فرانس میں اسلام کی 'اصلاح' - عمرابراہیم

اسلامی تہذیب سے تصادم میں، مغرب کی دوواضح پالیسیاں ہیں۔ ایک دہشت پسند ہے، دوسری اصلاح پسند ہے۔ ایک مسلمان بستیوں کی تباہی بربادی اوراسلام کی دہشتناک منظرکشی ہے۔ دوسری دہشت زدہ اورمعذرت خواہ مسلمانوں کی 'اصلاح' ہے۔ یہ اسلام کی اصلاح سازی کا بیانیہ ہے۔ جسے مغرب، مغرب زدہ ادارے اور افراد کورس میں گارہے ہیں، لکھ رہے ہیں، لکھوارہے ہیں، چھپوارہے ہیں، جتارہے ہیں، بلکہ صادرفرمارہے ہیں۔ مسلم دنیا میں مصرکی جامع ازہر، ترکی کا گولن نیٹورک، فرانس کا طارق رمضان نیٹورک، اورپاکستان کے معذرت خواہ دانشوربدترین مثال ہیں۔ یہ دو مراحل میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ مسلمان دنیا میں دہشت اور تباہی کا سارا ملبہ اسلام پرڈالا جائے، پرامن مقبول اسلامی تحریکوں کوبیڑیاں پہنادی جائیں، پھانسیوں پرلٹکادیا جائے، اورکرائے کے قاتلوں سے اُن کا گٹھ جوڑگھڑا جائے۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ مغربی اقدارپر'اصلاح شدہ' اسلام پیش کیا جائے، جوغلام نفسیات کا مکمل نمونہ ہو۔ یہاں زیرقلم موضوع، فرانس کے نئے صدرکا دعوٰی انقلاب ہے، اسلام کی اصلاح سازی اس انقلاب کا اہم جزو ہے۔

امینیول میکخواں پراسلام اورمسلمانوں کی بے جاحمایت کا الزام لگایا جارہا ہے۔ یہ الزام بے جاہے، کیونکہ میکخواں کا فرانس بھی اسلام کاروادار نہیں۔ میکخواں کا فرانس اسلام کی 'اصلاح' چاہتا ہے۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ فرانسیسی مسلمانوں کی اصلاح کی جائے، انہیں سیکولراقدارسے ہم آہنگ کیا جائے، لبرل طرزمعاشرت کے فضائل سمجھائے جائیں۔

میکخواں صاحب کی ہیک شدہ ای میلزمیں فرانس کی 'اسلامائزیشن' اسکیم سامنے آئی ہے۔ یہ اسکیم بتاتی ہے کہ کس طرح فرانس میں اسلام کی 'اصلاح' کی جائے گی۔ اس اسکیم کے مطابق مسلمانوں کا مفتی اعظم مقررکیا جائے گا۔ جواسلام کی تعبیروتعلیم لبرل و سیکولر اقدارسے ہم آہنگ کرکے پیش کرے گا۔ ریاست میں مذہبی امورکا ایک سیکریٹری تعینات کیا جائے گا، جومذاہب کی نگرانی کرے گا کہ آیا کہیں کوئی لبرل اقدارپامال تونہیں کررہا۔ غرض، روشن خیالی سے یورپ میں اسلامی تہذیب کا نفوذ زائل کیا جائے گا، بے اثربنایا جائے گا، اسلامی اقدارکے نقائص اوربوسیدگی ثابت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت میں سیکولرازم کی حمایت کیوں کی جاتی ہے؟ محمد عامر خاکوانی

جہاں تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے۔ امینیول میکخواں نے انتخابی کامیابی پر فرمایا تھا، ''میں کہتا ہوں فرانس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے رہے گا۔ ملکی اور عالمی دونوں سطح پرفرانس دہشتگردی کے خلاف بھرپورایکشن لیتا رہے گا۔ دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ کمزوری دکھائے بغیرجاری رہے گی۔ '' اس بیان میں اوباما کا سا بدباطن سامنے آیا ہے۔ وہ بھی زبان سے کہتے رہے، کہ امریکہ اسلام سے حالت جنگ میں نہیں ہے اورنہ کبھی ہوگا، مگرعملا معصوم مسلمان بستیوں پربم گراتے رہے اورڈرون اڑاتے رہے۔

درحقیقت میکخواں اوباما ہی کی طرح، انجیلا مرکل ہی کی مانند، اور ٹرمپ وپیوٹن کی سی حیثیت وکیفیت میں ہیں۔ یہ سب عالمی سطح پراسلام سے تصادم میں ہیں، صرف طریقہ کارکا فرق ہے۔ یہ سب کسی نہ کسی شکل میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے ہیں۔

امینیول میکخواں عالمی مقتدر حلقے کے کل پرزے سمجھے جاتے ہیں۔ بینکارروتھ شیلڈ گھرانے کے چہیتے ملازم رہ چکے ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ وہ عالمی بینکاروں کا ایجنڈا آگے بڑھائیں گے۔ یورپی یونین مستحکم بنائیں گے۔ زیادہ سے زیادہ مسلمان مزدوروں کی 'لبرل اصلاحات' کا سامان کیا جائے گا۔ یوں اسلام دیس نکالا جائے گا، اوریورپ کی ڈوبتی معیشت کواصلاح شدہ مسلمان مزدوروں کی طاقت میسرآسکے گی۔

فرانس کی جانب سے اسلام سے تصادم کی عمومی پالیسی میں جوہری تبدیلی کا امکان نہیں۔ یہ عمومی پالیسی فرانس میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ، یورپ کی سب سے بڑی مسلمان اقلیت فرانسیسی ہے۔ حالیہ سالوں میں چارلی ایبڈو سے خالد مسعود واقعہ تک فرانس دہشتگرد ڈراموں کا مرکزی تھیٹر رہا ہے۔ فرانس میں خصوصی اقدامات کے خدوخال یہ ہیں، کہ عام شاہراہوں پردس ہزار فوجیوں کا گشت مسلمانوں پرمسلسل نظررکھتا ہے۔ دوہزار اٹھارہ تک چالیس ہزاررضاکارفورس تیار کی جارہی ہے۔ مسلمان آبادیوں پرچھاپے عام ہیں۔ پولیس اہلکاروں کوآن ڈیوٹی اور آف ڈیوٹی اسلحے کی نمائش اور استعمال کی چھوٹ مل چکی ہے۔ بسوں پرآتے جاتے مسلمان مسافروں کی جامہ تلاشی قانون بن چکا ہے۔ دوسال میں مسلمان اقلیت کی دہشت ناکی کیلئے بائیں بازو کی حکومت نے بیالیس کروڑپچاس لاکھ یوروخرچ کیے۔ گزشتہ حکومت میں بدنام زمانہ قانون بھی پاس ہوا، جوسرکار کو کسی بھی شہری کی جاسوسی کا مجاز بناتا ہے۔ اسکولوں میں لبرل اقدارکی تعلیمات جبرا مسلط کی گئیں ہیں۔ قومی سیکولرزم ڈے کا اعلان بھی ہوا، جوناکام ہوا۔ گزشتہ حکومت میں دس مساجد پرتالے ڈالے گئے، اسی مبلغین کے خلاف ایکش لیا گیا۔ غرض اسلام اور مسلمان اقلیت کے خلاف قوانین کا انبارلگا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریے کی کلینیکل موت - ثمینہ رشید

یہ ہے وہ ماحول، جس میں میکخواں مسلمانوں پر'اصلاح شدہ' اسلام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح، جس طرح اسکولوں میں سیکولرتعلیمات مسلط کی گئیں ہیں۔

فرانس میں اسلام کی اس 'اصلاح' میں مسلمانوں کی 'فلاح' ہرگز نہیں۔ مشرق ومغرب میں 'اصلاح پسندوں ' کا یہ روشن خیال حملہ اہل قریش کا سا ہے۔ جس کا جواب آج پھروہی ہے، کہ اگرایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ پرچاند رکھ دیا جائے، اسلام انسانوں کی 'فلاح' سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔