برائی کو برائی نہ کہنا پرہیزگار کو گالی ہے – ابن حجر

کچھ دیسی لبرل ازم سے متاثر دوستوں کو اعتراض ہے کہ قندیل بلوچ کے مرنے بعد گڑے مردے نہ اکھاڑے جائیں اور اس کے کاموں کو برے الفاظ سے نہ یاد کیا جائے.

ہمارا سوال ہے:
قندیل بلوچ کی گزری ہوئی زندگی کو ہم نے موضوع بنایا یا آپ لوگوں نے؟ گڑے مردے ہم نے اکھاڑے یا آپ لوگوں نے؟
جب تم اس کی گزری زندگی پر فلم بنا کر اس کو وہ بنا کر پیش کرو کہ جو وہ نہیں تھی، اور لوگوں کی نظروں میں اس کو آئیڈیل بنا کر پیش کرو تو ہم اف بھی نہ کریں؟ اور تصحیح بھی نہ کریں کہ اصل میں تو اس کی زندگی ایسی نہیں بلکہ ”ویسی“ تھی؟
اگر کوئی بیروزگاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر ڈاکو بن جائے اور پھر ڈاکے ڈالتا ہوا مارا جائے ، تو کیا اس کو اس وجہ سے ڈاکو نہیں کہیں گے کہ وہ بیروزگار تھا؟ اور چونکہ وہ مر چکا تو اس کو اب صالح اور مؤمن بنا کر پیش کریں گے؟

دیسی لبرلز کا مؤقف ہے کہ قندیل ایک مظلوم عورت تھی،
شاید ہوگی مظلوم بھی، لیکن سوال یہ ہے کہ:
قندیل کی مشہوری کی وجہ کیا تھی؟ کیا مشہوری کی وجہ مظلومیت تھی؟
قندیل معصوم و مظلوم تھی تو مظلوم تو اس ملک میں لاکھوں کروڑوں ہیں، ایک قندیل ہی کو کیوں موضوع بنایا جائے؟ کیونکہ وہ مشہور تھی؟ اور اس کی وجہ مشہوری وہ کام تھا جو آپ لوگ اپنی ماں بہن بیٹی بیوی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے؟ ____ تو پھر دوسروں پر اعتراض کیوں؟
اس موضوع پر برادر ریاض علی خٹک نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا:
”ہمارا اعتراض وہ سوچ ہے جو فوزیہ عظیم کو قندیل بلوچ بناتی ہے. آپ نے قندیل بلوچ کو اپنا پرچم بنالیا، اسے گلوریفائی کر رہے ہیں، جبکہ ہم فوزیہ عظیم کی اپنی پہچان کھونے کی فکر کر رہے ہیں کہ اور کوئی فوزیہ قندیل نہ بنے. ہمارے لیے فوزیہ پاکیزہ اور قندیل کی پہچان فاحشہ ہے.“

اصل بات یہی ہے کہ قندیل کا جو کام اس کی شہرت کی وجہ بنا، وہ گندا اور فحش تھا، اور جو لوگ اس کی پوسٹس کر کے اور اس کے بارے میں بتا بتا کر اس کی شہرت کی وجہ بنے، وہ سب پراگندہ ذہنیت کے مالک لوگ تھے جو hypocrisy یعنی نفاق کا شکار تھے، یہ وہ لوگ تھے جو اپنی ماؤں بہنوں کے بارے میں تو بڑے غیرت مند بنے پھرتے تھے لیکن قندیل کی فحش ویڈیوز اور اس کے بارے میں چٹخارے دار پوسٹس کرتے ہوئے ان کی حالت کچھ اور ہو جاتی تھی، دلال تو پھر پیسوں کے لیے فحاشی پھیلاتے ہیں، لیکن یہ عجب لوگ تھے جو مفت میں ہی فحاشی پھیلا کے خوش ہو رہتے تھے؟

اب ایک بات آپ لکھ کر رکھ لیں!
کسی برائی کو برا نہ کہنا، اور کسی برائی کے عامل کو برا نہ کہنا اصل میں اس برائی سے بچ رہنے والوں کو گالی دینے کے مترادف ہے، کیونکہ آپ نے ان سب کو برابر لا کھڑا کر دیا ہے.
ان دیسی لبرلز کی شدید خواہش ہے کہ تمام فاحشاؤں کی ”عزت“ بچ جائے، چاہے اس کے لیے تمام اپنے نفس پر شدید مشقّت کر کر کے مختلف طرح کی اذیّتیں برداشت کرنے والے صالحین کی پرہیزگاری و پاکبازی کو گالی ہی کیوں نہ دینی پڑے، اور چاہے بدکرداری اور پاکدامنی میں فرق ہی کیوں نہ ختم ہو جائے.
یعنی ان دیسی لبرلز کی نظر میں ایک فاحشہ کی ”حرمت“، بدکرداری اور پاکدامنی میں فرق سے زیادہ مقدّس ٹھہری ہے!

Comments

FB Login Required

ابن حجر

ابن حجر پیشہ کے لحاظ سے انجنیئر ہیں۔ سوشل میڈیا اور کرنٹ افیئر پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سچ کے نام سے فیس بک پیج چلاتے ہیں۔ دلیل کےلیے مستقل لکھیں گے

Protected by WP Anti Spam