امید کی موت - ممتاز شیریں

آم کا وہ پیڑ بہت پرانا تھا۔ اسے میرے دادا جی نے بہت محبت کے ساتھ لگایا تھا۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان کو بنے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ دوسرے مسلمانوں کی طرح داداجی بھی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ وہاں ہندوستان میں ہمارے کیا ٹھاٹ باٹ تھے اور یہاں آنے کے بعد کس کسمپرسی کی زندگی گزارنا پڑی، یہ اک الگ داستان ہے۔ زندگی کے تجربے نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ دکھ اور سکھ انسان کو ناپ تول کر نصیب سے ملتے ہیں لہٰذا کسی انسان، کسی سر زمین، کسی واقعے، سانحے کو دوش دینا فضول سی بات ہے۔

دادا جان کے پاس ہندوستان میں جو کچھ بھی تھا، وہ سب وہیں رہ گیا۔ پاکستان وہ بس اپنے چار سالہ بیٹے کو بچا کر لانے میں کامیاب ہو سکے تھے۔ ابتدا میں دوسرے مہاجرین کی طرح کچھ عرصہ دادا جان کو بھی مہاجر کیمپ میں گزارا کرنا پڑا تھا پھر انہیں ملیر میں ایک چھوٹا سا گھر دے دیا گیا۔ دادا جان نے وہاں رہائش اختیار کرتے ہی گھر کے صحن میں ایک آم کا پودا لگا دیا جس نے جلد ہی زمین پکڑ کر اپنا قد کاٹھ نکال لیا تھا۔

دادا جان میرے ابو کو ماں اور باپ دونوں بن کر پال رہے تھے۔ مرد چاہے لاکھ خیال رکھنے والا ہو اتنی چھوٹی عمر کے بچے کو ایک ماں کی یا کم از کم ایک سمجھدار عورت کی ضرورت رہتی ہی ہے۔ اس بات کا احساس داداجان کو تب ہوا جب ایک دفعہ ابو شدید بیمار پڑ گئے ابو تو ہفتہ دس دن میں ٹھیک ہو گئے لیکن آس پڑوس والوں نے دادا کو مشورے دینا شروع کر دئیے کہ"مانا کہ تمہیں اپنے بچے سے بہت محبت ہے تم ماں کی طرح اس کا خیال رکھ سکتے ہو لیکن اس کے باوجود تمہارے بیٹے کو ایک ماں کی ضرورت ہے " دوسرے خیر خواہ نے کہا" ابھی تو تم خود جوان ہو میری مانو تو شادی کر لو بچے کو ماں مل جائے گی اور تم کو زندگی کا ساتھی"۔ " اس ہجرت کے خوفناک مراحل میں بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئی ہیں "ایک اور ہمدرد نے گہری سنجیدگی سے کہا، "تمہارے لیے کوئی نوجوان بیوہ تلاش کرنا مشکل کام نہیں ہوگا تمہارے مسائل کا فوری حل یہی ہے کہ تم جلد از جلد شادی کر لو"

"اور اگر ان میں سے کوئی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو ۔۔۔۔"، یہ آخری مشورہ تھا جو کسی مخلص کے منہ سے نکلا، "تم اپنے گھر کسی فیملی کو رکھ لو یا خود اس فیملی کے ساتھ جا کر رہنے لگو اس طرح تمہارے بچے کا مسئلہ حل ہو جائے گا، تم آخر کب تک اس چھوٹے کو سینے سے چمٹائے گھر میں گھسے بیٹھے رہو گے۔ آخر کو تمہیں محنت مزدوری، رزق روزگار کے لیے باہر نکلنا ہی پڑے گا محبت سے پیٹ نہیں بھرتا یہ کم بخت کھانا مانگتا ہے۔"

دادا کو ان تمام مشوروں میں سے آخر والا مشورہ پسند آیا اور وہ ذہنی طور پر کسی فیملی کو رکھنے یا خود اس کے ساتھ رہنے پر تیار ہو گئے۔ قدرت نے جلد ہی ان کو یہ موقع فراہم کر دیا۔ ایک خاندان انہیں مل گیا جو دو بچوں کے ساتھ ایک بڑے سے گھر میں رہائش پذیر تھا لیکن اب مسئلہ یہ ہوا کہ وہ فیملی اپنا بڑا گھر چھوڑ کر دادا کے چھوٹے سے گھر میں آنے پر تیار نہ تھی۔ ہاں البتہ فراخ دلانہ پیشکش انہوں نے یہ کی کہ دادا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر ان کے پاس رہائش پذیر ہو جائیں رسمی تکلفات کے بعد دادا رضا مند ہو گئے۔ اس وقت پہلی مرتبہ آم کے پیڑ کا ہنگامہ کھڑا ہوا جس نے بھی سنا حیران رہ گیا۔

دادا نے اعلان کیا کہ "میں اس آم کے پیڑ کو ساتھ لے کر جاؤں گا"
داداجان کے اس فیصلے پر لوگوں نے تعجب بھی کیا اور اپنی اپنی سوچ کے مطابق تبصرہ بھی کیا۔ داداجان کے ایک دوست نے کہا کہ "یار لگتا ہے تم پاگل ہوگئے ہو، اس پیڑ کو جڑ سے اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہو۔ "
"تم لوگ مجھے پاگل کہو یا دیوانہ، اس سے مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے۔۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں اس پیڑ کو جڑوں سے اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے جاؤں گا"
" آخر کو تم اس پیڑ کا کروگے کیا ؟"
" بھائی ظاہر ہے جب جڑوں سمیت لے جاؤں گا تو لگاؤں گا ہی"، دادا نے جواب دیا
" لیکن کیا مالک مکان نے تم کو یہ پیڑ اپنے گھر لگانے کی اجازت دے دی ہے ؟" کسی طرف سے سوال آیا۔
" پہلے ان سے بات کی ہے اس کے بعد ہی یہ قدم اٹھا رہا ہوں ان کا مکان کافی کشادہ ہے میں نے تو داخلی دروازے کے ساتھ ہی ایک کونے میں اس پیڑ کے لیے جگہ بھی منتخب کر لی ہے۔"
کسی عقلمند نے یہ سوال اٹھایا"تمہیں کس طرح یقین ہے کہ یہاں سے اکھاڑے جانے کے بعد یہ پیڑ دوسری جگہ بھی زمین پکڑ لے گا پودوں کی بھی اپنی نفسیات ہوتی ہے جس درخت کو جو زمین پسند آجائے وہ وہیں ہرا بھرا رہتا ہے اگر اس کو کہیں اور لگانے کی کوشش کی جائے تو وہ مر جھا جاتا ہے ہجرت ہر پودے کو راس نہیں آتی ہے ۔"
" ہجرت کی اذیت اور ہجر کے دکھ کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا،" دادا نے جواب دیا، "اسی لیے میں اس آم کے پودے کو اپنے ساتھ لے کر جارہا ہوں۔ میں اس سے جدائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہوں اور جہاں تک نباتات کی نفسیات کا تعلق ہے، میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ بھی ہماری طرح ایک ایک بات سنتے اور سمجھتے ہیں اور مزے مزے کی باتیں بھی کرتے ہیں۔"
" تو گویا تم ان سے بات بھی کرتے ہو ؟یہ تمہاری زبان سمجھتے ہیں ؟"
" ہاں، ہاں! بالکل۔۔! کم از کم آم کے اس پیڑ کی زبان میں ضرور سمجھتا ہوں یہ مجھ سے باتیں کرتا ہے۔ ہم دونوں میں گہری دوستی ہے، سچی محبت ہے، جذباتی وابستگی ہے۔"
گہری دوستی اور جذباتی وابستگی کے الفاظ نے وہاں کھڑے سب ہی کو لاجواب کر دیا۔ دادا جان نے اس بات کی قطعی پروا کیے بغیر کے کوئی ان کے بارے میں کیا کہتا ہے آم کے پیڑ کو جڑوں تک کھود ڈالا اور پھر آم کے پیڑ کے ساتھ نئے گھر میں منتقل ہو گئے۔ المختصر وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ ابو جی بڑے ہوگئے، ان کی شادی ہو گئی، میں اور میرا بھائی احمد اس دنیا میں آگئے اور داداجی مزید بوڑھے ہو گئے۔ دادا جی جس گھر میں منتقل ہوئے تھے اس کے مالک نے اس درمیان خوب ترقی کی اور پھر اپنی پوری فیملی سمیت باہر کے کسی ملک میں رہائش اختیار کر لی۔ اس طرح یہ گھر ایک طرح سے انہوں نے داداجان کے ہی سپرد کر دیا تھا۔

یہ 1997ء کا واقعہ ہے داداجان اپنی عمرکے اڑسٹھویں سیڑھی پر کھڑے تھے۔ اب ان کی صحت اچھی نہیں رہی تھی۔ آم کا وہ درخت بڑے کروفر کے ساتھ صحن کے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ پرانا ہو جانے کے باوجود یہ ہر سال فصل دیتا تھا اور اس کی گھنیری چھاؤں سے تو ہم لوگ سارا سال ہی استفادہ حاصل کرتے تھے۔ داداجان کو آم کے اس درخت سے گہرا لگاؤ تھا اس کی ساری دیکھ بھال اور آبیاری کا کام وہ اپنے ہاتھوں سے خود کیا کرتے تھے اپنا زیادہ تر وقت وہ اس درخت کے ساتھ ہی گزارا کرتے تھے۔ ناشتہ، کھانا، چائے سب اسی کی گھنی چھاؤں کے نیچے بچھی چارپائی پر کیا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک دن میں نے دادا جان سے فرمائش کی کہ مجھے اس آم کے پیڑ پہ جھولا ڈال دیں میں نے اپنی سہیلی کے گھر درخت کی شاخ پر جھولا دیکھا تھا اور مجھے بہت اچھا لگا تھا داداجان نے میری فرمائش کو بڑی توجہ سے سنا، زیرلب مسکرائے، جواب دینے سے پہلے انہوں نے محبت بھری نظروں سے آم کے پیڑ کو دیکھا جیسے اس سے اجازت لے رہے ہوں پھر مجھ سے مخاطب ہوئے: " ڈال لو بھئی۔۔۔ ڈال لو۔۔ اب میں منع تو نہیں کر سکتا"
داداجان نے مجھے بخوشی اجازت تو دے دی تھی لیکن ان کا لمحاتی تذبذب اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ انہیں اپنے محبوب کی کسی شاخ پر رسیوں کی وجہ سے پڑنے والا ہلکا، سا دباؤ بھی پسند نہیں تھا۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ایک مرتبہ احمد نے جب وہ دس سال کا تھا تو آم کے تنے پر اپنا نام چاقو سے کھودنا چاہا لیکن ابھی اس نے الف ہی بنایا تھا کہ دادا جان کی نظر پڑ گئی اور انہوں نے احمد کو بری طرح سے جھڑک دیا لیکن آج اسی احمد کی وجہ سے گھر میں قیامت اتر آئی تھی۔ ہوا یوں کہ ایک روز احمد نے ابو سے فیصلہ کن لہجے میں کہا کہ " ابو ہمارے گھر میں بھی ایک ڈرائنگ روم ہونا چاہیے"
" ڈرائنگ روم کا تم کیا کروگے بیٹا ؟ تمہارے پاس الگ سے کمرہ ہے تو "
"ابو میں کمرے کی نہیں ڈرائنگ روم کی بات کر رہا ہوں۔ میں اپنے دوستوں کے گھر جاتا ہوں تو وہ مجھے اپنے ڈرائنگ روم میں بٹھاتے ہیں۔ میں اس شرمندگی میں اپنے دوستوں کو اپنے گھر نہیں بلا سکتا"
" بھئی تم ایسا کر و ناں،" ابو نے اس کی بات کاٹی "تم اپنے کمرے کو ہی ڈرائنگ روم بنا لو "
" ابو! میرا کمرہ کیسے ڈرائنگ روم بن سکتا ہے؟" احمد نے خفگی سے کہا۔
"ڈرائنگ روم کے لیے ایک الگ کمرہ ہونا چاہیے، مین انٹرنس کے قریب تاکہ مہمانوں کو پورے گھر میں گھوم کر ڈرائنگ روم میں نہ جانا پڑے۔"
" تم کہنا کیا چاہتے ہو؟" ابو نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا۔
" میں صرف یہ کہہ رہا ہوں ابو" وہ اٹل لہجے میں بولا " جس جگہ آم کا درخت ہے اس جگہ پر ڈرائنگ روم ہونا چاہیے "
" مگر وہاں تو آم کا درخت ہے" ابو بولے
" ابو!یہ درخت ہر سال آپ کو زیادہ سے زیادہ دو پیٹیاں آم ہی تو دیتا ہے۔ آپ فکر نہ کریں میں ہر سال آپ کو چار پیٹی آم کی لا دیا کروں گا" احمد بولا۔
" بات آم کھانے کی نہیں ہے نالائق!" ابو نے ڈانٹا۔ "تمہیں اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اس درخت سے تمہارے دادا جان کی بڑی گہری وابستگی ہے۔ اس درخت کے کٹنے سے انہیں شدید ذہنی صدمہ پہنچے گا۔"
"بس ابو بس!" احمد نے ابو کی بات کاٹی اور اٹھ کھڑا ہوا۔

اس کے بعد چند روز اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہوا ہم سمجھے کہ بات ختم ہو گئی لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ اس نے دوسرے محاذ پر محنت شروع کر دی ہے۔ اس نے امی جان کو ایموشنلی بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ امی جان احمد کی محبت میں اس کی جائز نا جائز ہر بات مان لیا کرتی تھیں اس معاملے میں بھی یہی ہوا۔
چند دن بعد امی جان نے ابو جان سے کہا " سنیں۔۔ ! آپ کو احمد کی بات مان لینا چاہیے۔"
کیوں۔ ؟ابو نے سپاٹ لہجے میں پوچھا" وہ جو فرمائش کر رہا ہے میں اس کو صحیح نہیں سمجھتا "
" ہم اپنی زندگی گزار چکے ہیں عبدالرحمن،" امی نے گہری سنجیدگی سے کہا، "اب ہم ان بچوں کے لیے زندہ ہیں اور ہمیں ان کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔ وہ کون سی غلط بات کر رہا ہے جب سب کے گھر میں ڈرائنگ روم ہوتا ہے تو ہمارے گھر میں کیوں نہیں ہوسکتا؟"
" اس لیے کہ ہر گھر میں آم کا پیڑ نہیں ہوتا ہے اور اس پیڑ سے کسی بزرگ کی جذباتی وابستگی نہیں ہوتی" ابو نے جواب دیا۔
"تو ٹھیک ہے آپ آم کے پیڑ اور اس سے وابستہ جذبات کو سنبھالیے اور جوان بیٹے کو باغی ہونے چھوڑ دیجیے، کل کو یہ بغاوت عداوت کا روپ دھار لے گی۔ میں ایک ماں ہوں اور ایک ماں کے لیے سب سے زیادہ اہمیت اس کے بیٹے کی ہوتی ہے۔ وہ اپنے کلیجے کے ٹکڑے کے مقابلے میں کسی آم کے پیڑ اور اس سے وابستہ یادوں کو اہمیت نہیں دے سکتی۔ آپ آم کے پیڑ کو آج سینے سے لگا کر بیٹھے رہیں کل اولاد ہاتھ سے نکل گئی تو پچھتاتے رہیے گا۔ "
ابو نے ایک لمحے کو سوچا، اور ان کے ہونٹوں سے الفاظ نکلے " ٹھیک ہے میں ابا جی کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

پھر واقعی ابو جی نے دادا جی کو سمجھا دیا۔ دوسرے دن آم کے درخت کو کاٹ دیا گیا۔ اس دوپہر سارا دن داداجی اپنے کمرے میں بند رہے تھے۔ وہ اپنے بیٹے اپنے دوست اپنے ساتھی کو اپنی آنکھوں سے کٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے۔
اس رات کا کھانا بھی انہوں نے چپ چاپ کھا لیا تھا انہوں نے کھانے سے انکار نہیں کیا تھا لیکن جس طرح وہ لقمہ حلق سے اتار رہے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی ابھی جوان بیٹے کو لحد میں اتار کر آئے ہوں۔
سب اپنے کمروں میں سونے جا چکے تھے۔ ایسے میں کسی کی سسکیوں کی آواز نے مجھے نیند سے بیدار کر دیا۔ میں کمرے سے باہر نکلی تو دادا جان ٹھنڈے ٹھار موسم میں کٹے پیڑ کی جڑ کے پاس بیٹھے سسک رہے تھے۔ میں نے آہستگی سے انہیں اٹھایا اپنے کمرے میں لاکر پانی کا گلاس ان کے لبوں سے لگاتے ہوئے کہا "داداجان میں آپ سے شرمندہ ہوں، آج میں بھی اس پیڑ کو نہیں بچا سکی"
داداجان نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور بولے " کیا تم بھی یہی سمجھتی ہو کہ آج ہمارے گھر کوئی آم کا پیڑ کٹا ہے؟"
پھر دادا جان؟یہ آم کا پیڑ نہیں تھا تو کیا تھا۔ ؟
" تمہاری دادی جان تھیں یہ!!" وہ ٹھہرے سے لہجے میں بولے " میری بیوی، میری مہرالنساء۔ آج عبدالرحمٰن نے اپنی ماں کا خون کر ڈالا ہے!"
دادا جان کی باتیں میری سمجھ سے بالاتر تھیں ایک لمحے کو تو مجھے یوں لگا کہ داداجی کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ ڈرتے ڈرتے پوچھا " دادا جان! ایک آم کا پیڑ میری دادی اور آپ کی بیوی کیسے ہو سکتا ہے ؟ دادی جان تو فسادات کی نظر ہو گئیں تھیں اور آپ صرف ابو کو لے کر پاکستان آئے تھے؟"
" تمہاری معلومات ادھوری ہیں بیٹا! میں نے جب ہندوستان سے ہجرت کی تو تمہاری دادی اور تمہارے ابو میرے ساتھ تھے۔ ہم نے زیادہ سفر پیدل ہی طے کیا تھا ۔ جب ہم ہندوستان کی زمین سے نکل کر پاکستان کی حدود میں داخل ہونے والے تھے تو چند بلوائیوں نے ہمیں گھیر لیا۔ ہندو بلوائیوں نے سب سے پہلے تمہارے باپ کو نشانہ بنایا بھالے اور برچھیاں فضا میں بلند ہوئیں اس سے پہلے کہ وہ عبدالرحمٰن کو نشانہ بناتیں تمہاری دادی نے اپنی جگہ سے حرکت کی اور عبدالرحمن پر چادر کی طرح تن گئی۔ بھالوں اور بر چھیوں نے مہرالنساء کے نازک جسم کو چھلنی کر دیا۔ فضا میں کربناک چیخوں کی آواز گونجی تو ہمارے مددگار بھی پہنچ گئے بلوائی ان کو دیکھ کر بھاگ گئے۔ مہرالنساء نے تمہارے باپ کو بچانے کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا آج اسی بیٹے نے اس کو کاٹ ڈالا۔ میں آج تک اس کی روشنی اور توانائی سے زندہ تھا" دادا جان پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔
" دادا جان! دادا جان! دادی جان نے تو ہجرت کے راستے میں شہادت پائی، پھر آپ آم کے پیڑ کو کیوں بار بار دادی جان دادی جان کہہ رہے ہیں؟" میں نے تعجب سے پوچھا
" تم ٹھیک کہتی ہو، اب آگے کی کہانی سنو۔ ہم گھر سے نکلتے وقت کچھ ادھ پکے آم اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ جب جو آم پک جاتا ہم اس کو کھا کر اپنی بھوک مٹا لیا کرتے تھے۔ جس دن تمہاری دادی کو شہید کیا گیا ہمارے پاس آخری آم بچا تھا۔ تمہاری دادی کی ضد تھی کہ وہ آخری آم میں اور اس کا بیٹا کھا کر اپنی بھوک مٹا لیں اور میری ضد تھی کہ وہ آم تمہاری دادی اور ابو کی بھوک مٹائے۔ پھر اسی دن وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں اور وہ آم میرے پاس رکھا رہ گیا۔ اس کی آخری نشانی کے طور پر"

یہاں تک کہہ کر داداجان خاموش ہو گئے انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ بند آنکھوں کے پیچھے سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ رہا تھا۔ یہ آنسو بڑے زور آور ہوتے ہیں، احساسات کے ترجمان ہوتے ہیں، چاہتوں کے نگہبان ہوتے ہیں، درد کا طوفان ہوتے ہیں، کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کب کس کے لیے خون جگر آنکھوں سے بہہ گیا۔
" میں نے تمہاری دادی کی آخری نشانی کو سینے سے لگا کر رکھا اسے بحفاظت پاکستان لے کر آیا۔ محبت کرنے والے یادوں کے امین ہوتے ہیں۔ آم کا یہ پیڑ بھی تمہاری دادی کی یادوں کی نشانی تھا۔ جب میں اس کو پرانے مکان سے اس مکان میں منتقل کر رہا تھا تو لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پیڑ مر جائے گا، دوسری زمین، دوسرا گھر نہیں قبول کرے گا لیکن میں جانتا تھا کہ میرے جیتے جی کوئی زمین کوئی آسمان اسے نہیں مارسکتا۔"

دادا جان نے میری طرف دیکھا اور بولے "بیٹا آم کا وہ پیڑمجھ سے باتیں کرتا تھا۔ اس کے پتے پتے سے تمہاری دادی کی خوشبو آتی تھی جب تم نے آم کے پیڑ پر جھولا ڈالنے کی فرمائش کی تو میں نے تمہاری دادی سے پوچھاتھا اس نے فوراً اجازت دے دی تھی وہ بہت خوش تھی کہ اپنی پوتی کو جھولا جھلائے گی جس طرح مائیں بچوں کو بانہوں میں لے کر جھولاتی ہیں۔ وہ اپنی اولاد کی اولاد کو دیکھ کر خوش ہوتی تھی۔ میں شرمندہ ہوں کہ دوسری بار بھی اس کو نہ بچا سکا، ایک دفعہ ہندو قاتلوں سے اور دوسری دفعہ اس کے اپنے بیٹے سے۔"

قتل صرف انسانوں کا ہی نہیں ہوتا، جذبات، امید اور امنگوں کا بھی ہوتا ہے۔ کاش اولاد محبت کے ساتھ بزرگوں کی خواہشات کا احترام کرنا بھی سیکھ لے۔ اے کاش!