میری ماں - زینی سحر

جمعہ کی شب موسم بہت خوبصورت تھا، ہلکی بارش کے بعد، ٹھنڈی میٹھی ہوا چل رہی تھی، چاند بھی اپنے جوبن پر تھا. ایسےحسین موسم میں یا تو بندہ شادی کر لے یا پھر مر جائے. شادی کے لیے ایک عدد بندہ درکار ہوتا ہے جو فوری میسر نہ تھا، اس لیے ہم نے مرنے کا پروگرام بنا لیا.

ہماری قسمت کی خرابی دیکھیے کہ اس کو بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے. چونکہ موسم کو انجوائے کرنے کے لیے میں اور اماں صحن میں سوئے ہوے تھے. ‫ہم نے بہت کوشش کی کہ چپکے سے مر جاتے ہیں اور اماں کو خبر نہ ہونے دیں لیکن اے ہماری برادشت کہ جواب دے گئی، اور ہمارے منہ شریف کہنے سے تو اب رہی. جو منہ خاموشی سے مر نہ سکے، وہ شریف کیسے ہو سکتا ہے.

اماں جی! نکل گیا منہ سے، پھر کیا تھا؟ اماں اٹھا کر بيٹھ گئیں. پوچھنے لگیں کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کچھ نہیں، بس ذرا سا پیٹ میں درد ہے، آپ سو جائیں. اب ہم اپنے پروگرام سے آگاہی تو اماں کو دے نہیں سکتے تھے، انہیں سلانے کی تھپکی دی لیکن وہ اماں ہی کیا جو سو جائے. اماں نے ہمارے چہرے پہ ہاتھ پھیرا تو وہ انہیں پسینے میں بھیگا ٹھنڈا ٹھار لگا، اماں جلدی سے پاؤں کی طرف ہاتھ لے کر گئيں، ہم نے احتیاطا پاؤں پیچھے کر لیے. لیکن اسی دوران چھوٹا بھائی بھی جاگ گیا اور ہمارے ہاتھ پاؤں دیکھنے لگا جو کہ مکمل ٹھنڈے پڑ چکے تھے. اب کیا تھا؟ پورے گھر میں زلزلہ آ گیا. چلو ہسپتال چلتے ہیں. بھائی گاڑی والے کو فون کرنے لگے، ایک نے ہاتھ پکڑ لیے، ایک پاؤں کی مالش کر رہا ہے. اب سب کو ایسے دیکھا تو ہم نے سوچا، پروگرام کینسل کر دیتے ہیں. ہم نے دو چار جوک مار کر سب کو سلانے کی کوشش کی. لیکن کوئی ٹس سے مس نہ ہوا. پھر ہم نے چھوٹے کو غصہ دکھایا اور کہا جاؤ سو جاؤ، ہر وقت تم لوگ میری چوکیداری کرتے رہتے ہو، اتنی باتیں سنا کے بھی میں نے دیکھا کہ چھوٹا بھائی جاگ رہا ہے، اسے کہا کہ میرا مرنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں، تم جا کر سو جاو، اور سنو کچھ چیزیں وہاں وہاں پڑی ہوئی ہیں. چونکہ میں گھر والوں کا بنک ہوں، تو سب اپنی اپنی بچت میرے پاس جمح کرواتے ہیں تو وہ میں چھوٹے کو بتانا چاہتی تھی، کہ وہاں وہاں پڑی ہیں. پھر کیا تھا؟ اس نے وہ روناشروع کیا. ایک تو میرے بھائی اتنے کمینے ہیں کہ کوئی راز بھی نہیں رکھ سکتے‫‫‫‫‫‫‫. پھر سارے اکھٹے ہوگئے، ہسپتال چلنا ہے. میں نے کہا مجھے نیند آ رہی ہے، سونے لگی ہوں، جس کو میرے پاس بيٹھنا ہے بیٹھا رہے لیکن ہسپتال میں نے کوئی نہیں جان.ا رات کے تین بج رہے ہیں، میں نے خود دھکے کھانے ہیں نہ تم لوگوں کو کھلوانے ہیں..

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کے ساتھ رحمت اور بچوں کے حقوق - مفتی منیب الرحمن

یہ کہہ کر میں نے چادر منہ پر کر کےسونے کی خوب ایکٹیگ کی، لیکن ماں پوری رات نہیں سوئیں. وہ بار بار میرے چہرے میں ہاتھ پھیرتی رہیں. کبھی میرا ہاتھ پکڑ کر دباتیں، کبھی ماتھے پہ ہاتھ رکھتیں. ماں کے بس میں ہو تو بچوں کی طرف آنے والی قضا کو بھی اپنے اوپر لے لے.

ہم سب بہن بھائی امی سے امی کی طرح ہی پیار کرتے ہیں. اور آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ بھی ماں والا ہی پیار ہے. یہ بتانا تو بھول ہی گئی کہ اماں کے ساتھ میرا دشمن نمبرون بھائی بھی پوری رات جاگتا رہا. جو ہر وقت مجھ سے جھگڑتا ہے. شاید اس ڈر سے کہ یہ مر گئی تو جھگڑوں گا کس سے.

کہتے ہیں رب بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے.
نجانے اس پر کیا گزرتی ہوگی، جب وہ کسی ماں سے اس کا لخت جگر واپس لیتا ہوگا.

شاید دنیا وصل اور وصال کے ہی دو پیمانے ہیں.
کسی کو وصال دے کر کسی کو وصل بخشا جاتا ہے.

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.