کفن سے شانزہ طارق کی بہنوں کے معصوم سوال – حافظ یوسف سراج

وہ دمکتا تازہ گلاب تھا اور یہ بِن کھلے موتیے کی مہکتی کلیاں۔ مگر اب یہ پھول اور کلیاں گاؤں کے گھر میں بے دردی سے مسلے اور کچلے پڑے تھے۔ کوئی سانحے سا سانحہ گزر گیا تھا۔ گاؤں کی کوئی گلی اور گلی میں کھلتا کوئی دروازہ ایسا نہ تھا کہ جہاں یہ خبر پہنچی ہو تو کہرام نہ مچ گیا ہو اور آہوں اور سسکیوں کا طوفان نہ اٹھ گیا ہو۔ کیا پیارا باغ اجڑ گیا تھا اور کس طرح ایک پوری نسل قبر میں اتر گئی تھی۔ یہ سچ ہے کہ یہ اصلی پھول اور کلیاں نہیں تھے، اصلی سے مگر یہ کہیں زیادہ اصلی تھے۔ اتنے کہ فطرت کے کھلائے گل و لالہ بھی ان جیسے اصلی نہیں ہو سکتے تھے۔ یہ اتنے بیش قیمت تھے کہ اگر ہیرے کی پتیوں سے بناگلاب اور سونے کی بنی کلیاںب ھی ان کے مقابل آجاتیں تو شرما کے مرجھا جاتیں۔ پنجاب کے جنوبی شہر لیہ کے نواحی گاؤں کی ان بدقسمت پھول کلیوں کے نام تھے، طیبہ، تنزیلہ، شانزہ، صبا اور طیب۔ اب مگر نہ یہ طیب گلاب تھا اور نہ یہ طیبہ، تنزیلہ، شانزہ اور صبا ہی کلیاں رہی تھیں۔ بچپن کے کھلونوں کی طرح پاکیزہ دماغوں اور ننھی چڑیوں جیسے صاف دلوں والے یہ معصوم بچے اب بے روح اور بے پر پنچھی ہوگئے تھے۔ محض مردہ گوشت کے بے جان لاشے۔ بھوک سے بلبلا کے ہر صبح تڑکے اٹھ جانے والے یہ بچے اب کبھی نہ اٹھنے کے لیے قیامت کی لمبی نیند سو گئے تھے۔ اتنی گہری نیند کہ نہ شام کو کام سے آئے باپ کے استقبال کے لیے دروازے کی طرف دوڑ سکتے تھے، اور نہ اک ٹافی کے لیے بابا کے کندھوں سے جھول سکتے تھے اور نہ اپنی مما سے کسی بھائی بہن کی کوئی شکایت ہی لگا سکتے تھے۔ نہیں، یہ توکچھ ایسی گہری نیند سوگئے تھے کہ جینے کی خاطر اک سانس تک نہ لے سکتے تھے۔ بھلا کس کے ہاتھوں؟ اپنے ہی جنم دینے والے باپ طارق کے ہاتھوں! وہ کہ جس نے اپنے ہی جنمے اپنے ہی چار بچوں کو اپنے ہی ہاتھوں زہر پلا دیا، اپنے ہی ہاتھوں ان سب کا معصوم گلا دبا دیا اور پھر خود اپنی رگوں میں بھی زہر اتار لیا۔

یہ وہی آنکھوں کے تارے اور دل کے دلارے ہمارے بچوں جیسے بچے تھے کہ جن کے لیے والدین عمر کی ساری آرزوئیں اور جسم کی ساری ضرورتیں ہی نہیں، کبھی اپنے گردے تک بیچ کر ان کے بےڈھب کھلونے اور رنگین کپڑے خرید لاتے ہیں۔ اب مگر یہ کچھ بھی نہ مانگتے تھے۔ نہ کھٹ مٹھاچورن، نہ پھیری والے کے زبان پر رکھتے ہی گھل جاتے رنگین لچھے اور نہ دانتوں میں کڑکڑاتا چاولوں سے بنا مقامی مرونڈا۔ قیامت کا شور مچا دیتے یہ بچے اب ہونٹ تک نہ ہلا سکتے تھے۔ اب یہ نہ باپ کے ساتھ باہر جانے کی ضد کرتے تھے اور نہ ممتا کو کچن میں گھسائے رکھنے کی فرمائش ہی کر سکتے تھے۔ اب یہ وہ بھی تو نہ تھے، کہ جن کے گال چوم کے ماں باپ جنت کی زندگی جی لیتے ہیں اور جن کا ریشمی بدن چھو کے وہ زندگی کے سب صدمے سہہ جاتے ہیں۔ زبان سے زیادہ بولتی ان کی تجسس بھری آنکھیں بھی بے نور ہو چکی تھیں۔ ان میں کوئی سوال تک نہ بچا تھا، ان کے چہرے کتنے شانت اور آسودہ ہو گئے تھے کہ ان پر نہ کوئی تشنگی تھی، نہ کوئی مانگ اور نہ کوئی مایوسی۔ نہ ان کی پیشانیوں پر بچپنے کی قوسِ قزح کا کوئی ایک رنگ ہی باقی بچا تھا، ان کے لبوں کی تازہ پنکھڑیوں کی تازگی پر موت پپڑیاں جما چکی تھی۔ اب یہاں نہ کوئی لفظ تھا، نہ کوئی مسکراہٹ، نہ درد، نہ سسکی اور نہ کوئی مطالبہ۔

ہیئر کلپوں میں باندھنے کے باوجود ہواؤں میں اڑتے رہتے ان کے بال اب انگلیاں پھیرنے سے بھی نہ لہرا تے تھے اور نہ باہم الجھتے تھے اورنہ ممتا کے گداز لمس کو مچلتے تھے۔ موت ان بچوں کے ریشمی بالوں کی جڑوں، خون بھرے ناخنوں کے کونوں، کچی انگلیوں کی پوروں، گودے جیسی ہڈیوں کے جوڑوں اور گلاب جیسے بدن سے جھانکتی نیلی رگوں تک میں سرایت کر چکی تھی۔

ہاں! ان آنکھوں میں ایک تصویر البتہ ضرور مجسم ہوگئی تھی۔ پکاسو کی شاہکار تصویروں سے زیادہ بولتی اور قیامت ڈھاتی اک لافانی تصویر، جسے نہ موت مٹا سکی نہ قبر ہی چھپا سکے گی۔ جس میں اک اور طرح کا درد بھرا ابلاغ تھا۔ حیرت بھرے معصوم سوال اٹھاتا اک اَن کہا ابلاغ! مرگئی آنکھوں میں کھنچ گئی اس تصویر کا درد باپ کی طرف اب بھی محبت اور مہربانی سے دیکھتا تھا۔ باپ کے ہاتھوں ابدی نیند سوجانے والی چھ سالہ صبا طارق، آٹھ سالہ شانزہ طارق، نو سالہ تنزیلہ طارق،گیارہ سالہ طیب طارق اور بارہ سالہ طیبہ طارق کی آنکھیں اپنے نیلے پڑ گئے گلے اور دھنسی آنکھوں کے باوجود اپنے باپ کو اپنا مجرم نہ مانتی تھیں۔ وہ چھوڑ جانے والی اپنی ماں سے بھی شکوہ نہ کرتی تھیں، کہ جس کی ممتا پانچ بچوں تک اسی باپ سے نباہ کرتی رہی اور پھر اپنی بیٹیوں کو مرنے کے لیے اور خود کسی اور کی ہونے کے لیے ہمیشہ کے لیے انھیں چھوڑ کر چلی گئی۔ وہ اپنے چچا اور چچی سے بھی کچھ نہ کہتی تھیں کہ ماں کے چھوڑ جانے کے بعد ان کا باپ انھیں جن کے گھر لے آیا تھا۔ اور جن کی شکایتیں سن سن کے ایک باپ کو اپنے ہی بچوں کو زہر پلا دینا پڑا تھا۔ وہ تو بس بچوں والوں سے اتنا سا کہتی تھیں، کہ دیکھو اپنے بچے زندہ رکھنا ہیں تو بچوں کی لڑائی پر خود اتنا نہ الجھ پڑنا کہ پھر کوئی باپ اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی پانچ بچوں کی جان لے لے۔ وہ اپنے سماج کو اپنے باپ کا مجرم کہتی تھیں۔ جس نے اس کے باپ کو نفسیاتی درد تو دیے مگر جو اسے جینے کا دارو نہیں دے سکا۔ تصویر ہوگئی ان آنکھوں کو شکوہ بہت تھا، قبرستان ہو جانے والے اس گھر اور گلی سے، اس بستی اور بستی والوں سے، مقامی کونسلر اور ناظم اعلیٰ سے، علاقے کے ایم پی اے اور ایم این اے حضورِ والا سے، وہاں کی سماجی و مذہبی جماعتوں اور مسجد کے مولاناسے، مختاراں مائی کے نام پر اور فنڈز بٹورنے کو بنی دوسری این جی اوز سے، وفاق کے وزیراعظم اور پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سے، کہ حکومتوں اور بےحسی کے مرض میں مرتے یہ سارے لوگ، بھائی سمیت مرتی اپنی چار بیٹیوں کے حالات سے اتنے اندھے کیوں رہے؟ ان میں سے کوئی ایک بھی ان کے باپ کا درد سمجھ سکتا تو کیا وہ ان چار اَن کھلی کلیوں کو کفن اوڑھنے سے بچا نہ سکتاتھا؟ ان کے پاس مگر کسی مفلس و مظلوم اور درد کی جھیل میں ڈوبے کسی بے بس انسان کے لیے چند لمحے بھی نہیں ہوتے۔ ان معصوم آنکھوں کو میڈیا سے بھی شکوہ تھا، جو سوگ بھرے راگ بجا کر سماج کی بچیوں کے درد تب دکھاتا ہے، جب وہ مر جاتی ہیں اور پھر وہ اپنی سیاستوں کو لوٹ جاتا ہے۔ جو سوائے اجتماعی موت مرنے کے غریب کے درد کو کبھی ہیڈ لائن اور شہ سرخی نہیں بناتا۔ چپاتی گول نہ بنانے، کھانا لیٹ کر دینے، اونچی آوازمیں بول پڑنے جیسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر طلاق کی جدائی سے بچوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دینے والے والدین کو بھی یہ آنکھیں کچھ کہتی تھیں کہ اگر اپنی بچیوں کو بچانا ہے تو ہماری لاشوں کو عبرت سے دیکھو اور اپنے غیر انسانی رویے چھوڑ کر اپنے بچے بچا لو۔ وہ عالمی درد چنتی تنظیموں سے کہتی تھیں کہ تم فلسطین، کشمیر اور درد میں ڈوبے دوسرے مظلوم بچوں پر بھی ضرور ہی رو لو، پر ایسے بچے تمھارے پڑوس میں بھی مر سکتے ہیں، یہ مت بھولو۔

آہ! یہ بچے بھی مگر کتنے بھولے اور یہ آنکھیں بھی مگر کتنی معصوم تھیں، جو سمجھتی تھیں شاید ہم بڑے یہ سب نہیں سمجھتے۔ وہ یہ نہ جانتی تھیں کہ ہم سب جانتے ہیں پر اپنی بچیاں بچانا نہیں جانتے، ہماری اولیں ترجیح ہمارے بچے اور ان کا مستقبل نہیں، جھوٹے چھوٹے اقتدار اور ادنیٰ مفاد ہیں ۔ہم وہ لوگ ہیں جو پل، سڑکیں اور میٹرو بناتے ہیں اور اپنی عافیاؤں کو، اپنی ارفع کریموں کو اور اپنی ملالہ یوسفوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

Comments

FB Login Required

حافظ یوسف سراج

گمنام قبیلے کا اک گمنام فرد ہوں. قلم پکڑنا سیکھتا ہوں پر گاہ اس سے اپنا اور گاہ دوسروں کا سر قلم کر بیٹھتا ہوں. سو تادیر نادم اور ناشاد رہتا ہوں. ہاں تہمت کچھ 'نئی بات' اور 'پاکستان' کا کالم نگار اور پیغام ٹی وی کا ریسرچ ہیڈ ہونے کی بھی ہے. باقی میرا اثاثہ اور تعارف میرے احباب ہیں.

Protected by WP Anti Spam