری سے رخصت نہیں. اس دوران شوہر مرد ہونے کی وجہ سے کم از کم ایک امتحان سے بچا رہتا ہے. یعنی ”اتنے سال گزر گئے بچہ نہیں ہوا؟“. بہو، سسرال اور معاشرہ شادی کے سال گنتے ہیں جبکہ شادی وہی شروع کے دس پندرہ دن رہی جو دعوتوں میں گزر گئے. حمل ٹھہر گیا تو عورت بخشی گئی. حمل نہیں ٹھہرا تو ایک ایسے کولہو میں پلوا دی جائے گی جس سے اس کی امنگوں کا تیل نکلے تو نکلے، بچہ کہاں سے آئے.

جب بھی ایسی خاتون اپنی ساس کے ساتھ حمل کے لیے دوا لینے آتی ہے تو سب سے پہلے میں ساس کو باکردار صابر بہو ملنے کی مبارک دیتی ہوں، پھر شوہر اور بیوی کے ساتھ رہنے کا وقت گنتی ہوں. جو عموما ایک سال کے وقفے سے پندرہ دن یا دو سال کے وقفے کے بعد دو یا تین ماہ کا ہوتا ہے. شادی کا عرصہ سالوں پر محیط ہو تب بھی حمل ٹھہرنے کا ممکنہ وقفہ ان گنے چنے دنوں پر محیط ہوتا ہے جو معاشرے اور سماج سے چرا کر میاں بیوی ساتھ گزار لیتے ہیں.

عورت کے تولیدی نظام کا سیٹ اپ ایسا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کے درمیانی 28 سے 30 روز میں سے کسی ایک دن انڈہ خارج ہوتا ہے. یہ دن عموما اگلی ممکنہ تاریخ سے ٹھیک چودہ دن پہلے ہوتا ہے. یہ انڈہ بارہ سے چوبیس گھنٹے کے لیے نظام تولید میں زندہ رہتا ہے جس کے بعد یہ گر جاتا/ضائع ہو جاتا ہے. اگر کسی بھی وجہ سے ان چوبیس گھنٹے میں زوجین کے مابین دوری قائم رہے تو باقی تمام ماہ میں حمل ہونے کا امکان تقریبا نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے. ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ”صرف ایک مکمل دن“ جو حمل کے لیے موزوں ہے اسے ذہن میں رکھیں تو عورت کے حساب سے ایک سال میں صرف بارہ دن حمل کے لیے موزوں ہوتے ہیں.

مرد کے تولیدی جراثیم زنانہ نظام تولید میں چند منٹ سے لے کر پانچ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں.

: Most sperm die within minutes after ejaculation inside the v….a or outside the woman’s genital tract. Once sperm enter the woman’s genital tract, the cervix and uterus, most die within 1-2 days, but some can survive up to 5 days and thus the longest that sperm can survive in fertile cervical fluid or the uterus is five days. Studies have shown that most pregnancies can be attributed to intercourse that takes place within the 1-2 days before ovulation and the day of ovulation, but some pregnancies can happen after intercourse that happened up to 5 days before ovulation.
(http://www.babymed.com/info/what-is-the-sperm-life-and-how-long-do-sperm-survive)

اسی طرح خاتون کے انڈے خارج ہونے کے دن کو ہمیشہ سوفیصد درستگی سے بتانا ممکن نہیں ہوتا، سو اسے بھی احتیاطا ممکنہ دن سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد تک سمجھ لیجیے یعنی ان مخصوص 24 گھنٹوں کو مزید 48 گھنٹے کے حفاظتی حصار میں لے آئیے تاکہ حمل کا چانس مس نہ ہو.

اب ان مخصوص تواریخ میں حمل کا خواہشمند جوڑا کوئی پکنک یا دعوت قبول نہ کرے یعنی گھر پر رہے اور حمل کی خواہش نہ رکھنے والے زوجین ان مخصوص دنوں میں خاص پرہیز رکھیں. مردانہ جراثیم کی زنانہ نظام تولید میں 5 روز کی ممکنہ زندگی کے پیش نظر حمل کے لیے مفید تین روز سے بھی 5 دن کا فاصلہ دونوں طرف سے رکھیے
(http://americanpregnancy.org/getting-pregnant/fertility-window)

اس طرح کے بچاؤ سے زوجین میں سے ہر دو کا کسی بھی تکلیف دہ اور مضر صحت مانع حمل ادویات اور سرجریز سے بچاؤ ممکن ہے.

میں اپنی مریضہ کو ہمیشہ علاج کے آغاز میں ایک تین لفظی موٹو لکھ کر دیتی ہوں ”صبر، حوصلہ، تعاون“. ہر ماہ جب امید بندھ کر ٹوٹے تو ”صبر“ کیجیے. ”حوصلے“ سے کام لیتے ہوئے علاج جاری رکھیے اور ڈاکٹر سے دوران علاج مکمل ”تعاون“ کیجیے

وہ ساس جو اپنے پوتے کھلانے کی خواہشمند ہیں، وہ دل بڑا کریں . بیٹا آپ کا ہی ہے، بیوی پا کر ان شاءاللہ بدلے گا نہیں. پوتا چاہیے تو بہو کو شوہر کے پاس بھجوانے کا انتظام کریں، غیرضروری ٹیسٹس، علاج یا پیرو فقیروں کے تعویز گنڈوں سے اس نئے نویلے جوڑے کو بچائیں اور دعائیں سمیٹیں.

ہاں اگر ایک نیا شادی شدہ جوڑا ایک سال کا عرصہ بنا کسی دوری کے، ایک ساتھ گزارتا ہے اور حمل قرار نہیں پاتا، ایسی صورت میں اس کپل کے دونوں فریقین کو گائناکالوجسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے اور ”ابتدائی“ ضروری ٹیسٹس کروا لینے چاہییں. اگر دونوں کے ٹیسٹس درست آئیں تو کسی علاج اور ٹینشن کے بنا مزید ایک سال کا ہنی مون پیریڈ اور گزاریں. اس دوران اگر حمل نہیں ٹھہرتا تو اب وقت ہے کہ ”اسپیشلائزڈ“ ٹیسٹس کروائے جائیں. اور باقاعدہ تشخیص کے بعد متعلقہ کمی/کمزوری/بیماری کا علاج کیا جائے.

یاد رہے کہ میں یہ تمام ٹائم پیریڈ ایک نوجوان جوڑے کو ذہن میں رکھتے ہوئے بتا رہی ہوں. اگر فریقین میں سے ایک کی یا دونوں کی شادی لیٹ عمر میں ہوئی ہے یا دونوں فریقین میں سے کسی ایک یا دونوں کا اس شادی سے پہلے پچھلی شادی میں حمل ہونے یا نہ ہونے کا تجربہ موجود ہے یا آپ کے خاندان خصوصا بہن بھائیوں میں بانجھ پن موجود ہے تو ایسی صورت میں کپل کا وقت قیمتی ہے، اسے ضائع ہونے سے بچائیے. جلد سے جلد اسپیشلسٹ گائناکالوجسٹ سے رابطہ کیجیے.

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
ترے پيمانے ميں ہے ماہ تمام اے ساقی
(بالِ جبریل)

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

Protected by WP Anti Spam