”ماں ” ایک لفظ میں کل کائنات - قراۃ العین چوہدری

ماں، جس کی پیشانی پر نور، آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت، آغوش میں دنیا بھر کا سکون، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے۔

ماں کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ ایک ایسا سمندر جس کی گہرائیوں کا اندازہ بھی کرنا انسانی عقل سے بالاتر ہے۔ ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے۔

ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ خداوندکریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کے لیے ماں کو مثال بناتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کی پیشانی پر نور، آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت، آغوش میں دنیا بھر کا سکون، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے۔ ماں وہ ہے جس کو اک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے۔

"جب میں دنیا کے ہنگاموں سے تھک جاتی ہوں، اپنے اندر کے شور سے ڈر جاتی ہوں تو پھر میں اللہ کے آگے جھک جاتی ہوں یا پھر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کے جی بھر کے رو لیتی ہوں،" یہ فرمان تھا حضرت رابعہ بصری کا۔ ماں وہ ہستی ہے جسکا نعم البدل نہیں، ماں ایک گھنے درخت کی مانند ہے جو مصائب کی تپتی تیز دھوپ میں اپنے تمام بچوں کو اپنی مامتا کے ٹھنڈے سائے تلے چھپا کے رکھتی ہے جیسے ایک مرغی مصیبت کے وقت اپنے تمام چوزوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے یہ سوچ کرکے اسے چاہے کچھ بھی ہوجائے مگر اس کے بچے محفوظ رہیں۔ ایسی محبت صرف ایک ماں ہی دے سکتی ہے۔ ساری عمر بھی اس کے نام کی جائے تو بھی حق ادا نہ ہو، اسکی ایک رات کا بدلہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔

جہاں ماں کا ذکر آگیا سمجھ لینا چاہیے کہ ادب کا مقام آگیا۔ اللہ نے ماں کی ہستی کو یہ جان کر بنایا ہوگا کہ جب ایک ہارا ہوا انسان ناکامیوں کا سامنا کرکے تھک جائے تو ماں کی آغوش میں پناہ لے اور اپنے سارے رنج و الم، دُکھ اور غم ماں کو کہہ سنائے اور جب ماں پیار سے اسکی پیشانی چومے تو اس کی تمام پریشانیاں اور اندیشے ختم ہوجائیں۔ ماں اپنے اندر شفقت و رحمت کا ایک سمندر لیے ہوئے ہے جیسے ہی اپنی اولاد کو پریشانی میں مبتلا دیکھتی ہے ماں کا دل تڑپ اٹھتا ہے اس کے اندر موجود محبت کے سمندر کی لہریں ٹھاٹھیں مارنے لگتی ہیں اور تمام دکھ بہا کر دور بہت دور لے جاتی ہیں جس سے اولاد میں نئے سرے سے جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیچڑ میں کنول - محمد اقبال قریشی

بوعلی سینا نے کہا اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلیٰ مثال میں نے تب دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند ہی نہیں ہیں۔ جب بچہ ماں کے پاس ہوتا ہے تو ہر غم اس سے دور ہوتا ہے۔ ماں خود بھوکا رہ لے گی مگر اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گی۔ سرد راتوں میں جب اس کا بچہ بستر گیلا کردیتا ہے وہ ساری رات خود تو گیلی جگہ پر سوجائے گی لیکن اپنے بچے کو خشک جگہ پر سلائے گی۔ بچہ اگر گھر دیر سے پہنچے تو اس کی حالت ریت پر پڑی مچھلی کی مانند ہوجاتی ہے۔ ماں تو وہ ہستی ہے جس کا بچہ مرا ہوا بھی پیدا ہوجائے تو وہ اس غم سے باہر نہیں آپاتی۔ لیکن یہی بچہ نجانے کب بڑا ہوجاتا ہے اس کی رگوں میں خون کی تیزی ماں کے دل کو عجب تقویت بخشتی ہے۔ پھر ایک دن آتا ہے جب اس بچے کو دنیا سے محبت ہوجاتی ہے اسے ماں کی روک ٹوک چبھنے لگتی ہے اور وہ ماں کی نصیحتوں سے بیزار آجاتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مرتبہ اللہ تعالی سے پوچھا کہ جنت میں میرے ساتھ کون ہوگا؟ ارشاد ہوا فلاں قصاب ہوگا۔ آپ کچھ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے۔ وہاں دیکھا توایک قصاب اپنی دوکان میں گوشت بیچنے میں مصروف تھا۔ اپنا کاروبار ختم کرکے اس نے گوشت کا ایک ٹکڑا کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قصائی کے گھر کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بطور مہمان گھر چلنے کی اجازت چاہی۔ گھر پہنچ کر قصائی نے گوشت کو پکایا پھر روٹی پکا کر اس کے ٹکڑے شوربے میں نرم کئے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں ایک نہایت کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی۔

قصاب نے بمشکل اسے سہارا دے کر اٹھایا اور ایک لقمہ اس کے منہ میں دیتا رہا۔ جب اس نے کھانا تمام کیا تو بڑھیا کا منہ صاف کیا۔ بڑھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر قصاب مسکرایا اور بڑھیا کو واپس لٹا کر باہر آگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام جو یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں کیا کہا جس پر تو مسکرادیا؟ قصاب بولا ارے اجنبی! یہ عورت میری ماں ہے۔ گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں یہ روز خوش ہوکر مجھے دعا دیتی ہے کہ اللہ تجھے جنت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ رکھے گا جس پر میں مسکرا دیتا ہوں کہ بھلا میں کہاں اور موسی کلیم اللہ کہاں !

یہ بھی پڑھیں:   بھائی! مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں! سید معظم معین

ماں سے محبت کے اظہار کے لیے کسی ایک دن کو مختص نہیں کیا جاسکتا۔ سال میں ایک دن منالینے سے بات نہیں بنتی بلکہ اسلام میں تو ہر دن ہر لمحہ 'مدرز ڈے' ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں حیات ہیں۔ مگر افسوس مادیت ذدہ معاشرے نے خاندانی نظام کو بُری طرح متاثر کیا ہے جس سے والدین کی عزت رسمی ہوکر رہ گئی ہے۔ وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جت اور باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے الہی سے دامن چھڑاتا نظر آتا ہے۔ ماں باپ سے بدکلامی کرنے کو خدا نے سخت نا پسند کیا ہے یہاں تک کہ لفظ اف کو بھی خدا نے ماں باپ کی شان کے خلاف قراردیا ہے کیونکہ اس لفظ سے مزاج کے خراب ہونے کی بو آتی ہے۔

ماں ایک مہتاب کی مانند ہے۔ زمین پر خدا کی محبت کا چلتا پھرتا روپ ماں ہوتی ہے۔ ماں کی ڈانٹ میں بھی پیار اور بھلائی چھپی ہوتی ہے وہ کبھی دل سے نہیں ڈانٹتی۔ ماں کبھی کسی کو دل سے بددعا نہیں دیتی جس نے ماں کا دل دکھایا گویا وہ دنیا میں نامراد آیا اور نامرادہی آخرت کو لوٹا۔ اس ہستی کا مقام کل کائنات سے بھی بڑا ہے۔ دنیا جہان کی وسعتیں اس ہستی میں پوشیدہ ہیں۔ دنیا میں سجنے والی ہرمحفل کی روشنی اسکے پیار کے نور کے آگے ہیج ہے۔

اس وقت انسان اپنے آپ کو ایک بچے کی مانند محسوس کرتا ہے اور یہ یادیں انسان کو ماضی کے دریچوں میں لے جاتی ہیں۔ جب وہ ایک چھوٹا معصوم بچہ تھا جسے ماں اپنی آغوش میں لے کر اپنی مامتا کے آنچل میں ڈھانپ رکھتی تھی اور اب وہ ایک مختلف دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ بے شک رونے سے تزکیہ نفس ہوتا ہے، روح کی آلودگی ختم ہوتی ہے اور قلب کو سکون ملتا ہے۔ لیکن ماں باپ کی قدر انکی زندگی میں ہی کرلیں بعد میں بہائے جانے ولے آنسو دل کا بوجھ تو ہلکا کرسکتے ہیں مگر ضمیر مسلسل ملامت کرتا رہے گا۔ ماں باپ کی خدمت کریں انکے آگے خاموشی اختیار کریں۔ غصے میں صبر سے کام لیں۔ ماں باپ سے محبت خدا کی جانب سے فرض کی گئی ہے اور اِس کی توفیق بھی خدا ہی دے گا۔