جس کا خدشہ تھا! ہندو میریج ایکٹ کی طرح مسلم میریج ایکٹ؟ – مرزا انوار الحق بیگ

جس کا خدشہ تھا وہی ہوا۔ حکومت کی اصل نیت سامنے آ گئی۔ مسلمان تین طلاق پر بحث کرتے رہے۔ حکومت کو تین طلاق سے کیوں بیر ہوتا؟ حکومت کو اصل میں مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مداخلت کرنی تھی اور نکاح و طلاق کا وہ الہٰی اور مثالی نظام جو کسی بھی مذہب کے پاس نہیں ہے اور جو کہ ملک میں مسلم پرسنل لا (اسلامی عائیلی قوانین )کے تحت آتا ہے پرہی شب خون مارنا تھا۔ حکومت کے لئے یکساں سول کوڈ کا نفاذ تو ممکن نہیں تھا اس لئے اسے اپنے در پردہ مقاصد کے حصول کے لئے ایک ایسا راستہ بہت مناسب معلوم ہوا جس سے “سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔” اس معاملے میں حکومت کی سازشی حکمت عملی کامیاب ہوتی محسوس ہو رہی ہے جس میں مسلمانوں کو تین طلاق کے غیر ضروری فقہی مباحث و اختلاف میں مصروف کردیا اور ہندو میریج ایکٹ کی طرح مسلم میریج ایکٹ کے لئے راستہ ہموار کرلیا۔

اب جب کہ حکومت نے عدالت میں اپنے منشا کا اظہار و اعلان کر دیا ہے کہ طلاق کے تمام اسلامی طریقے ظالمانہ ہیں چاہے طلاق بدعت ہو یا طلاق حسن ہو یا طلاق احسن ہو سب پر پا بندی لگنی چاہیے، پھر بھی کچھ نادان بحث کر رہے ہیں کہ تین طلاق کا ذکر قرآن میں ہے یا نہیں یا حدیث سے ثابت ہے یا نہیں۔

مسلم میریج ایکٹ کا مطلب ہے، فرد کے نکاح و طلاق کے اختیار کو سلب کرکے عدالت کو سونپنا۔ مطلب دیگر برادران وطن کی طرح ایک مسلمان کو بھی کسی ناچاقی کے وجہ سے طلاق لینے کے لئے سالہاسال عدالتوں کے چکر کاٹنے اور مقدمے بازی میں اپنی جان و مال صرف کرکے بھی بے مراد اور در ماندہ ہوتے رہنا ہوگا، جو پریشانی کے ساتھ ساتھ غیر شرعی عمل ہے۔

خبروں کے مطابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے بروز پیر سپریم کورٹ میں تین طلاق پر چل رہی سماعت کے تیسرے دن کہاکہ اگر کورٹ طلاق کو منسوخ کر دیتا ہے تو حکومت مسلم کمیونٹی کے لئے نکاح و طلاق کو منضبط کرنے کے لئے نیا قانون لائے گی۔

اٹارنی جنرل نے مرکزی حکومت کا موقف رکھتے ہوئے نا صرف ایک ساتھ تین طلاق کی مخالفت کی ہے بلکہ طلاق کے باقی دو اسلامی طریقے یعنی طلاق احسن اورطلاق حسن کو بھی خواتین کے ساتھ مساوی سلوک کے خلاف قرار دیا اور تمام اسلامی طلاق کے طریقوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی دلیل کے مطابق پورے معاملے کو آئین کے آرٹیکل 14، 15 یعنی برابری کے حقوق کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ اٹارنی جنرل کے اس جواب پر5 ججوں کی بینچ نے پوچھاکہ اگر سب کو ختم کر دیا گیا تو مسلم مرد طلاق کے لئے کیا کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ حکومت نکاح و طلاق کے لئے قانون بنائے گی۔

اٹارنی جنرل نے مزیدکہا کہ شادی اور طلاق مذہب سے منسلک مسئلہ نہیں۔ قرآن کی وضاحت کرنا کورٹ کا کام نہیں بلکہ آئینی بینچ کا کام ہی آئین کی روشنی میں مسئلہ کو پرکھنا ہے۔ اس پر آئینی بینچ کے صدر چیف جسٹس جے ایس کھہیر نے کہاکہ ‘آپ جو کہہ رہے ہیں وہ اقلیتی حقوق کو ختم کر دے گا، اور ہم صرف آئین کے محافط نہیں ہیں بلکہ اقلیتی حقوق کے بھی محافط ہیں۔ ’ عدالت نے مزید کہا کہ‘ پہلے ہم یہ دیکھے گے کہ طلاق اسلام کا بنیادی حصہ ہے یا نہیں ؟’

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت عدالت میں ایک نشست میں تین طلاق دینے پر سماعت ہو رہی ہے اور حکومت کا پہلے روز سے یہ مطالبہ تھا کہ تین طلاق پر پابندی لگائی جائے لیکن کل اچانک حکومت نے اپنے درپردہ عزائم طشت از بام کرتے ہوئے، جس کا خدشہ مسلم پرسنل لا بورڈ جو مسلم تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے کو پہلے ہی سے تھا، طلاق کے اسلامی نظام ہی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

عدالت میں سماعت کے دوران اہم بات یہ رہی کہ اٹارنی جنرل نے عدالت اعظمیٰ کو یاد دلایا کہ 2 ججوں کی بینچ نے تین طلاق کے ساتھ حلالہ اور تعد د ازواج پر بھی نوٹس لیاتھا، اور مطالبہ کیا کہ کورٹ کو تینوں مسائل پر سماعت کرنی چاہئے۔ اس پر عدالت اعظمی نے کہا کہ حلالہ اور تعد د ازواج کے مسئلوں پرسماعت کے لئے دروازہ کھلا ہے۔ عدالت نے وضاحت کی کہ فی الحال وقت کی کمی کی وجہ سے صرف تین طلاق پر غور ہو رہاہے، نکاح حلالہ اور مسلم مردوں کو ایک سے زیادہ شادی کی اجازت پر مستقبل میں سماعت ہوگی۔

حیرت انگیز طور سے اس قدر اہم بات جس میں طلاق کے تمام طریقوں کو ختم کرنے کا حکومت نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے، اکا دکا چھوڑ کر مین اسٹریم اخبارات جس میں اردو اخبارات بھی شامل ہیں کور کرنے کی زحمت نہیں کی ہے۔ آخر کیوں ؟

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam