پیاس – جویریہ سعید

جب سے اس نے دوڑنا بھاگنا اور مزے مزے کی باتیں بنانا شروع کیا تھا، تب سے میں نے اس کے لیے ایک چھوٹا سا بستہ، ایک پانی کی بوتل اور ایک ننھا سا لنچ باکس خرید کر رکھ لیا تھا۔ ایک چھوٹی سی ڈبیا، جس میں قلم، ربر، رنگ اور پنسلیں تھیں اور چند کاپیاں اس کے بستے میں ڈال دیں تھیں۔ لیکن میں سوچتی تھی کہ یہ سکول میں رہے گی کیسے؟ یہ تو مجھ سے ذرا دیر بھی دور نہیں رہ سکتی! چھوٹی تھی تو گود سے نہیں اترتی تھی۔ اب بھی رات کو میرا دوپٹہ اپنی انگلی میں لپیٹ کر ہونٹوں سے لگا کر اس طرح سوتی ہے کہ ایک پیر میرے سینے پر رکھے ہوتے ہیں۔ جیسے ڈر ہو کہ کہیں میں رات اسے چھوڑ کر نہ چلی جاؤں۔ ہر تھوڑی دیر بعد دوڑ کر میرے پاس آتی ہے۔ میرے بغیر یہ سکول میں ٹکے گی کیسےِ ؟

ہوا بھی یہی۔ پہلے تین روز مجھے اس کے ساتھ سکول میں ہی رکنا پڑا۔ کبھی اس کی کلاس میں اور کبھی سکول کی لائبریری میں۔ اسے واش روم لے جانا تھا، کیلا چھیل کر دینا تھا۔ استانی کے ساتھ کھیل کے میدان میں جانے کے لیے تیار کرنا تھا۔

پھر آہستہ آہستہ وہ سیٹ ہو گئی۔ اگرچہ صبح کو سکول بھیجنا آسان نہیں تھا۔ تیار ہو بھی جائے، تو سکول بس دیکھ کر مچل جاتی تھی، میرا آنچل مٹھی میں جکڑ لیتی،
کہتی، ”امی کے پاس رہنا ہے!!“
واپس آتی تو دوڑ کر گود میں چڑھ جاتی۔ منہ بسور کر بتاتی اس نے مجھے کتنا یاد کیا۔ میں اسے سینے سے لگائے ساری باتیں سنتی رہتی اور اس کے گالوں، پیشانی، ہاتھوں اور بالوں پر پیار کرتی جاتی۔

کہیں باہر جانے کے لیے تیار ہونا مشکل تھا۔ میرے سنگھار کے سامان کو چمکتی آنکھوں سے دیکھتی اور کہتی کہ میں نے بھی امی جان بننا ہے۔ میں نے بھی لپ اسٹک لگانی ہے، آئی لائینر بھی لگائیں، انکھوں پر بھی وہی رنگین شیڈو لگائیں جو آپ نے لگایا ہے۔ میرے بھی کانوں میں بندے پہنائیں، ویسے ہی لمبے لمبے جیسے آپ نے پہنے ہیں۔

باورچی خانے میں ہی اس کا ایک چھوٹا سا کھلونا کچن رکھا تھا۔ میں کھانا تیار کرتی، تو وہ میری نقل کرتی جاتی۔ جیسے جیسے میں کرتی ویسے ویسے وہ بھی کرتی۔
”امی دیکھیں ! میں بھی مسالہ پیس رہی ہوں۔ میں بھی آپ کی طرح سبزی کاٹ رہی ہوں! مجھے بھی آٹا دیں، میں نے بھی اپ کی طرح روٹی بنانی ہے، میں بھی ویسا ہی سالن بناتی ہوں، جیسا آپ بناتی ہیں، ابو جی! دیکھیں!! میں بھی امی بن گئی ہوں۔ میں نے بھی ان کے ساتھ مل کر کھانا بنایا ہے“۔

میں کبھی کبھی اسے ڈانٹتی بھی تھی مگر یہ سب اوپری ہوتا۔ اندر سےمیں ایک انوکھی مسرت سے سرشار تھی۔ محبت خوشبو بن کر میرا روم روم مہکا رہی تھی۔ میں۔۔۔ جو ایک عام سی عورت تھی، جسے کبھی کسی نے اس طرح چاہا ہی نہیں۔ مجھے حسرت ہی رہی کہ کوئی مجھے بتائے کہ اس نے مجھے اس وقت یاد کیا جب میں اس کے ساتھ نہیں تھی، کسی کو کبھی کچھ بھی اس لیے اچھا نہیں لگا ہو کہ میں اس کے ساتھ نہیں تھی، کسی کی سانسیں مجھ سے جدا ہونے کے خیال سے اٹکنے لگی ہوں، کسی کو میں اتنی خوبصورت لگوں کہ وہ میرے جیسا بننا چاہے، کوئی مجھے بھی رشک بھری نظروں سے دیکھ کر کہے کہ تم کتنی پیاری ہو!!

میں شادی سے پہلے بھی عام سی ہی تھی، اور جس کے ساتھ باندھی گئی تھی، اس نے بھی کبھی کچھ ایسا نہیں کہا کہ خود کو کسی بھی طرح خاص سمجھنے لگوں۔ ایسا نہیں تھا کہ مجھ پر کوئی ظلم ہو رہا ہو۔ زندگی اچھی تھی، گھر بار، کھانا پینا، آرام سکون۔ مجھے اپنے ساتھی سے کوئی شکوہ نہیں تھا کہ وہ سب کچھ تو تھا میرے پاس جو عموما گھروں میں ہوتا ہے۔ ملنا جلنا، آنا جانا، ہنسنا بولنا۔ ان کے مزاج میں بھی سختی نہیں تھی۔ مگر بس ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کبھی کسی سرگوشی یا کسی بات کو سن کر یا کبھی ان نظروں میں کچھ دیکھ کر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی ہوں، اور سوچا ہو کہ کیا واقعی میں اتنی اہم ہوں؟ کبھی خدا حافظ کہہ کر دروازہ بند کرتے یا دفتر سے واپسی پر دستر خوان پر کھانا چنتے کبھی بھولے بھٹکے بھی یہ احساس ہوا ہو کہ اس بندے کو میری موجودگی یا عدم موجودگی میں کوئی فرق محسوس ہوتا ہوگا۔ گھر کی، کاموں کی، ذمہ داریوں کی، رشتہ داروں کی کتنی ہی باتیں ہوتیں، سودا آنا ہے، کسی کی شادی ہے، فرج خراب ہے، دوستوں کے یہاں جانا ہے، چھٹی والے دن سمندر پر چلتے ہیں، آج دوستوں نے لنچ کی تعریف کی۔ ساری ہی باتیں ہوتی رہتیں، اور ساری ہی وہ باتیں جو خوش باش رہنے والے میاں بیوی کے بیچ ہوتی ہیں، مگر کوئی ایسا جملہ سننے کو نہیں ملا جس سے ایک لمحے کو دل دھڑکنا بھول جائے، یا آئینے میں بلاوجہ خود کو دیر تک تکا جائے یا کسی حادثے سے بال بال بچنے پر یہ سوچ کر شکر ادا کیا جاسکے کہ میرے بعد اس کا کیا ہوتا۔

یہ سب تو پہلی پہلی بار اس کے میری زندگی میں آنے کے بعد ہی ہوا تھا۔ جب میں ذرا نازاں ہو کر سوچنے لگی تھی کہ وہ میرے بغیر رہ نہیں سکے گی!
اب جب اس نے لکھنا اور تصویریں بنانا سیکھ لیا تھا، تو ہر روز ایک کارڈ بنا کر لے آتی، جس میں رنگوں سے پھول پودے، تتلیاں اور پرندے بنے ہوتے، الٹی سیدھی لکیروں اور دائروں سے بنے دو کارٹوں ہاتھ تھامے کھڑے ہوتے، جو اس کے تئیں وہ اور میں ہوتے اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں لکھا ہوتا؛
”آئی لوو یو مما!“ یا ”یو ار دا بیسٹ مام ایور“ یا ”یو آر مائی لائف“،
ان خطوط اور کارڈز پر ایک ننھا سا سرخ دل بھی موجود ہوتا تھا جو مجھے اس کے سوا کبھی کسی نے بنا کر نہیں دیا۔

مگر کچھ عرصے کے بعد ایسا ہوا کہ وہ ہر وقت اپنی استانی کی باتیں کرنے لگی۔ وہ ایسے بولتی ہیں، وہ ایسے دوپٹہ اوڑھتی ہیں، وہ یہ گیت گاتی ہیں۔ آنکھوں پر نانی اماں کا چشمہ لگا آئی۔ میں نے منع کیا تو بولی کہ میں مس حنا لگ رہی ہوں نا! وہ بھی ایسی عینک لگاتی ہیں۔ یہ کوئی ایسی عجیب بات بھی نہیں تھی۔ اس کی دنیا آہستہ آہستہ گھر کی دیواروں سے باہر نکل کر پھیل رہی تھی۔ وہ نت نئے رنگوں، آوازوں اور چہروں سے مانوس ہو رہی تھی۔ چھو کر محسوس کرتی، حیران ہوتی اور ان کے بیچ اپنی تصویر کے خدوخال پینٹ کرنے لگتی. یہ سب اس کے بڑھنے اور اس دنیا کا ہی ایک حصہ بننے کے لیے ضروری تھا۔ اس لیے میں اس کے سارے قصے شوق سے سنتی۔ فلاں استانی کتنی پیاری ہیں، فلاں سہیلی کتنی ذہین ہے، فلاں لڑکی کے پاس کے پاس یہ ہے، میں بھی ایسا ہی لوں گی۔!

پریشان تو میں یوں ہوئی کہ اب وہ جھنجھلا کرمیری باتوں سے انکار دیتی۔
”یہ کیسا رنگ لے آئیں آپ؟ میری سہیلیاں کہتی ہیں یہ تو بہت ہی تیز اور بھدا رنگ ہے!“،
”ایسے چوٹی نہ گوندھیں میری، انتہائی بری لگتی ہے۔ مس عافیہ کی طرح آڑی چوٹی بنانا سیکھ لیں نا!“
”آپ کیوں منع کرتی ہیں لپ اسٹک لگانے سے۔ آپ کو کیا خبر! کلاس کی سب لڑکیاں لگاتی ہیں۔ آپ کو دنیا کا کیا پتہ.“
”آپ کوہی زیادہ شوق ہے مجھے سائنس پڑھانے کا۔ ساری لڑکیاں ایم بی اے میں داخلہ لیں گی۔ میں بھی یہی لوں گی۔ آپ کو کیا پتہ آج کل کیا ان ہے؟“
”آپ یہیں بیٹھیے گا۔ میں اپنی سہیلیوں کے پاس ہوں، جب چلنا ہوگا تو خود آ کر آپ کو بتا دوں گی۔“
جب وہ چھوٹی تھی تو کہتی تھی میں بڑی ہو کر امی بنوں گی۔ مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بڑی ہو کر اپنے ابو پر گئی ہے۔

ہم کھانا بھی ساتھ کھا لیتے تھے، بازار بھی جاتے، رشتے داروں سے ملنے ملانے بھی۔ بات چیت تو سارا دن ہی چلتی رہتی۔
”امی آج حلیم بنا دیجے گا۔ میرا بہت دل چاہ رہا ہے“،
”امی اگلے مہینے ثمینہ کی شادی ہے۔ نیا جوڑا لینے بازار کب چلیں گی“،
”میری سہیلیوں کو آپ کے ہاتھ کے بنے شامی کباب بہت پسند ہیں، فیر ویل کے لیے وہی بنا دیجیے گا”،
”ڈرامہ شروع ہونے والا ہے، آجائیے!“
اور اسی طرح کی بہت سی باتیں۔ مگر اب کوئی جملہ، کوئی نگاہ، کوئی انداز ایسا نہیں ہوتا تھا کہ میرے دل میں انجانی مسرت ہلکورے لینے لگے۔ مجھے اب یہی لگتا تھا کہ اگر میں مرنے لگوں تو مجھے بس اتنی فکر ہوگی کہ میرے بعد اس کے لیے کھانا کون بنائے گا، کپڑے کون الماری میں سنبھال کر رکھے گا، اس کے چھوٹے بڑے سارے کام کون کرے گا۔

میرا سنگھار کا سامان پرانا ہو گیا ہے۔ میرا دل بھی نہیں چاہتا استعمال کرنے کو۔ وہ کہتی ہے کہ ایسے رنگ نہ لگایا کریں۔ اس چیز کا فیشن نہیں ہے۔ آپ کو آئی لائینر لگانا بھی نہیں آتا۔ میرے کپڑے بھی بس عام سے ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہے اب میری عمر زیادہ ہو رہی ہے، اور مجھے فیشن کا بھی زیادہ پتہ نہیں۔ میں اس کے جاننے والوں کے سامنے بھی چپ ہی رہتی ہوں کہ مجھے زمانے کا علم ہی نہیں۔ کہیں کچھ ایسا نہ بول دوں کہ اس کو شرمندہ ہونا پڑے۔ اس کی سہیلیاں آتی ہیں تو لذیذ کھانوں سے بس میں میز سجا دیتی ہوں۔ وہ کھلکھلاتے ہوئے میرے کھانوں کی تعریفیں بھی کرتی جاتی ہیں۔ یہی وہ واحد لمحہ ہوتا ہے جب میں اس کی آنکھوں میں اپنے لیے ایک فخریہ تاثر دیکھتی ہوں۔ اسی لیے تو اس کی سہیلیوں کے آنے کا سن کر خوش ہو جاتی ہوں اور خوب اہتمام کرتی ہوں۔

آج بھی سب آئی ہوئی ہیں۔ امتحانات کے بعد ملی ہیں، اس لیے خوب ریلیکس ہیں۔ میں نے بھی بہت سی نئی ترکیبیں ٹی وی سے سیکھ کر نت نئے کھانے بنادیے۔ سب میری تعریفیں کر رہی تھیں اور میں اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ ایک فخریہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے موبائل سے کھیلتی ہوئی۔ سامعہ نے ہنستے ہوئے کہا ”اس کو دیکھو، ہم اس کی امی کی تعریفیں کر رہے ہیں اور محترمہ فون سے لگی ہوئی ہیں!“

نوشین، جو بہت ہی نرم دل اور معصوم سی تھی، ایک دم سے صوفے سے اٹھ کر میرے پاس آکھڑی ہوئی۔ ”آنٹی! کل مدرز ڈے تھا، اور مدرز ڈے پر آپ کی صاحبزادی نے آپ کے لیے کتنا خوبصورت پیغام لکھا تھا! آپ نے دیکھا؟“ میرے دل میں کچھ عجیب سی اتھل پتھل ہونے لگی۔ ”میرے لیے؟ خوبصورت پیغام؟ کیا لکھا؟ ارے کہیں برا نہ مان جائے کہ نوشین نے سب کے سامنے ایسا کیوں کہہ دیا؟ اگر میں یہ کہہ دوں کہ مجھے نہیں پتہ تو بھی کہیں ناراض نہ ہو جائے، ذرا میں بھی پڑھوں کہ اس نے کیا لکھا۔“ میں اس قدر گڑبڑا گئی کہ کچھ کہہ بھی نہ سکی۔ نوشین جلدی سے اپنا فون ٹٹولنے لگی۔ اتنے میں سدرہ نے اپنا فون میرے سامنے کر دیا۔ وہ سب ہی آپس میں باتیں کیے جارہی تھیں اور میرے دل میں برسوں بعد ویسی ہی لہریں اٹھ رہی تھیں، جیسی اس کے اسکول کے پہلےدن چھٹی کے بعد مجھے صدر دروازے پر دیکھ کر بے تابی سے میرے گلے لگ کر بسورنے اور شکوے کرنے پر اٹھی تھیں۔ سکرین پر رنگین تتلیاں تھیں، پھول تھے، بادل تھے اور اس سارے پس منظر میں ایک ننھی بچی کی تصویر تھی، جو اپنی ماں سے لپٹی ہوئی تھی۔ کچھ مانوس سے ننھے ننھے سرخ دلوں کے بیچ شاید ”لوو یو مام“ ہی لکھا تھا۔ ”شاید“ اس لیے کہتی ہوں کہ میری آنکھوں پر اچانک ہی پانی نے ایک پردہ سا تان دیا تھا، جس کی وجہ سے الفاظ پڑھے نہیں جا رہے تھے۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنے ہی حلق میں بھر آنے والے پانی میں ڈوب رہی ہوں۔ مجھے نہیں پتہ کہ ایسا کیا ہوا کہ وہ سب ایک ساتھ بولنے لگیں ”آآآآآ !! آنٹی رو رہی ہیں!!، ہاؤؤ سویٹ!! یور مم لووز یو آلاٹ!! سی ہاؤ ہارٹ فیلٹ یور میسج واز!!، ہیپی مدرز ڈے!!“

اور اس شور کے بیچ جب وہ آ کر میرے گلے سے لگ گئی تو مجھے لگا کہ ایک ٹھنڈی ٹھنڈی نرم نرم دھند نے مجھے اپنے گھیرے میں لے لیا ہو۔ اور میں آنکھیں موندے گیلی گھاس پر لیٹ گئی ہوں۔ بارش سی ہونے لگی تھی اور میں محبت کی اس سہانی پھوار میں کچھ دیر بھیگتی رہی۔ پھر میں بیٹھک کے دروازے کے پاس برآمدے میں پڑی کرسی پر ٹک گئی۔ محبت کی سوندھی سوندھی خوشبو اب تک میرے گرد پھیلی ہوئی تھی۔ اس بارش نے میرے مردہ دل کو پھر سے زندگی بخش دی۔ میرے وجود میں مسرت کی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔

میرا وجود برآمدے میں تھا مگر میرے کان بیٹھک سے آتی آوازوں پر لگے تھے۔
”یار! سنا تھا کل سحرش کیا کہہ رہی تھی؟ تم عائشہ خان لگتی ہو!“
میرے دل کی مردہ زمین پر برسنے والے اس بادل کی آواز آئی
”کوئی نہیں! خواہ مخواہ! یہ ہر ایک کو اسی طرح اونگا بونگا سا ملا دیتی ہے۔“
میرا دل دھڑکا، وہ چھوٹی سی دو پونی ٹیلز بنائے، میرا دوپٹہ اوڑھے اور میری سینڈلوں میں اپنے ننھے ننھے پاؤں ڈالے سٹر سٹر چلتی آتی ہے اور مجھ سے کہتی ہے،
”دیکھیں! میں بالکل آپ کی طرح لگ رہی ہوں نا؟“
میرا پورا وجود کان بن گیا۔ وہ کہہ رہی تھی۔
”میری شکل تو ماہرہ خان سے ملتی ہے۔ اگر رنگ ذرا دبتا ہوا نہ ہوتا تو تم لوگ دیکھتیں! اصل میں میری امی کا رنگ کافی سانولا ہے نا۔ ورنہ میرے ابو کا ناک نقشہ بہت اچھا ہے۔ اگر رنگ اور گورا ہوتا نا تو بالکل ماہرہ خان لگتی! نوشین نے بھی تو میری پچھلی ڈی پی پر یہی کومنٹ کیا تھا؟ ہے نا نوشین! میں نے پک ذرا برائٹ رکھی تھی۔“
وہ مستقبل کے منصوبے بنا رہی تھیں اور وہ کہہ رہی تھی۔
”میں چاہتی ہوں کہ میں مس گل ناز کی طرح بنوں۔ انہی کی طرح باوقار اور پراعتماد۔ انہی کی طرح خوبصورت باتیں کروں۔“
”یار ! ہزبینڈ کے ساتھ انڈر اسٹینڈنگ بھی ہونی چاہیے، اور بندے کو ذرا رومینٹک اور ایکسپریسوو بھی ہونا چاہیے۔ لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ سٹائلش ہوں، اچھی طرح تیار ویار ہو کر رہیں۔ کوکنگ ووکنگ کا کیا ہے؟ اتنی ریسیپیز ملتی ہیں، بندہ کچھ بنا ہی لے گا۔ مگر اتنا انٹرسٹنگ اور اٹریکٹو بھی ہونا چاہیے کہ ہزبینڈ کو ساتھ رہنا اچھا لگے۔“

مجھے لگ رہا ہے کہ میرا بدن بارش میں بھیگ گیا ہے مگر میرا حلق پیاس سے تڑخ رہا ہے۔

اس کے دل و ذہن میں بنی ڈھیر ساری تصویروں میں میری بس وہی ایک چھوٹی سی تصویر تھی جو اس نے برسوں بعد مدرز ڈے کے پیغام کے ساتھ اپنی فیس بک پر پوسٹ کی تھی۔

Comments

FB Login Required

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

Protected by WP Anti Spam