درزی - حجاب امتیاز علی

رات کے پون بجے جب شبی نے مجھے کسی درزی کی دکان پر چلنے پر اصرار کیا تو میں حیران ہو کر بولی ’’مگر اس وقت؟‘‘
’’ہاں ہاں اسی وقت روحی… عید کی مصروفیت کی وجہ سے آج کل دن کے وقت درزی نہیں ملتا۔ تم جلدی سے اپنی کار نکالو۔‘‘ شبی نے اصرار کیا۔
’’اچھا…‘‘ میں بادل نخواستہ مان گئی اور گیراج سے اپنی کار باہر نکال لائی۔
شبی گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں اپنے کپڑوں کا بنڈل ہاتھ میں لیے کار میں میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
کچھ دیر بعد کار چلاتے چلاتے میں نے پوچھا ’’میں اتنی رات گئے صرف تمہاری ضد پر نکلی ہوں۔ لاہور اتنا بھی محفوظ شہر نہیں ہے۔ تمہیں اپنے کپڑے لینے ہیں یا کسی درزی کی تلاش ہے؟‘‘
’’ارے بھئی درزی کی تلاش ہے۔ موزوں درزی نہیں مل رہا۔ عید کا زمانہ ہے، چلو جلدی چلو۔‘‘ اس نے کہا۔

جب ہم گھر سے نکلے تو باہر لوگوں کا ہجوم اُبلتے سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ عید کی خریداری کرنے لوگ یوں دیوانہ وار بازاروں کی طرف رواں دواں تھے جیسے عید پر پھر کبھی نہیں آئے گی۔ میں اور شبی درزی کی تلاش میں بڑی تیزی سے شہر کی طرف جا رہی تھیں۔ شاید کوئی ’خالی درزی‘ مل جائے تو شبی بھی اپنا لباس سلوا لے۔
شی بڑبڑا رہی تھی ’’دیکھو تو روحی، آج کل انسان کس طرح انسان ہی کے درپے آزار ہے۔ گاہکوں کو درزی نہیں ملتے اور لباس پہننے کی تاریخ سر پر آ جاتی ہے۔‘‘
میں ہنس پڑی اور بولی ’’یہ دنیا کا کوئی اتنا اہم مسئلہ نہیں شبی۔ جب میں سوچتی ہوں تو انسان کے سبھی مسائل مجھے ادھورے ہی نظر آتے ہیں۔ اور تم ایک درزی کے مسئلے کو اتنی اہمیت دے رہی ہو!‘‘
کپڑوں کی تھیلی پچھلی نشست پر پھینکتے ہوئے شبی کہنے لگی ’’ہر انسان کے لیے اپنا مسئلہ اہم ہوتا ہے روحی۔ تم جانتی ہو، دو دن سے میں درزیوں کی تلاش میں پر ماری ماری پھر رہی ہوں کہ خدا کے لیے مرا لباس سی دو۔ مجھے پرسوں پہننا ہے مگر کسی نے ہامی نہ بھری۔ کہنے لگے، چھ چھ مہینوں سے عید کے کپڑے سل رہے ہیں، اب نیا کپڑا نہیں لیا جا سکتا۔‘‘
میں نے کہا ’’ٹھیک تو کہتے ہیں۔ دیکھو اب تو عید سر پر آ گئی ہے۔‘‘
’’لیکن یہ لباس تو مجھے عید سے پہلے پہننا ہے۔‘‘
’’عید سے پہلے؟‘‘ میں نے ذرا تعجب سے پوچھا۔
’’ہاں…‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’مگر تم یہ بھی جانتی ہو کہ پاکستان میں عید کی تیاریاں تمام رات بلکہ سحر کی اذان تک ہوتی رہتی ہیں۔ درزی بے چارے نمازِ سحر کے وقت دو گھڑی کے لیے دکان بند کرتے اور پھر اپنے کام پر لگ جاتے ہیں۔ اب تم عید کے بعد ہی اپنا جوڑا سلوانا۔‘‘
وہ بھونچکا ہو کر مجھے دیکھنے لگی ’’عجیب باتیں کرتی ہو۔‘‘ یہ کہہ کر چپ ہوگئی۔ شہر کے درزیوں سے مایوس ہو کر اب ہم گلبرگ واپس جا رہی تھیں۔ شہر کا یہ حصہ نسبتاً پرسکون تھا۔ رات کا سناٹا اور تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں کسی انجانے خوف اور شبی درزی نہ ملنے سے سہمی ہوئی گھر کی طرف لوٹ رہی تھیں۔

اچانک سڑک کنارے کھڑے ایک بڑے تناور درخت پر سے ہولناک ’قوقو‘ کی صدا بلند ہوئی۔ اسے سن کر اسٹیرنگ پر میرے ہاتھ کانپ گئے۔
شبی کو بھی اس کا احساس ہو گیا۔ پریشان ہو کر کہنے لگی ’’سنا تم نے؟ رات کا پرندہ اچانک چیخ اُٹھا۔ خدا کی پناہ۔‘‘
میں بے حد خوف زدہ ہو کر کہنے لگی ’’شکر ہے پرندہ تھا، انسان نہیں۔ میں انسانوں سے کتراتی ہوں، پرندوں سے نہیں کہ یہ ظالم نہیں ہوتے۔‘‘
شبی کہنے لگی ’’اس قسم کے پرندے تو ایشیائی گرم راتوں میں چیختے رہتے ہیں۔‘‘
’’ہاں…‘‘ میں نے لرزاں آواز میں کہا ’’لیکن مجھ میں دوبارہ رات کے اس پرندے کی قوقو سننے کی ہمت نہیں۔ شبی! کچھ مخصوص سی آواز تھی۔‘‘
شبی کہنے لگی ’’روحی! کیا حرج ہے ذرا لبرٹی مارکیٹ کے درزیوں سے بھی پوچھ لیں۔‘‘
میں نے کار لبرٹی مارکیٹ کے آخری حصے کی طرف موڑ لی جہاں چند درزیوں کی دکانیں تھیں۔ جب کسی نے بھی ہامی نہ بھری تو ہم مایوس ہو کر لبرٹی مارکیٹ سے ملحق چھوٹے راستے سے گھر کی طرف چل پڑیں۔ ہم ہسپتال کے سامنے سے گزر ہی رہی تھیں کہ وہ مری کار کے آگے آ گیا۔ شاید وہ سڑک پار کرنا چاہتا تھا۔ اگر میں بڑی ہوش مندی سے بریک نہ لگاتی تو اس کا قیمہ ہو جاتا، مجھے بےحد غصہ آیا۔ کار ٹھہراتے ہوئے میں نے چیخ کر کہا ’’تم ہوش میں ہو؟‘‘
آدمی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی بغل میں ایک پوٹلی تھی جس سے کچھ سفید رنگ کے کپڑے باہر لٹک رہے تھے۔
شبی چیخ پڑی۔ ’’ٹھہرو روحی، ٹھہرو۔ شاید درزی ہو، اس کی بغل میں کپڑے ہیں۔‘‘
میں نے پھر کار سے گردن باہر نکال کر پوچھا ’’تم درزی ہو؟‘‘
’’ہاں…‘‘ اس نے اقرار کیا۔ مگر اس کی آواز میں پھنکار سی تھی، جیسے کوئی گلے کا مریض آہ بھر رہا ہو۔
شبی بے حد خوش ہوگئی، کہنے لگی ’’میں تمہاری بغل میں کپڑوں کا بنڈل دیکھ کر سمجھ گئی تھی۔‘‘
اب میری نظر دوبارہ درزی کے ادھ کھلے بنڈل پڑی۔ کچھ کپڑے باہر لٹک رہے تھے، وہ سفید رنگ کے عجیب بے ڈھنگے سے لمبے لمبے کپڑے تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے جھرجھری محسوس ہونے لگی۔
شبی درزی سے کہہ رہی تھی۔ ’’میرا ایک لباس سی دو گے؟‘‘
درزی نے پہلی دفعہ نظر اُٹھا کر ہم دونوں کو دیکھا۔ شاید سوچ رہا تھا کہ ضرورت مند کون ہے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ درزی کا رنگ دودھ کی طرح سفید ہے۔ وہ میانہ قد اور ادھیڑ عمر آدمی تھا۔ غور سے دیکھنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ اس کی آنکھوں کا رنگ بھی سفید ہے، سیاہی کہیں نام کو نظر نہ آئی۔ یا شاید مدھم روشنی میں آنکھ کی سیاہی چھپ گئی۔
بہرحال مجھے وہ اپنی سفید رنگت اور سفید آنکھوں کی وجہ سے انتہائی خوفناک لگا، لیکن میں شبی سے اس کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتی تھی۔ کیونکہ وہ اس وقت خلاف توقع درزی دستیاب ہونے پر بےحد خوش نظر آ رہی تھی۔ اس نے غالباً درزی کو غور سے دیکھا ہی نہیں۔ درزی کا لباس بھی مجھے اچھا نہ لگا۔ اس نے سفید رنگ کی عبا پہن رکھی تھی جو رات کی پراسرار ہواؤں میں متحرک تھی۔
شبی کہنے لگی ’’مگر یہ مقام تو کپڑے دکھانے اور ناپ دینے کا نہیں، میرے گھر آ جاؤ۔‘‘
’’ہاں… مجھے آنا ہی پڑے گا۔‘‘ درزی نے اپنی پست آواز میں کہا۔
جانے کیوں مجھے اس کے یہ الفاظ اور آواز بھی مایوس اور ناگوار لگی۔ بھلا اسے کیا مجبوری تھی کہ اسے آنا ہی پڑے گا؟ یہ کوئی چور ڈاکو یا جاسوس تو نہیں؟ میں سوچنے لگی۔ لیکن شبی یہ ساری باتیں نظرانداز کر رہی تھی اور خوش تھی کیونکہ اسے بمشکل ایک درزی دستیاب ہوا تھا۔
’’گھر کا پتا لکھ دوں؟‘‘ وہ اپنا دستی بٹوا کھولنے لگی تاکہ کاغذ اور پنسل نکال سکے۔
’’اس کی ضرورت نہیں۔‘‘ درزی کی آواز بہت مدھم پڑ گئی تھی۔ یہ جواب سن کر میں اور بھی بدگمان ہوگئی کہ ضرور یہ کوئی مشکوک آدمی ہے۔
شبی کو بھی شاید کچھ تعجب ہوا، پوچھنے لگی ’’تو پھر پہنچو گے کیسے؟‘‘
’’جہاں مجھے پہنچنا ہو، پہنچ جاتا ہوں۔‘‘ درزی کا یہ جواب بھی مجھے بڑا عجیب لگا۔ میرے شبہات یقین کے درجے پر جا پہنچے۔
’’کب آؤ گے؟‘‘ شبی نے سوال کیا۔
’’کل۔‘‘
’’کس وقت؟‘‘
’’اسی وقت۔‘‘
شبی حیران ہو کر کہنے لگی ’’اس وقت؟… مگر اس وقت تو رات کے دو بج رہے ہیں۔‘‘
’’اس سے پہلے مجھے فرصت نہیں اور یہی وقت ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ یو سی ایچ کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مارشا مما - اختر عباس

میں پریشان ہو کر بولی ’’تم نے اچھا نہ کیا شبی، جانے یہ کون تھا!‘‘
’’درزی تھا اور کون ہوتا؟‘‘ شبی چیں بجیں ہو کر بولی۔ پھر کہنے لگی ’’اس کی بغل میں کپڑوں کی گٹھڑی دیکھتے ہی میں سمجھ گئی تھی کہ درزی ہے۔‘‘
’’لیکن تم نے وہ کپڑے بھی دیکھے جو گٹھڑی کے باہر لٹک رہے تھے؟‘‘ میں نے کار چلاتے چلاتے پوچھا۔
’’نہیں تو… کیوں ان میں کیا خاص بات تھی؟‘‘ وہ پوچھنے لگی۔
’’سفید رنگ کے لمبے لمبے سے تھے اور اندھیری رات میں مجھے سفید کپڑا برا لگتا ہے شبی۔‘‘ میں نے کہا۔
وہ ذرا برا مان کر کہنے لگی ’’توبہ روحی، تمہاری نازک مزاجی نے آفت ڈھا رکھی ہے۔ تمہیں تو متاثر ہونے کا بہانہ چاہیے۔ موسیقی، شعر، رنگ کے سوا تمہیں کوئی چیز پسند نہیں آتی۔‘‘
’’اتنا مبالغہ نہ کرو شبی، مجھے اس کائنات کا سارا حسن پسند ہے۔‘‘ یہ کہہ کر میں چپ ہو گئی۔
اچانک کسی درخت پر رات کا ایشیائی پرندہ بول پڑا۔ ’’قو۔قو۔قو۔‘‘ ساتھ ہی میں نے کار کی رفتار تیز کر دی۔ رات کے سناٹے میں میرے لیے اس کی نامانوس پکار ناقابل برداشت تھی۔

وہ بے حد ویران اور اندھیری رات تھی۔ اندرون شہر، آنے والی عید کی تیاریاں اور ہنگامے جاری تھے، مگر شہر سے باہر گلبرگ حسب معمول خاموش اور کچھ زیادہ ہی پرسکون تھا۔ آسمان پر تارے بھی مجھے دم بخود معلوم ہو رہے تھے۔ ہوا بھی تھم کر چل رہی تھی۔ ہم گھر کی طرف رواں دواں تھیں۔ مجھے جیسے سانپ سونگھ گیا تھا، بالکل خاموش تھی۔
’’اب اتنی چپ کیوں ہو گئی ہو روحی؟ تمہیں تو ہر موضوع پر بات کرنے یا کوئی شعر سنانے کا مرض ہے۔ خدا کے لیے کوئی بات کرو، ہول آ رہا ہے تمہاری خاموشی اور رات کے سناٹے سے!‘‘ شبی نے بیزار بلکہ قدرے خفا ہو کر کہا۔
میں بولی۔ ’’ایک بات کہوں شبی؟‘‘
’’کہو کہو۔‘‘ شبی نے کہا۔
’’جو تمہارا درزی تھا نا… اس کی آنکھیں دودھ کی طرح سفید تھیں۔ مجھے تو اس کی آنکھوں پر سیاہی کہیں نظر نہیں آئی۔ وہ تمہارے کپڑے کیونکر سیے گا؟‘‘
شبی ذرا پریشان ہو گئی، کہنے لگی ’’کیا واقعی؟ میں نے غور ہی نہیں کیا۔ خیر کپڑے سینا اس کی ذمہ داری ہے۔‘‘
’’مگر اس کی آنکھیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
شبی اچانک خوفزدہ ہو کر کہنے لگی۔ ’’کیا واقعی اس کی آنکھیں ایسی تھیں جیسے تم کہہ رہی ہو؟‘‘
’’ہاں…‘‘ میں نے کہا ’’کم از کم میں نے سیاہی نہیں دیکھی۔‘‘ یہ کہتے ہوئے مجھ پر ذہنی انتشار طاری ہو گیا۔ ویسے بھی میں ایک بزدل عورت ہوں۔ جس چیز سے ڈرنا چاہیے، اس سے نہیں ڈرتی، جس سے نہیں ڈرنا چاہیے، اس سے خوف زدہ ہو جاتی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   قلم سے لکھ نہیں سکتا، میں زخمی دل کے افسانے - عینیہ عامر

گھر پہنچتے ہی میری بوڑھی حبشن خادمہ حسب عادت ناخوش لہجے میں بولی ’’رات گزر چکی ہے خاتون روحی، اور آپ دونوں درزی کی تلاش میں نکلی نکلی اب گھر پہنچی ہیں۔ کافی پئیں گی کہ چائے؟‘‘
’’کافی…‘‘ میں نے کہا
’’درزی مل گیا تھا خاتون شبی؟‘‘ خادمہ نے پوچھا۔
’’ہاں مل گیا تھا زوناش۔‘‘ شبی نے خوش ہو کر کہا۔ پھر کہنے لگی ’’دیکھو وہ کل رات دو بجے آئے گا‘ خیال رکھنا۔‘‘
زوناش یہ سن کر متوحش ہوگئی۔ ویسے بھی بات بات پر دعائیہ انداز میں آیات پڑھنا اس کی عادت تھی۔ ایک عربی دعا پڑھتے ہوئے وہ پوچھنے لگی:
’’دو بجے رات بی بی؟‘‘
’’ہاں ہاں کل دو بجے رات۔ اس کے پاس وقت نہیں ہے۔ گھنٹی کی آواز سنتے ہی دروازہ کھول دینا۔‘‘ شبی نے تاکید کی۔
زوناش خوف زدہ ہوگئی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
دوسرا دن نکل آیا اور اپنے وقت پر ختم ہو گیا۔ سورج حسب معمول اُفق تلے جا چھپا اور اندھیری رات بیتنے لگی۔
رات کے کوئی ڈیڑھ بجے شبی نے اچانک اپنی خواب گاہ کا دروازہ کھولا اور آواز دی:
’’زوناش زوناش! میرے سر میں درد ہو رہا ہے ’ایسپرو‘ کی گولی لے آؤ۔ پھر ذرا میرے پاس آ بیٹھو اور سر دبا دو۔‘‘
’’بہت اچھا بی بی۔‘‘ کہتے ہوئے خادمہ شبی کے کمرے میں چلی گئی۔ ذرا دیر بعد اس نے میری خواب گاہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ بدحواس ہو رہی تھی۔ کہنے لگی ’’خاتون شبی کے سر میں شدید درد ہے۔ مجھے تو ان کی حالت…‘‘
گھڑیال ٹن ٹن دو بجانے لگا۔ اچانک باہر کے صدر دروازے کی گھنٹی بج اُٹھی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے جا کر دروازہ کھول دیا۔ باہر سفید لباس میں ملبوس وہی پراسرار آدمی کھڑا تھا، مجھے دیکھتے ہی بول اُٹھا:
’’میں کفن سینے آ گیا ہوں۔‘‘
٭٭

Comments

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی: مدیر، مترجم، ادیب، اور کہانی کار۔ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے نائب مدیر رہ چکے ہیں ۔ شکاریات، مہم جوئی اور کمپیوٹرسائنس پر مبنی ان کی تحریریں ایک عرصہ تک اردو ڈائجسٹ کے صفحات کی زینت بنتی رہیں۔ بچوں کے ادب اور درسی کتب کی تحریر و ترتیب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں