ایچی سن کا چوہدری نثار کدھر؟ - عبد الباسط بلوچ

"تمہیں لادینیت پسند اور مجھے اسلام پسند ہونے پر فخر ہے۔" میں نے بھی سنا جملہ اچھا لگا۔ پھر "رات گئی، بات گئی" ہم بھی چین کی بانسری بجانے میں مصروف ہو گئے۔

ایک بہت ہی منجھے اور سلجھے ہوئے وسعت اللہ خان کو یہی جملہ کلک کر گیا اور کلک کیا کیا، وہ تو جیسے پھٹ پڑے۔ جیسے نثار کا نشتر، سیدھا ان کے اس زخم پر لگا اور اس سے وہ کچھ بہنے لگا۔ اس درد کا اظہار اس طرح فرماتے ہیں کہ نثار چوہدری کی بات سن کر میرے تو کانوں کو اعتبار ہی نہ آیا کہ کیا کہہ رہا ہے؟ مجھے ان پر دکھ نہیں مجھے تو ان استادو ں کی تربیت پر ہے جو ایچی سن میں اس کو سیکولر نہ بنا سکے۔ یہ اُن کے دکھ کا خلاصہ ہے۔

وسعت اللہ صاحب کو میں بڑی دیر سے سنتا آ رہا ہوں اور کبھی پڑھ بھی لیتا ہوں۔ ان کا یہ شکوہ بجا ہے کہ استاد سے بھول ہو گئی کہ نثار کے ذہن میں تصور بیٹھا ہی نہ سکا اور وہ عوام میں جا کر مولویوں اور تنگ ذہن لوگوں والی باتیں کر رہا ہے۔ ایک گزارش ہے کہ وہ پہلے مسلمان ہیں، اس کے بعد ایچی سن کے طالب علم۔ اچھا کیا دل کی بات کہہ دی کہ یہ ادارے مسلمان نہیں لادین اور سیکولر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ جناب نے بڑے ہی اچھے انداز میں سیکولر ازم کی تعریف بھی فرما دی کہ اس کا مطلب کیا ہے اور کن کن لوگوں نے اسے اپنایا ہوا ہے لیکن میرا ایک سوال تو بنتا ہے حضور کیا سیکولرازم ایک نظریہ نہیں؟ اس کو بنانے والے انسان نہیں؟ اس کو ماننے والے اسی دنیا میں نہیں رہتے؟ اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر انسانی سوچ کے محدود ہونے اور بھولنے کی عادت کو بھی ذہن میں رکھیں۔ ہو سکتا ہے وہ اس کو بیان کرنے میں آپ اور مجھ کو سمجھنے میں غلط فہمی ہو جائے۔ جتنا دفاع اس نظریے کا فرمانے میں آپ بے تاب ہیں، کاش اس سے کم آپ کو نظریہ قرآن اور نظریہ اسلام کے حوالے سے تعصب کی عینک کو اتار دیکھ لیتے تو ان انسانوں کے بنائے ہوئے نظریات کی طرف آپ کی نظر نہ جاتی اور یہ نظریہ آپ کو ضرور اپیل کرتا ۔ "اے لوگو! آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   معاملہ " گھر کی صفائی کا " - امجد طفیل بھٹی

تو نہ آپ کو انڈونشیا کی خاک چھاننی پڑتی نہ مولانا ارشد کے الفاظ ادھار لینے پڑتے۔ اگر پھر بھی کچھ کمی یا وضاحت چاہیے تھی تو مدینہ کی ریاست کے پہلے مینی فیسٹو "میثاق مدینہ" کی کاپی مل جاتی، اس کو ڈاکٹر حمید اللہ کی نظر سے پڑھ لیتے تو یہ وضاحتیں اور افسوس کرنے کی نوعیت ہی نہ آتی۔ باقی چوہدری نثار نے بھلے جوش خطابت میں کہا، یہ ان کا کمال نہیں اس مالک کا کمال ہے جس نے اس کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری لی ہے۔ بعد میں چاہے نجی محفل میں اس کو جوش خطابت ہی کہہ کر بری ہو جائیں۔

وسعت اللہ صاحب! جس طرح کی وسعت سیکولرازم کو سمجھنے اور اس کے عالم بننے میں لگا ہے ہیں، اس سے آدھی اگر نظریہ اسلام کو سمجھنے میں لگاتے تو ایسی وسعت والے بنتے کہ دنیا عش عش کر اٹھتی۔ پھر نہ آپ کو سیکولرازم کے بودے نظریات کی خاک چھاننا پڑھتی نہ وضاحت۔ ایک بات کو نہ بھولیں، مالک کے مقابلے میں سب کی تدبیریں اور تحریریں ناکام ہیں۔

وسعت اللہ خان کو چوہدری نثار میں ایچی سن والی تربیت تو نہ نظر آئی لیکن مجھے وہ فطری نظریاتی تربیت کا اثر خوب جھلکتا ہوا محسوس ہوا۔ ہم جناب وسعت اللہ خاں کے دکھ میں شریک ہیں کہ چوہدری نثار ان کے قبیلے کے دل دکھانے کا سبب بنے۔