مسیحا (1) – شہاب رشید

سینڑل جیل کا دروازہ کھلا اور قاسم بوجھل قدموں سے باہر نکلا۔ نیلے رنگ کا ایک تھیلا اس کے کندھوں پر تھا۔ قدم اٹھائے نہیں اٹھتے تھے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا، قیدیوں کی ایک بڑی تعداد اسے الوداع کہنے آئی تھی، اس نے سب کی طرف دیکھ کر ہاتھ کا اشارہ کرکے وداع کہا۔ سب قیدی اور جیلر اس کو نمناک مگر تحسین آمیز نگاہوں سے رخصت کر رہے تھے۔ اس کی وجہ شہرت تعلیم تھی، وہ تمام قیدیوں میں سب سے زیادہ پڑھا لکھا اور بہت سے قیدیوں کا استاد بھی تھا۔ اس نے قیدیوں کی بڑی تعداد کو میٹرک، ایف اے، بی اے اور ایم اے کی تعلیم دی تھی اور خود بھی جیل میں ایم فل ہی کیا تھا۔ وہ ذہین و فطین انسان تھا، منطق، دلیل، تعقل اس کا طرہ امتیاز تھا۔ جب بھی گفتگو کرتا علم و حکمت کے موتی و مونگے بکھیرتا۔ اسی لیے جیل کے سب قیدی اس کی عزت کرتے اور اس کو اپنا استاد مانتے تھے۔ آج 14 برس بعد قاسم جیل کے باہر کی دنیا دیکھ رہا تھا۔ یہ قید اس نے اس طرح کاٹی جیسے اس کے دل پرخار دار تار کا چھکو چڑھا دیاگیا ہو، جو دل کو ہر وقت زخمی کرتا رہے۔

جیل سے باہر اس کا انتظار کرنے والا کوئی نہ تھا، نہ ماں باپ نہ بہن بھائی۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھا اور ماں باپ کی یکے بعد دیگرے وفات کی خبر اس کو جیل میں ملی تھی۔ اس کا دل خالی تھا اور اس کے سامنے ایک سپاٹ مستقبل۔ اس کی نظر سڑک کنارے پڑے ادھ جلے سلگتے سگریٹ پر پڑی جس کو ابھی ابھی کسی نے موٹر کار سے باہر پیھنکا تھا۔ اس نے سگریٹ اٹھایا اور کچھ دیر اس کے سرے پر لگی آگ کو غور سے دیکھتا رہا پھر سگریٹ کو بجھا کر پاس ہی رکھی ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ سگریٹ کے دھوئیں کا گولا اس کے چہرے پر بادل کی طرح چھا گیا اور اس دھندلکے میں اس کو اپنی ماں کا چہرہ نظر آیا، جس سے وہ بے حدپیار کرتا تھا۔ ماں کی آواز اس کو صاف سنائی دے رہی تھی جو اس کے باپ سے کہہ رہی تھی دیکھ لینا ایک دن آئے گا ہمارا قاسم، آفتاب کی مانند چمکے گا، پورے عالم میں اس کا نام ہو گا، ہمارے بڑھاپے کی لاٹھی بنے گا، اللہ قاسم کے زریعے ہما رے سب دکھ درد دور کرے گا۔ اس کی آنکھیں بھر ا گئیں۔ ایسا لگتا تھا کہ سمندر کے پانیوں میں اتنے قطرے نہ تھے جتنے آنسو اس کی آنکھوں میں تھے۔

وہ بن منزل کے راہی کی طرح پاپیادہ لمبی سڑک کے کنارے چلا جا رہا تھا۔ دسمبر کی اس سردی میں اس کا پیرہن بالکل بھی اس کا ساتھ نہ دے رہا تھا۔ جیسے جیسے شام ڈھلتی جا رہی تھی اور سورج اپنی آخری جھلک دکھانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا، ہوا میں نمی بڑھتی جا رہی تھی، اوس سے بوجھل ہوا کے تھپیڑے جب اس کے جسم پر پڑتے تو سردی کی ایک لہر اس کے جسم میں سرائیت کر جاتی۔ اس نے اپنے بازو اپنی بغلوں میں داب لیے تھے۔

بھوک کی شدت سے جب چلتے چلتے بری طرح تھک گیا تو سڑک کنارے پڑے ایک بڑے سے پتھر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ دو شہروں کو ملانے والا پل اس کے سامنے تھا جس کے نیچے سے بپھرا ہوا دریا شدو مد سے بہہ رہا تھا۔ پانی کا شور اس کی سماعتوں سے ٹکرا رہاتھا۔ اندھیرا چھا چکا تھا اورسخت تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھ لگ گئی۔

وہ جیل کیوں گیا؟ یہ کہانی اب تک ایک سر بستہ راز کی طرح اس کے سینے میں دفن تھی وہ کسی کو کچھ نہ بتا سکا۔ آخر بتاتا بھی تو کیا کہ اس نے چپ چاپ کسی کے قتل کا الزام اپنے سر لے لیا تھا۔ اسی اثنا میں ایک سائیکل سوار پل کی فصیل کے پاس جا کر رکا۔ سائیکل کو نیچے پٹخ کر پل کی دیوار کے اوپر چڑھ گیا۔ سائیکل کے شور سے قاسم کی آنکھ کھل چکی تھی اور وہ یہ منظر پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔

جوان آسمان کی جانب منہ کر کے زور زور سے چلا رہا تھا۔ تو نے مجھے غریب پیدا کیا، بیمار ماں دی، میرے پیدا ہونے کے انتظار میں، میرے ماں باپ نے چھ بیٹیوں کی قطار لگا دی۔۔۔ کم عمری میں ہی یتیم بھی کر دیا۔ پھر سات افراد کا بوجھ، فاقے، ماں اور جوان بہنوں کی سوالیہ نظریں؟ تو نے تو رزق دینے کا وعدہ کیا تھا، پھر میرے گھر میں فاقے کیوں؟ ۔۔۔ کیوں آج بھوک اور مفلسی میرے گھر کی دیواروں سے لپٹی ہے؟ کیوں غربت میرے گھر کے آنگن میں ناچتی ہے؟ ایک وقت کی روٹی بھی مقدور نہیں۔ آج میں ہار گیا۔۔۔ تیری دی ہوئی زندگی تجھے واپس کرتا ہوں۔ کیا کرنا ہے ایسی زندگی کا جس میں مجھے اتنا بھی میسر نہیں کہ بیمار ماں کی دوا لا سکوں، بھوکی بہنوں کو کھاناکھلا سکوں۔۔۔؟ آج تیری امانت تجھے واپس کرتا ہوں۔

قاسم بجلی کی سی تیزی سے جوان کے پیچھے پہنچ چکا تھااور جیسے ہی جوان نے پل سے چھلانگ لگانا چاہی قاسم لپک کر اس کو بازوسے پکڑ چکا تھا۔
(جاری ہے)

Comments

FB Login Required

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

Protected by WP Anti Spam