کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ہوئی ہے؟ آصف محمود

کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکامی اور نااہلی کا دیوان ہے؟ مروجہ فکری بیانیہ اس کا جواب اثبات میں دیتا ہے لیکن آدمی تحقیق، تنقید اور جستجو سے واجبی سا بھی واسطہ رکھتا ہو تو اس کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ اس سوال کا اثبات میں جواب دے سکے۔

سچ تو یہ ہے کہ فکر و دانش کی دنیا میں یہ ایک واردات ہے جو ہم پر بیت گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہر لحظہ ہم خود کو ملعون کرتے رہتے ہیں اور ہر لمحہ اپنی ریاست کو کٹہرے میں کھڑا کیے رکھتے ہیں۔ ملامتی دانش نے ہمارے ہاں وہ رنگ جمایا کہ نئی نسل خود کو قریب قریب مجرم سمجھنا شروع ہو گئی۔ یہ بات اس کے لاشعور میں بیٹھ گئی کہ ہماری تاریخ نااہلی، ناکامی اور نامرادی کی تاریخ ہے۔ ہم نے صرف غلطیاں ہی کیں۔ ہر مسئلے کی وجہ ہم ہیں۔ ہر خرابی ہماری وجہ سے پیدا ہوئی۔ چنانچہ آج کوئی ملک ہم سے دوستانہ رکھتا ہے تو یہ اس کی عنایت اور مہربانی ہے ورنہ ہم تو اس قابل نہ تھے اور کوئی ملک ہم سے الجھتا ہے تو اس کی وجہ ہماری غلط پالیسیاں ہیں۔

اس مایوس اور بیمار بیانیے نے ہمارے لوگوں سے ان کا اعتماد اور بانکپن چھین لیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس بیمار بیانیے کو چیلنج کیا جائے اور ایک پاکستانی کے طور پر سر اٹھا کر پورے اعتماد سے کہا جائے کہ ہاں ہم سے غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن عشروں پہلے ہم نے خارجہ پالیسی کے جو ستون وضع کیے تھے، وہ سارے آج بھی قائم ہیں۔ درست کہ چیلنجز کا ایک طوفان بلا خیز تھا لیکن ایسا نہیں ہواکہ ہم ناکام ہو گئے ہوں۔

ذرا اپنی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیجیے۔ چین میں ایک غیر معمولی اجلاس ہو رہا ہے۔ 130 ممالک کے 1500 مندوبین اور 29 سربراہان حکومت و ریاست شریک ہیں لیکن بھارت شریک نہیں ہے۔ یہاں پاکستان شریک نہ ہوتا تو ملامتی دانش ایک طوفان اٹھا دیتی کہ ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہو گئی ہے۔ اب بھارت اپنی آگ میں جل رہا ہے اور ہم دنیا کے ساتھ مل کر معاشی امکانات کا جہان نو تلاش کرنے جا رہے ہیں تو اس کی تحسین کے بجائے ملامتی دانش چین کی دوستی پر سوال اٹھا رہی ہے۔ کوئی اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کا نام دے رہا ہے تو کسی کو لگ رہا ہے ہم نے ملک چین کے ہاتھوں بیچ دیا۔ دانش کا اگر یہی معیار ہے تو پھر ہمارا سب سے بڑا خیر خواہ تو بھارت ہوا جو ہمیں سی پیک کے آزار سے بچانے کے لیے جان توڑ کوششیں کر رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   چائنہ کے چینی - ابن فاضل

سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ یہاں یاروں نے گالی بنا دیا۔مت بھولیے یہی فیصلہ تھا جس کی آڑ میں آپ نے خود کو ایٹمی قوت بنا لیا اور امریکہ سب کچھ جانتے بوجھتے خاموش رہنے پر مجبور ہو گیا کیونکہ سوویت یونین کے خلاف اسے آپ کی مدد کی ضرورت تھی۔ کچھ اور اسلامی ممالک نے بھی ایٹمی قوت بننے کی کوشش کی تھی، ان کا انجام کیا ہوا؟ یہی فیصلہ تھا جس نے ہمیں افغانستان حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی پشتونستان تحریک کے عذاب سے بھی نجات دلائی۔ سٹریٹیجک ڈیپتھ کو مذاق بنانے والے حضرات یاد رکھیں افغانستان ہمارے لیے ’’گرے ایریا ‘‘ ہے، جہاں ہمیں دوستوں کی ضرورت رہتی ہے کیونکہ افغانستان کی کسی حکومت نے کبھی بھی ہماری سرحد کو تسلیم نہیں کیا۔

اس جنگ کے بعد آج ہم روس کے ساتھ بھی تعلقات بہتر کر چکے ہیں۔ کیا یہ غیر معمولی سفارتی کامیابی نہیں۔ یہاں بھارت ہوتا تو یاروں نے اس کی بصیرت کے قصے پڑھنے تھے کہ دیکھیے بھارت نے لڑائی بھی کی اور اب روس سے تعلقات بھی بنا لیے۔ لیکن ہماری ملامتی صحافت اس کامیابی کی تحسین کے بجائے طعنہ دے رہی ہے کہ پہلے تو اس سے لڑتے رہے کہ روس کو گرم پانیوں تک نہیں آنے دینا اور اب چین اور روس کو آرام سے گوادر تک رسائی دے دی۔ کیا ان حضرات کو یہ بھی سمجھانا پڑے گا کہ حملہ آور ہو کر گرم پانیوں پر قبضہ کرنے میں اور دوست کی طرح کسی معاہدے کے ذریعے پہنچنے میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ قبضہ گروپ آپ کے گھر پر قبضہ کر لے یا کسی کو آپ مہمان کے طورپر ٹھہرا لیں، کیا دونوں میں کوئی فرق نہیں؟

امریکہ ایک سپر پاور تھا۔ اس سے جنگ کی جاتی تو خود ملامتی دانش اسے حماقت قرار دیتی۔ لیکن ہم نے حکمت اور مصلحت سے کام لیا تو اس پر بزدلی کے طعنے کسے جاتے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس چلا گیا، یہ تو سب کو یاد ہے لیکن یہ کسی کو یاد نہیں کہ اس کی واپسی کے لیے امریکی صدر کی سطح کے آدمی کو مداخلت کرنا پڑی اور اس ایشو کی آڑ میں پاکستان نے بڑی حد تک بلیک واٹر نیٹ ورک کا بوریا بستر لپیٹ دیا۔ امریکہ جیسی طاقت سے معاملہ تصادم سے نہیں حکمت ہی سے ہونا تھا۔ وار آن ٹیرر میں اس کا ساتھ ضرور دیا لیکن ایسا نہیں کیا کہ خود سپردگی میں لٹیا ہی ڈبو دی ہو۔ ممکن حد سے بھی زیادہ اپنے مفادات کا پاکستان نے خیال رکھا۔ امریکہ کی آج آپ سے جو ناراضی ہے کبھی غور تو کیجیے کیا وجہ ہے۔ کیا آپ اسے خارجہ پالیسی کی ناکامی کہیں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   ہماری خارجہ پالیسی - چوہدری ذوالقرنین ہندل

ہم نے امریکہ سے بھی مکمل بگاڑ پیدا نہیں کیا، بڑی حد تک خطے میں اپنے مفادات کو بھی تحفظ دیا اور چین سے دوستی بھی برقرار رکھی۔ ایران اور سعودی عرب دونوں سے ہم نے تعلق خاطر برقرار رکھا۔ سعودیہ سے تعلق خاطر زیادہ سہی کہ یہ نیشن سٹیٹ کے مفاد کا تقاضا بھی تھا لیکن ایسا نہیں کہ ایران سے الجھاؤ ہو گیا ہو۔ مشرق وسطی کا فرقہ وارانہ الاؤ ہمارے ہاں نہیں بھڑک سکا حالانکہ خام مال بہت موجود ہے۔ کیا یہ سفارتی کامیابی نہیں؟

بھارت سے اپنا تعلق اور تقابل دیکھیے۔ آپ کا اس سے کیا مقابلہ۔ اس کا دفاعی بجٹ 40 اعشاریہ 7 بلین ڈالر اور ہمارا دفاعی بجٹ 7 اعشاریہ 8 بلین ڈالر۔ وہ دنیا میں اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار اور دفاعی اخراجات میں دنیا کا پانچواں بڑا ملک لیکن ہمیں آج تک تابع مہمل نہیں بنا سکا۔ اس نے جان توڑ کوشش کر لی کہ کسی طرح کشمیر کی تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دلوا لے لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے سفارتکار سر پیٹ رہے ہیں کہ پاکستان عسکری طور پر ہمارا ہم پلہ ہے نہ معاشی طور پر، لیکن ہر جگہ برابری سے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ سلامتی کونسل میں اس کی مستقل نشست کی راہ میں پاکستان حائل ہے۔ او آئی سی میں اس کی رکنیت کی راہ میں پاکستان کھڑا ہے۔ اوبامہ بھارت جاتے ہیں تو بھارت کو پہلے ہی سے بتا دیا جاتا ہے کہ کوئی صحافی امریکی صدر سے پاکستان کے بارے میں کوئی سوال نہیں کرے گا کیونکہ صدر اس کا جواب نہیں دیں گے۔ چنانچہ بھارتی صحافت کے دل کے ارمان دل میں رہ جاتے ہیں اور کوئی صحافی پاکستان کو چونچ نہیں مار سکتا۔ کیا یہ آپ کی خارجہ پالیسی کی کامیابی نہیں؟

بلاشبہ ہم سے غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی۔ یقینابہتری کی گنجائش بھی موجود ہے۔ لیکن پاکستان نے خارجہ پالیسی کے جو بنیادی اصول وضع کیے تھے ان سے انحراف نہیں کیا۔ ہم ناکام نہیں ہوئے۔ کل ہم نے ماؤں سے محبت کی تجدید کی، آج دھرتی ماں کی آواز کو سنیے، وہ ہم سے کہہ رہی ہے: تم سب پاکستانی ہو، پاکستان تمہارا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں