دوسرے درجےکا ’شہری‘ تیسرے درجے کا ’انسان‘ - حامد کمال الدین

یہ چند گزارشات فقہائے اسلام کے بعض مقررات پر اصحابِ مورد کے اعتراضات کے سلسلہ میں ہیں، جن میں یہ ’’دار الاسلام‘‘ یا ’’جماعۃ المسلمین‘‘ کے اہل ذمہ کو ’دوسرے درجے کا شہری‘ کہہ کہہ کر چوٹیں فرما رہے ہیں۔ اس کا تھوڑا اندازہ مجھے محترم علی عمران صاحب کی پوسٹیں دیکھ کر ہوا، جن میں وہ فقہائے اسلام کے ڈسکورس پر ہونے والے بعض اعتراضات کا جواب دے رہے ہیں، اللہ ان کو جزائے خیر دے۔

سب سے پہلے وضاحت کر دیں، فقہ اسلامی ایک غیر معمولی ڈائنامزم ہے۔ مختصراً، وہ علمی اپروچ جو کتاب و سنت اور قرونِ اولیٰ کے فہم اسلام کو زمان و مکان کی تمام تبدیلیوں کے علی الرغم لے کر چلنے پر قادر ہے۔ فقہ اسلامی کے کچھ ایسے مطلق ریفرنس ضرور ہیں جو زمان و مکان کی قیود سے بالاتر رہتے ہیں (اور جن کا تیاپانچہ کرنا المورد کا نصب العین نظر آتا ہے)، البتہ یہ ہر قسم کی صورتحال کے ساتھ پورا اترنے میں بھی کمال صلاحیت رکھتی ہے۔ اپنی اس صلاحیت سے کام لے کر، یہ ایک پیچیدہ سے پیچیدہ سیناریو میں اپنے اصل سے پیوستہ رہتے ہوئے سلوشنز solutions کا پورا ایک پیکیج دے سکتی ہے، جیسا کہ یہ فی زمانہ دے چکی ہے۔ اسی کی رُو سے، یہ ’نیشن سٹیٹ‘ اور ’جمہوریت‘ وغیرہ ایسی اشیاء کو اپنے ایک مخصوص سانچے میں لا کر، نہ کہ اس کے بغیر، قبول کرتی ہے، اگرچہ فقہ کے مطلق ریفرینسز میں یہ ’نیشن سٹیٹ‘ یا ’جمہوریت‘ وغیرہ چیزیں نہ بھی ہوں۔ (عین جس طرح ’ملوکیت‘ بھی فقہ اسلامی کے مطلق ریفرینسز میں کبھی موجود نہیں رہی، مگر چونکہ یہ انسانی زندگی کو ایک دن کےلیے بھی معطل نہیں کرتی لہٰذا اُن گزشتہ ادوار کے لیے بھی زمان و مکان کی رعایت سے یہ مسلمانوں کی سیاسی زندگی کو – امکان کی حد میں رہتے ہوئے – اسلام یعنی خدا کی بندگی پر رکھنے کا انتظام کرتی رہی ہے)۔ مختصر یہ کہ ’نیشن سٹیٹ‘ وغیرہ ایسی اشیاء پر ہمارے اصحابِ سنت کے یہاں اگر کوئی اصولی نقد ہوتا ہے تو وہ اپنی جگہ، اور وہ چاہے جتنا بھی ہو، البتہ جہاں تک واقع کا تعلق ہے تو یہاں اِن فقہائے سنت نے اپنی چند جوہری قیود لگانے پر اکتفاء کرتے ہوئے (جس کی کچھ تصویر قراردادِ مقاصد میں آجاتی ہے) ’نیشن سٹیٹ‘ کو نہ صرف اختیار کر لیا ہوا ہے بلکہ اس کی ایک ایسی اچھی قابل عمل تصویر بھی پیش کر دی ہے کہ آپ کے بھارت ایسی ’قابل ذکر جمہوریتیں‘ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ یہاں نیشن سٹیٹ کے ’پورے‘ فارمیٹ کو لے کر چلنے والا بھارت صرف ایک گائے کی قربانی پر ہی آپ کو وہ بھیانک تصویر دکھا دیتا ہے اور جمہوریت کی ماں فرانس صرف ایک عورت کے سکارف کا بوجھ نہ سہہ کر آپ کو اُس لامتناہی دھونس کا اندازہ کروا دیتی ہے جو ’’قراردادِ مقاصد‘‘ پر ایمان رکھنے والے کسی ریاستی عمل میں ان شاء اللہ کبھی ممکن نہیں۔ اس لیے کہ یہ دین خالص رحمت ہے اور ’اہل ذمہ‘ بھی اگر سب سے بڑھ کر کسی کے سائے میں خوش رہ سکتے ہیں تو وہ اسلام ہے جو ہمارے فقہائے اسلام کے بیان و تصنیف کے اندر پیش ہوا۔

کلاسیکل فقہ کے ایک ایک حرف کو اون own کرنے والے دورِ حاضر کے علماء نے یہاں مسلمانوں کی سیاسی زندگی میں جو ایک علمی رہنمائی دے رکھی ہے اور جس کی بنیاد پر پاکستان میں کسی قدر اسلامائزیشن بھی ہو چکی ہے، اور جس کی ایک تصویر آپ کو علماء کی طرف سے، خصوصاً حضرت تقی عثمانی کے ملاحظات سے گزرنے کے بعد پروفیسر مفتی منیب الرحمن صاحب کی جانب سے پیش ہونے والے حالیہ نکات میں بھی نظر آ جاتی ہے... اس ساری فقہی رہنمائی میں دور دور تک کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو یہاں کی کسی اقلیت کےلیے باعثِ تشویش ہو۔ صورتِ موجودہ کےلیے علماء کا بیانیہ، جس کا ایک قابل ذکر حصہ قراردادِ مقاصد میں مجسم materialized ہے، یہاں کی کسی بھی مذہبی کمیونٹی کےلیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کر رہا تو اس کے پیچھے فقہ اسلامی کی وہ صلاحیت ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ اقلیتیں جس قدر یہاں سُکھ سے ہیں، وہ نہ صرف بھارت کی ’حقیقی‘ جمہوریت میں ناپید ہے بلکہ اکثر مغربی ملکوں میں ’اقلیتوں‘ کی روزبروز بڑھتی بےچینی کو سامنے رکھیں، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ معاملہ میں ہم مسلمان اپنے اِس دورِ زوال میں بھی، اور بہت سی کوتاہیوں زیادتیوں کے علی الرغم، پورے جہان سے بہتر ہیں۔ یہ صرف اسلام کا حسن ہے کہ غیر مذاہب آج بھی ہمارے ہاں سُکھ اور چین سے رہ رہے ہیں۔ ورنہ یقین کیجیے، غیر مذاہب اگر ہمارے ہاں اُس سے آدھی پریشانی میں بھی ہوتے جس سے وہ بھارت اور اب تو بعض مغربی ممالک میں گزر رہے ہیں، تو ہمیں غیرمستحکم کرنے کےلیے بھاگ دوڑ کرتی عالمی قوتیں اِن ظلم سہتی اقلیتوں کے نوجوانوں کو ہمارے خلاف اس پُرکاری سے استعمال کرتیں کہ اُن کی بلیک واٹر اور را ہمارے یہاں ’ٹی ٹی پی‘ وغیرہ ایسی ایجادات کی ضرورت مند نہ رہتیں۔

چنانچہ جہاں تک واقع کا تعلق ہے تو میرا نہیں خیال کہ اقلیتوں کو یہاں وہ مسئلے پیش تک آئے ہوں جن کا محترم علی عمران و دیگر اصحابِ علم نے جواب دینے کی ضرورت جانی۔ (گو اپنی جگہ وہ نہایت زبردست جواب ہیں)۔ جس ملک میں ایک ہندو اور ایک عیسائی ’’چیف جسٹس سپریم کورٹ‘‘ کی کرسی پر رونق افروز رہ چکا ہو، وہاں کب یہ متصور ہے کہ عدالت میں کسی ہندو یا عیسائی کی شہادت رد کی جائے!؟ اب یہ ایک الگ بات ہے کہ کلاسیکل فقہ کو اون کرنے والے علمائے وقت نے ایسے کن کن امور کے لیے باقاعدہ گنجائش دی ہے اور کون کون سے امور ان علماء کے گنجائش دیے بغیر رائج ہوئے ہیں۔ اس پر علیحدہ گفتگو ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر ان علماء نے ایک ’’دی ہوئی صورتحال‘‘ میں اپنے وسیع تر اتفاقِ رائے سے ایسی کسی بھی بات کی گنجائش دی ہے یا کبھی دیں تو اس کے پیچھے اسلامی فقہ کا وہ ڈائنامزم ہی ہوگا جو وثیقۂ حدیبیہ میں محمدٌ رسول اللہ لکھا ہوا ہٹا دینا ’’ایک دی گئی صورتحال‘‘ کی رعایت سے باقاعدہ قبول کرتا ہے یا جس کی رُو سے وہ کعبہ کو آج بھی اُسی قریش اور حجاج بن یوسف والے نقشے پر لے کر چل رہا ہے باوجودیکہ حدیثِ عائشہؓ میں اس کا اصولی یا کتابی حکم تھوڑا مختلف پاتا ہے۔ موٹی بات اس میں یہی ہے کہ فقہ اسلامی کے کچھ مطلق حوالے ہیں جو ایک ’’دی ہوئی صورتحال‘‘ سے بےنیاز ہوتے ہیں اور جن کا اصل محل فقہ اسلامی کا اپنا مطلوبہ مثالی معاشرہ اور اختیارات ہوتے ہیں، اور جس کا فیصلہ اس کے اپنے فقہاء ہی کو کرنا ہوتا ہے کہ کب، کہاں اور کس حد تک اسے جامۂ عمل پہنانے کی کوئی صورت ہے اور کب، کہاں اور کس حد تک اس کے معارض کسی فیکٹر کو وزن دینا ضروری۔ البتہ کچھ امور ’’مطلق‘‘ نہیں بلکہ ایک ’’دی ہوئی صورتحال‘‘ کے ساتھ معاملہ کرتے وقت فقہاء کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ بےشک یہاں بھی وہ ’’مطلق حوالے‘‘ فقہاء کےلیے نشانِ راہ ہوتے ہیں لیکن بہت سے مُعارض آجانے کے باعث معاملے کو اُس ’کتابی‘ انداز سے مختلف لے لیا جاتا ہے۔ اِسی بات کو واضح کرتے ہوئے ابن تیمیہ کہتے ہیں: خیر اور شر کا ایک مطلق یا اصولی علم ’’فقہ‘‘ کی بہت اعلیٰ سطح نہیں؛ اصل گھمسان ہوتا ہے جہاں آپ کو تعین کرنا ہو کہ دو خیروں میں سے کون سی بات خیر کہلائے اور دو شروں میں سے کون سی بات شر۔ اصل فقیہ ہم اسے کہیں گے جو یہ صلاحیت رکھے۔ یہی وہ چیز ہے جسے ہم نے اپنے الفاظ میں ’’ایک دی ہوئی صورتحال سے معاملہ کرنا‘‘ کہا ہے اور جس میں فقہ کے مطلق حوالوں سے ہٹ کر ایک اپروچ درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ سیاسی فقہ کے وہ مطلق یا کتابی حوالے اپنی جگہ ضروری رہتے ہیں اور یہ واقعاتی اعتبارات اپنی جگہ۔ دونوں چیزیں ہمارے ہاں بیک وقت رہیں گی؛ کیونکہ ہماری فقہ نے ہزارہا زمانوں کے ساتھ معاملہ کرنا ہوتا ہے اور ہر بدلتے سماجی سیناریو پر The End of History کے سٹکر لگا لگا کر آگے نہیں بڑھنا ہوتا۔

بنابریں، المورد یا کسی اور کا مطالبہ اگر یہ ہے کہ ہماری کلاسیکل فقہ کے نمائندہ علماء یہاں کی سیاسی زندگی میں درپیش فلاں اور فلاں الجھن کا حل کر کے دیں، تو یہ ایک جائز مطالبہ ہے جس پر وہ علماء کو ہرگز اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے پیچھے نہ پائیں گے۔ مزے کی بات، یہاں المورد کسی ایک بھی چیز کی نشاندہی نہیں کر سکتا جس میں علماء کا فتویٰ یہاں کی سیاسی زندگی میں کوئی تعطل پیدا کرا رہا ہو یا جس سے یہاں کا کوئی اقلیتی گروہ (سوائے قادیانیوں کے، جوکہ ایک الگ کیس ہے) کسی تنگی یا پریشانی میں مبتلا ہو۔ یہاں چیف جسٹس سپریم کورٹ کی کرسی پر ایک ہندو یا عیسائی کا ہونا بھی ہمارے اِن علماء نے قبول تو کیا ہوگا، مخالفت کی بات شاید ہی کہیں دکھائی جا سکے۔ حتیٰ کہ اس سے بڑھ کر باتوں پر علماء چھوٹ دیتے آئے ہیں۔ یعنی ایک ’’دی ہوئی صورتحال‘‘ میں وہ سب نرمی اور لچک علماء پہلے سے دے رہے ہیں جس کے ہوتے ہوئے المورد شاید کوئی نئی بات تک نہیں کر سکتا۔ پس جہاں تک تو ہے واقعاتی عمل کا تعلق، کلاسیکل علماء کے فتاویٰ میں یہاں سرے سے کوئی سختی نہیں۔ پھر بھی اگر کسی سختی یا دشواری کی نشاندہی المورد فرما سکے تو علماء کو اسے دور کرنے میں ہرگز متردد نہ پائے گا۔ البتہ رہے گا یہ سب کچھ ’’دی گئی صورتحال کے باب سے‘‘ جس پر المورد کی کبھی تسلی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کی لڑائی فی الحقیقت کسی ’اور‘ چیز کے ساتھ ہے۔

غور کیجیے تو اِس ’’دی گئی صورتحال‘‘ کی کوئی حقیقی الجھن دور کرنا سرے سے المورد کا مسئلہ نظر نہیں آتا۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے، کوئی الجھن یہاں ایسی ہے ہی نہیں جس کےلیے ہمارے کلاسیکل علماء نرمی اور آسانی کرنے پر آمادہ نہ ہوں۔ اِس اعتبار سے؛ نہ یہاں کوئی مسئلہ ہے جسے ہمارے علماء کی ’ضد‘ یا ’سختی‘ نے لا ینحل کر رکھا ہو تاآنکہ اُس ’سختی‘ کے ازالہ کے لیے المورد کی ضرورت آ پڑی ہو۔ اور نہ المورد کو یہاں کوئی ایسا مسئلہ حل کرنے کی پریشانی۔ (ظاہر ہے جب مسئلہ پایا نہیں گیا تو اس کےلیے ’پریشانی‘ ہو کیسے سکتی ہے؟)۔

’’دی گئی صورتحال‘‘ سے یہاں المورد کو صرف اتنا ہی سروکار ہے کہ اس کے پریشر کو میڈیائی ایفیکٹس کے ساتھ استعمال کر کے کلاسیکل فقہ اور فقہاء پر چڑھائی کر دے۔ جنگ اصل میں وہاں پر ہے۔ (یہاں کے کسی مسئلہ کا حل البتہ اگر المورد کے پیش نظر ہو، تو یقین سے کہا جا سکتا ہے، علماء کے ساتھ اتفاقِ رائے پلک جھپکتے میں سامنے آ جائے گا۔ کم از کم ایک مکالمہ ضرور ہو سکتا ہے۔ وجہ وہی۔ ’’دی گئی صورتحال‘‘ کے حوالہ سے اس کے اور علماء کے مابین اول تو کوئی بڑا فرق نہیں۔ اور اگر ہو تو اس پر نقطہ ہائےنظر قریب کرنا چنداں مشکل نہیں بشرطیکہ مقصود یہی ہو)۔ تاہم المورد کا اصل مسئلہ اگر علماء کو ان کی فقہ اور اس کے تاریخی مقررات سے تائب کروانا ہے؛ اور اسی ایک مقصد کےلیے میڈیائی لٹھ ہاتھ میں پکڑ رکھی گئی ہے، تو پھر معاملہ اور ہے! یا یوں کہیے، پھر معاملے کا حل واقعتاً کہیں نہیں ہے چاہے وقتی طور پر آپ پورا دینِ اکبری لے آئیں (یہ دین اکبری کا واقعہ صرف پرانے زمانے میں نہیں، آج بھی ترکی میں پیش آ کر اور اس پر اپنا ریورس گیئر لگا کر آپ کو دکھا چکا ہے)۔ کسی کا اگر خیال ہے کہ اس صورتحال کا موقع پا کر علماء کو ناکوں لکیریں نکلوائی جا سکتی ہیں کہ یہ جس فقہ کو اون کرتے ہیں، اس میں کبھی بھی وہ بات کیوں آئی جو ’ماڈرن سٹیٹ‘ کی شریعت میں فٹ آنے والی نہ تھی، لہٰذا فی الفور یہ سب علماء اپنی اُس فقہ اور اُس کے مقررات سے براءت نامے اور مچلکے جمع کروانا شروع کریں، تو وہ ایک بڑی غلط فہمی میں ہے۔ قوم کا ’اصل مسئلہ‘ جس کی المورد بار بار نشان دہی فرما رہا ہے اور جس کی سمجھ گویا باہر مکتب استشراق کو تھی یا اب یہاں اشراق کو ہے، اور جس میں بڑے لطیف پیرایوں کے اندر توجہ دلائی جا رہی ہے کہ وہ سب ڈرون اور ڈیزی کٹر اگر ’غلط جگہوں‘ پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اِس ایک ’صحیح جگہ‘ پر جا پہنچیں تو یہ بلا تاخیر حل ہو سکتا ہے، سب پر عیاں ہے! غرض ہماری فقہ کے وہ مطلق اور کتابی حوالے اصل میں المورد کا ہدف ہیں، جس کےلیے صورتِ موجودہ اور اس کی ہولناکی کا صرف ایک اچھا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہم کہتے ہیں فقہ اور فقہاء کا معاملہ آپ اِن علماء پر چھوڑ دیں جو بہتر جانتے ہیں کہ یہ اپنی فقہ اور فقہاء کے حوالے کس طرح لیں۔ اِن کی فقہ میں ’’کتابی علم‘‘ اور ’’دی گئی صورتحال کے ساتھ معاملہ کرنے‘‘ میں جو ایک فرق ہے، وہ اللہ کے فضل سے انہیں پیچیدہ سے پیچیدہ صورتحال میں راہ نمائی دینے کی قابلیت عطا کرتا ہے۔ اور یہ راہ نمائی یہ علماء قیام پاکستان سے لے کر آج تک بلا تعطل دے رہے ہیں؛ جس کی بدولت پاکستان آپ کے پڑوس کے تمام جمہوری و غیر جمہوری ممالک کی نسبت اقلیتوں کےلیے ایک جنت ہے۔ کوئی مسئلہ یہاں ہے تو اس کی وجہ ہرگز کوئی فقہی الجھن نہ ہوگی بلکہ کوئی انتظامی یا پروسیجرل ہوگی جس کی ذمہ داری ہمارے علماء اور فقہ پر عائد نہیں ہوتی۔ ایسے بہت سے انتظامی یا پروسیجرل مصائب اقلیتوں سے پہلے یہاں کی مسلم اکثریت جھیل رہی ہے جو برسر اقتدار طبقے کی بےحسی و نااہلی کے باعث مرنے کے قریب جا پہنچی۔ پھر بھی اگر یہاں کی کسی تکلیف دہ صورتحال پر درد ہے اور اس کا تعلق علماء سے ہے تو علماء کا محاکمہ آپ اُن فتاویٰ کی روشنی میں کریں جو انہوں نے کسی ’’دی ہوئی صورتحال‘‘ کی مناسبت سے دے رکھے ہیں اور اس میں تجویز کریں کہ فلاں فتویٰ کی عبارت یوں نہیں یوں ہونی چاہیے یا فلاں فتویٰ کا مضمون یوں نہیں یوں ہونا چاہیے۔ ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں، المورد اول تو ایسی کسی بات کی نشاندہی کر نہیں سکتا جس کا تعلق یہاں اقلیتوں کو درپیش مسائل سے ہو، اور اس کی وجہ علماء کا کوئی فتویٰ ہو جو انہوں نے ’’دی ہوئی صورتحال‘‘ کے لیے صادر کر رکھا ہو یا جو انہیں صادر کرنا چاہیے تھا اور نہ کیا ہو، اور اگر بالفرض ایسی کوئی نشاندہی کر دے تو علماء اس ’’دی ہوئی صورتحال‘‘ کےلیے ایک آسان ترین حل پیش کرنے میں تاخیر یا پس و پیش کرنے والے ہوں۔ البتہ اگر اس کا مقصد ’’دی گئی صورتحال‘‘ کےلیے علماء سے فتویٰ لینا نہیں بلکہ فقہی جہت سے علماء کی کوئی ’دیرپا‘ اصلاح ہے اور جھگڑا اس ’’فقہ‘‘ کے اندر کچھ دائمی حذف و اضافہ deletions & additions کروانے پر ہے، اور خاص اس مقصد کےلیے حالیہ عالمی لہجوں اور مقامی بحرانوں کا ایک لیوریج leverage استعمال کیا جا رہا ہے تو پھر یہ اپنی حقیقت میں مکتبِ استشراق Orientalists’ desk کی وہ غیر اختتام پذیر جنگ ہے جو وہ ہمارے علمی و فقہی ورثے کے خلاف پچھلے دو سو سال سے لڑ رہا ہے؛ اور اُس کو ہم بہرحال اسی طرح لیں گے جس طرح دو سو سال سے لیتے آ رہے ہیں۔

غرض ’’کتابی علم‘‘ اور ’’دی گئی صورتحال میں راہنمائی‘‘ کے مابین جو ایک فرق ہمارے مین سٹریم علماء کے ہاں پیش نظر رہتا ہے، اس ایک قاعدہ کو اگر سمجھ لیا جائے تو ہمارے اِن علماء کے بیانیہ سے متعلق ہر اشکال رفع ہو جاتا ہے۔ اور اگر پھر بھی کچھ باقی ہو تو ’’صورتِ موجودہ‘‘ سے متعلق مزید کسی نرمی یا آسانی پر مبنی فتویٰ کا تقاضا علماء سے کیا جا سکتا ہے، جسے علماء اگر اپنے علمی اصول کے تحت مناسب سمجھیں تو ’’کتابی علم‘‘ اُس کے صادر کرنے میں انہیں مانع نہ ہوگا۔ بلکہ اس ’’کتابی علم‘‘ ہی کے بہت سے اجزاء تب اِن علماء کی پشت پر ہوں گے، اگرچہ کوئی شدت پسند انہیں سمجھنے سے قاصر رہے۔ (وجہ صرف یہ کہ فقہ کے ’’کتابی علم‘‘ کی وسعت سے نہ ٹی ٹی پی وغیرہ عقول آشنا ہیں اور نہ المورد)۔

نہایت واضح ہونا چاہیے، فقہ اسلامی کے ’’کتابی علم‘‘ میں صرف ایک ’خلافت‘، یا ’دارالاسلام‘ یا ’احکامِ اھل الذمۃ‘ نہیں بہت کچھ ہے، اور کسی پیچیدہ سے پیچیدہ اور دشوار سے دشوار سماجی سرزمین پر اسلامی تعمیرات اٹھانے کی بنیادیں یہاں پوری طرح پڑی ہیں۔ فقہ کی یہ وسعت پیمائی یہاں ٹی ٹی پی کا بس ہے نہ المورد کا۔ ایک ہنگامی صورتحال میں یہ ہے بھی بہت مشکل کہ ہر دو فریق کو فقہ اسلامی کے اس ’’کتابی علم‘‘ کی وسعتیں ان کی ’تسلی‘ کی حد تک ذہن نشین کروائی جائیں۔ اس کا سادہ حل ہمارے اِن علماء و فقہاء کے پاس وہی ہے جو ایک ہنگامی حالت میں ڈاکٹر کے پاس ہوتا ہے: وہ آپ کو علم طب کی نصابی تفصیلات میں لے جانے اور اس کی ایک ایک بات میں آپ کی ’تسلی‘ کروانے کے بجائے ’’دی گئی صورتحال‘‘ میں ایک نسخہ prescription دیتا ہے اور صرف اس میں کوئی دِقت اگر آپ بتائیں تو اسے ڈسکس کرنے اور اس سے متعلقہ آپ کی دشواری دور کرنے میں آخری حد تک جاتا ہے؛ البتہ علمِ طب کی نصابی تفصیلات کو یہاں موضوع بننے نہیں دیتا۔ وجہ وہی کہ ’’علم‘‘ اور ’’نسخے‘‘ میں ایک فرق ہے۔ ’’علم‘‘ کا بہت کچھ تعلق ’’نسخے‘‘ سے یقیناً ہے اور ’’نسخے‘‘ کی تمام بنیادیں ’’علم‘‘ میں یقیناً پڑی ہوتی ہیں، پھر بھی یہ دونوں چیزیں ہیں الگ الگ۔ ’’فارمیسی‘‘ میں بھلا کیا کچھ نہیں ہوتا، دیکھنا تو یہ ہوتا ہے کہ ’’نسخہ‘‘ میں کیا تجویز کیا گیا ہے۔ اور اگر ضد یہ ہو کہ ’’کتابی علم‘‘ کا جو بھی صفحہ کسی شدت پسند یا جدت پسند سے کھل گیا ہے یا ’’فارمیسی‘‘ کی جس بھی چیز پر اس کا ہاتھ پڑ گیا ہے، اُسی کو ’’نسخہ‘‘ مانا جائے اور اگر یہ منظور نہیں تو اسے ’’کتاب‘‘ یا ’’فارمیسی‘‘ سے نکال کر ڈسٹ بن میں پھینکنے کا مطالبہ پورے زور کے ساتھ وہ شدت پسند بھی کر رہا ہو اور یہ جدت پسند بھی، تو یہ کام کوئی حاذق طبیب نہیں ایک عطائی ہی کر سکتا ہے۔ اور یہ تو معلوم ہے کہ معاملے کی جو تبسیط simplification ایک عطائی کے ہاں پائی جاتی ہے اور ایک عامی کو وہ ’پوری دلیل‘ کے ساتھ پلک جھپکتے میں سمجھائی جا سکتی ہے، ایک حاذق طبیب اس سے جھرجھری لیتا ہے۔

ہمارا یہ مقدمہ اگر واضح ہو گیا ہے تو اصحابِ مورد سے ہماری درخواست ہوگی کہ مین سٹریم علماء پر اعتراض میں وہ اپنی بحث کو اس بیانیے تک محدود رکھیں جو خاص ’’دی گئی صورتحال‘‘ میں اِن علماء کی جانب سے پچھلے ستر سال کے دوران کبھی بھی پیش کیا گیا ہے۔ رہ گیا اُس فقہ اور فقہاء کے یہاں کیا کچھ ہے جنہیں یہ علماء اون کرتے ہیں، تو یہ بات آپ اِن علماء پر چھوڑ دیں کیونکہ وہ فقہ ایک وسیع مضمون ہے اور اُس کا بہت کچھ اپنے مناسب حال صورتحال پر چسپاں ہونے کےلیے اس فقہ کے اندر رکھا گیا ہے؛ ضروری نہیں اُس کا بہت کچھ اِس دی گئی صورتحال کےلیے ہو۔ یوں سمجھیے وہ ایک بڑی فارمیسی ہے۔ آپ اُس درد کی نشاندہی فرمائیے جو ’’دی ہوئی صورتحال‘‘ میں علماء کی کھلائی ہوئی کسی دوائی سے پیدا ہو رہی ہے۔ اس ’’نسخے‘‘ کے کسی حصے پر آپ ہاتھ رکھ دیجیے جو پچھلے ستر سال سے اِن علماء نے یہاں کے سیاسی اور سماجی سیناریو کےلیے لکھ کر دیا ہو اور دعویٰ کیجیے کہ اس نسخے کا فلاں حصہ یہاں فلاں درد پیدا کرنے کا موجب ہو رہا ہے۔ ان شاء اللہ آپ یہ نہیں کر سکتے اور اگر کوئی تھوڑی بہت نشاندہی آپ فرما دیں تو علماء کو اس کا مداوا کرنے میں آپ لیٹ نہیں پائیں گے۔ رہ گئی بات کہ اس نسخے کے تو کسی بھی حصے میں آپ وہ چیز نکال کر نہ دکھا سکیں جو یہاں کسی درد کا موجب ہو رہی ہے، البتہ ہاتھ بڑھا کر وہ کتابیں اٹھا لیں جو اِس طبیب کے اپنے ریفرنس کےلیے دھری ہیں، اور پھر اس کے ایک ایک صفحہ کےلیے طبیب سے ’وضاحتیں‘ مانگنا شروع کریں، یا یہ نکتے اٹھانے لگیں کہ اس کتاب کا فلاں اور فلاں صفحہ پڑھ کر کس سرپھرے نے کیا حرکت کی ہے، تو چینلز پر بیٹھ کر بےشک کسی عامی کو آپ یہ باور کرا لیتے ہوں کہ یہ کوئی بڑی علمی بات ہے مگر بہت امکان ہے کہ آپ خود جانتے ہوں کہ یہ خالص مجمع بازی کا ایک عمل ہے۔ فقہ اور فقہاء کو سمجھنے والا ایک سنجیدہ شخص ایسا نہیں کرے گا۔


ہمارے فقہاء کسی بھی دور کےلیے جو ایک قانونی پیکیج دیں گے، اس میں ایک مجموعی توازن اور رحمت ہمیشہ ان کے پیش نظر رہے گی۔ انسانی زندگی کی آسان روی easy flow ہر دور میں ان کے فتاویٰ کی روحِ رواں دکھائی دے گی۔ فقہ کے بہت سے روایتی حوالے وہ آج نہیں لے کر آ رہے تو اس کی وجہ یہ کہ وہ سارے فیکٹر یہاں نہیں پائے جا رہے جو ایک پیکیج کے طور پر اِس کو وہ توازن دے سکے جو اِس کی تاریخی پہچان ہے۔ مجبوریاں اور نارسائیاں جتنی بھی ہوں، اِس توازن، رحمت اور آسائش کی قربانی ہماری فقہ کبھی نہیں دے سکتی۔ اللہ کا شکر ہے آج بھی نہیں دے رہی۔ لطیفے کرنا اور انسانی زندگی کو اجیرن بنانا کبھی اِس سے سرزد نہیں ہوا۔ بےشک یہ کسی دور کی اھواء کو اپنے پیراڈائم میں قبول نہیں کرتی تاہم اُس دور کے مسائل اور ناہمواریوں کی رعایت کرنا بھی یہ کسی وقت نہیں بھولتی۔ یوں ہردور کے سماج کو خدا کی چوکھٹ پر جھکا رکھنے کی ایک اعلیٰ ترین اور قابلِ عمل ترین صورت تشکیل دے کر سامنے لاتی ہے۔ اور اس وجہ سے؛ اِس کا بیانیہ ہر دور اور ہر صورتحال کی مناسبت سے کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔ پس اِس فقہ پر اگر آپ کو لازماً چوٹیں ہی کرنا ہوں تو اِس کے اُس بیانیہ کو لیجئے جو یہ خاص آپ کے دور اور صورتحال کےلیے دے رہی ہو۔ ہاں اُس بیانیہ کا موازنہ آپ اپنے دور کے کسی بھی تہذیبی یا قانونی ضابطے سے کیجئے، ان شاء اللہ یہ اس سے اعلیٰ ثابت ہو کر دکھائے گی خاص طور پر اگر اِس پر عملدرآمد کرنے والے کسی ادنیٰ ترین درجے میں بھی اِس کے ساتھ مخلص ہو کر دکھا دیں۔

اب چونکہ فقہ اسلامی ہر دور میں اپنے پیکیج کے اندر اُس دور کے جملہ عوامل کی رعایت سے ایک اعلیٰ ترین توازن، رحمت اور آسائش دیتی ہے، اس لیے ہم دعویٰ سے کہتے ہیں آج اگر وہ دور اپنے اُن تمام عوامل کے ساتھ واپس آ جائے جس میں فقہ اسلامی اپنی کتب کے اندر مذکور تمام ’’احکامِ اھل الذمۃ‘‘ کو قابلِ تطبیق جانے... تو بجائے اس کے کہ وقت کا انسان اس پر چٹکلے کرے وہ اُس کو رشک اور اعجاب سے دیکھے اور اُُس کے مجموعی توازن اور اُس کے عدل، احسان اور بندہ پروری نیز اُس کے خیرات و برکات پر ہزار انداز سے فریفتہ ہو۔ بلکہ بعید نہیں بدکاری، مادہ پرستی اور خودغرضی کے کھائے اور قدروں اور رشتوں سے اجڑے اِس جہان میں اُس کے یہاں ’’ذمہ‘‘ کی درخواست دینے والوں کی قطاریں آج کی ایمبیسیوں کے آگے ’امیگریشن‘ کےلیے لگنے والی قطاروں سے زیادہ لمبی ہوں۔ اصل چیز وہ مجموعی توازن ہے جو ہماری فقہ کسی بھی دور کے جملہ اخلاقی، تہذیبی اور قانونی ضابطوں سے بڑھ کر فراہم کرتی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے کسی ایک دور کے پورے اسلامی بیانیے کو لیں؛ اور فقہاء کے کسی ایک ماحول کےلیے تشکیل دیے ہوئے پیکیج کو کسی دوسرے ماحول کےلیے تشکیل دیے گئے پیکیج کے ساتھ خلط نہ کریں۔ ہاں البتہ اگر آپ ایک پیکیج package کو اَن پیک unpack کرنے پر آ جائیں اور کسی ایک ڈھیری کی چیز کسی دوسری ڈھیری میں ڈال کر اور پھر اپنی مرضی کے کچھ عجیب عجیب ’سیٹ‘ بنا کر آنے جانے والوں کو دکھائیں تو جس قدر چاہیں لطیفوں سے دل بہلائیں۔

پس چٹکلوں کےلیے بھی ایک ضابطہ ہم نے تجویز کر دیا۔ غلط نہ ہو تو اس کو قبول فرمائیے۔ مضحکہ یا اعتراض کی اصل بات یہ ہو سکتی ہے کہ کسی مخصوص دور کےلیے آپ کا جو ایک بیانیہ ہے خود وہی اُس دور میں کوئی مسائل پیدا کر کے دے اور اُسے آپ درست کرنے کےلیے آمادہ نہ ہوں۔ تو آئیے نیشن سٹیٹ کے اُس پورے اور ’مثالی‘ فارمیٹ کو لے لیتے ہیں جس کےلیے یہاں دُہائیاں دی جا رہی ہیں اور جس پر ایک ’’قراردادِمقاصد‘‘ ایسی قید آجانے پر طبیعتیں گھبرا اٹھتی ہیں ۔ ’دوسرے درجے کا شہری‘ کہہ کر آپ ہماری فقہ یا فقہاء پر جو چوٹ فرما رہے ہیں، اس میں منجملہ دیگر مسائل جن کا اوپر کچھ ذکر ہوا، ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ’شہری‘ citizen کی اصطلاح ہمارے اُن فقہاء کی نہیں جنہوں نے کسی دور میں ’’احکامِ اھل الذمۃ‘‘ کی تطبیق کی ہو۔ یہ وہی ایک ڈھیری کی چیز دوسری ڈھیری میں ڈال کر اپنی طرف سے ایک ’نیا سیٹ‘ بنانے والی بات ہوئی۔ جبکہ اُس ’’مجموعی توازن‘‘ کی بات پیچھے گزر چکی جوکہ ایک تہذیبی پیکیج کے حوالے سے بہت اہم ہوتا ہے؛ اور اُس لحاظ سے آپ کو ہمارے ہر دور کے مجموعی پیکیج کو ہی دیکھنا اور اس کو کسی دوسرے دور کے پیکیج کے ساتھ خلط نہیں کرنا ہوتا۔ البتہ ’شہری‘ کے مقابلے پر ’غیر ملکی‘ کی اصطلاح تو آپ کی اپنی ہے، یعنی یہ دونوں ایک ہی پیکیج کا حصہ ہیں۔ اس کی کچھ تصویر دیکھنے کی ہے:

آپ کی نیشن سٹیٹ والی اِس ’مثالی‘ شریعت میں بنی آدم کی ایک بڑی تعداد اپنے پورے پورے خاندان سمیت تمام زندگی ’غیر ملکی‘ رہتی ہے جہاں اس کو وہ حقوق بھی نہیں جو اُس ’دوسرے درجے کے شہری‘ کو دارالاسلام میں رہے تھے۔ یہ ہم اُس ’غیرملکی‘ کی بات نہیں کر رہے جو کہیں پر چند ماہ یا سال گزارنے جاتا ہے۔ یہ اُن پوری پوری کمیونی ٹیز کا نام ہے جو مختلف ملکوں میں لمبے لمبے عرصے سے ’رہائش پزیر‘ ہیں اور رہنا چاہتی ہیں۔ اور یہ کوئی فرضی بات نہیں، ’’امیگریشن قوانین‘‘ کے تحت دنیا بھر میں ایسے لوگوں کی تعداد کروڑوں اور بعید نہیں ارب تک جا پہنچی ہو جنہیں اِس جہان کے اندر ’شہری‘ کے حقوق بھی حاصل نہیں۔ اور اس کی وجہ: ’امیگریشن‘ کا جدید تصور، یعنی ’نیشن سٹیٹ‘ پیکیج کا جزو لا ینفک۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں پوری پوری زندگی ایک ملک میں گزار لینے کے بعد بھی ایک ابن آدم یہاں ’امیگریشن اتھارٹیز‘ سے چھپتا پھرتا ہے۔ ’’زمین‘‘ اور ’’ابن آدم‘‘ کا وہ آفاقی رشتہ، زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟ ایسی مثالیں آپ کو وافر دی جا سکتی ہیں کہ ایک انسان بہت بچپن میں اپنے والد کے ساتھ ڈی پنڈنٹ ویزہ dependent visa (مانند ایچ ٹو H2 یا جے ٹو J2 وغیرہ) پرامریکہ آیا اور اس کا والد مقررہ وقت کے اندر ’اپنے ملک‘ واپس نہیں جا سکا، جس کے باعث وہ بھی اور اس کے ڈی پنڈنٹ بھی امیگریشن کےلیے ڈِس کوالیفائی ہوئے اور اب رُبع یا نصف صدی پہلے کا وہ ’بچہ‘ جو یہیں پلا بڑھا، یہیں پڑھا اور کھیلا، یہیں کے کسی سٹور یا ورکشاپ یا پٹرول پمپ پر عشروں بھاڑ جھونکتا رہا، اور جو یہاں اپنے آزادانہ فیصلہ سے آیا بھی نہیں تھا، اور جو اپنے باپ کے وطن کی زبان اور کلچر تک اب نہیں جانتا یہاں تک کہ اپنے والد کو بھی اب وہ کھو بیٹھا اور اس کے مرحوم دادا کا دیس اس کےلیے ہر معنیٰ میں اب پردیس ہے، بدستور یہاں ’غیرملکی‘ ہے جس کو جانوروں والے حقوق بھی یہاں مشکل سے حاصل ہیں۔ یہ ابھی امریکہ کی مثال ہے جس کے امیگریشن قوانین اتنے مہربان ضرور ہیں کہ یہاں ولادت پانے والا بچہ یہاں کی سٹیزن شپ پا لے گا یوں کم از کم اس شخص کی اگلی نسل یہاں ’شہری‘ والے حقوق دیکھ لے گی۔ (صرف ایک نسل خوار ہوئی)۔ مگر ایک بہت بڑی تعداد دنیا میں ان ’نیشن سٹیٹس‘ کی ہے جہاں ’غیر ملکی‘ کا بچہ بھی ’غیر ملکی‘ ہوتا ہے، بلکہ پوتا اور پڑپوتا بھی۔ پانچ پانچ نسلوں سے وہ اِسی سرزمین پر پیدا ہوتے آئے، اپنے جد امجد کے دیس کی زبان اور شکل تک سے اب واقف نہیں؛ اور ہیں ’غیرملکی‘۔ ایسے کسی شخص کو کبھی آپ پوچھ کر دیکھیں، بہت امکان ہے یہاں ’شہریت‘ پانے کےلیے اُسے آپ اِس دھرتی کا جو ’کلمہ‘ پڑھانا چاہیں وہ اُسے پڑھنے پر آمادہ اور اُس کی آبائی دھرتی کا جو ’کلمہ‘ آپ اُس سے چھڑوانا چاہیں وہ اسے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے چھوڑنے پر تیار ہو گا (’دھرتی‘ کا لفظ یہاں ہم اس لیے بول رہے ہیں کہ وابستگی کی بنیاد، ہمارے دارالاسلام کے برعکس، اِس نیشن سٹیٹ کے کیس میں دین نہیں دھرتی ہے؛ جوکہ ’دین‘ سے زیادہ مشکل اور مہنگی مل رہی ہے؛ وہ بھی اگر ملے)۔ تاہم اُس کا یہ ارمان کہ وہ اپنی پسند کی اِس ’ملت‘ میں شامل ہو، پورا ہونے کی کوئی صورت میسر نہیں۔ (اور اگر کبھی ہزار پاپڑ بیلنے اور بیسیوں قاعدےضابطے پورے کر لینے کے بعد، اور سب سے بڑھ کر قسمت کی یاوری سے، وہ ناقابل یقین لمحہ زندگی میں آئے جسے امریکہ وغیرہ میں غیرملکیوں کو ’نیچرلائز‘ naturalize کرنا بولتے ہیں، تو ایک باقاعدہ تقریب میں پورے خشوع و خضوع کا ماحول بنا کر اس دھرتی کا ’کلمہ‘ پڑھوانا یہاں پھر بھی نہیں چھوٹتا! یعنی oath taking حلف الیمین! یہ بات ہماری اِس بحث میں بوجوہ نوٹ کرنے کی ہے)۔ غرض ایسے ’غیرملکیوں‘ کی بڑی تعداد یہاں یہ تمنا کرے گی کہ ’کلمہ‘ پڑھنے ایسا کوئی آسان اور کم لاگت آپشن کاش یہاں میسر ہو جس سے اگلے لمحے وہ اِس زمین کے مالکوں میں شمار ہونے لگیں۔ اور اگر ’’ذمہ‘‘ کا آپشن بھی ساتھ ہو جہاں ان کی پہلی وابستگی بھی ختم ہونے کا سوال نہ ہو، تو سونے پر سہاگہ۔ اِس دوسری صورت میں، بھلے وہ اِس ملک کا صدر نہ لگے.. یا معزز مکرم، عدالتوں میں گواہی دینے کےلیے نہ بھی طلب فرمایا جائے، چوہوں کی طرح چھپنے اور بات بےبات دھتکارا جانے سے تو کم از کم جان چھوٹے۔ وہ یہاں انسان کی طرح تو ڈیل ہو۔ جان، مال، رہائش، تعلیم، سفر، کاروبار وغیرہ حقوق تو یہاں محفوط و مامون ہوں۔ اندازہ تو کیجئے بیچارہ نرا اِل لیگل illegal غیرملکی! بہت سے ملکوں میں ایسی پوری پوری کمیونی ٹیز موجود ہیں (اور بعید نہیں تعداد میں ’’اہل ذمہ‘‘ سے بڑھ جائیں) جو جدی پشتی یہاں ’غیر ملکی‘ چلی آتی ہیں اور جو کہ یہاں کے ’شہری‘ کے مقابلے پر تقریباً زیرو حقوق رکھتی ہیں۔ جی ہاں، جدی پشتی نسل در نسل، زیرو حقوق، لاکھوں میں تعداد! اور کسی وقت تو کیمپوں میں ٹھونسے ہوئے۔ (’شہری‘ جو نہیں ہیں)۔ اب یہ ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے جو آپ کے اپنے زمانے میں ہے۔ آپ کے اپنے قبول کردہ نیشن سٹیٹ ’بیانیے‘ کا پیداکردہ ہے۔ کسی اکادکا شخص کے ساتھ نہیں لاکھوں کروڑوں کے ساتھ پیش آیا ہوا ہے۔ کتابوں کے اندر مدفون نہیں ایک ’لائیو‘ ایشو ہے۔

اس سے ہٹ کر بھی آپ نے ایمبیسیوں کے آگے انسانیت کی تذلیل ہوتی کثرت سے دیکھی ہو گی۔ انسانیت کو مختلف سائز کے ڈربوں میں بند کر دیا گیا اور ’’ابن آدم‘‘ کے ’’روئےزمین‘‘ پر آزادانہ چلنے پھرنے اور رشتے ناطے کرنے کا حق ختم کر ڈالا گیا۔ (لیکن چونکہ یہ انسان نیشن سٹیٹ ایسے آسمان سے نازل ’حق‘ پر قربان ہوا، اس لیے کیا پریشانی ہے!)۔ کئی ملکوں میں سرحدوں کے بیچ بھائی ہمیشہ کےلیے بھائی سے کٹ گیا، بہن بہن سے اور ماں بیٹی سے جدا ہو گئی اور یہ فطری خونی رشتے جو ’امیگریشن قوانین‘ کی بےرحم زد میں آئے، عشروں بعد بھی کبھی ملنے کےلیے جوش ماریں اور ایمبیسیوں کے آگے میل میل کی لائن لگانا بھی قبول کریں تو یقینی نہیں کہ خیرات پڑے اور مرنے سے پہلے اپنے کسی ماں جائے کی شکل دیکھ لینا نصیب ہو۔ (’ویزہ‘ مل جانے ایسی ناقابل یقین خبر پر بعض لوگوں کو یہاں خوشی سے غشی پڑتی دیکھی گئی۔ دوسری جانب مستقل جدائی کے غم میں لوگوں کو زندگی کےروگ لگتے دیکھے ہیں)۔ جبکہ ان کے بچے تو یقینی طور پر اب ایک دوسرے کےلیے اجنبی ہیں۔ ارحام تھے گویا ختم ہوئے۔ اِس تمام فنامنا کا سادہ عنوان: ’شہری‘ اور ’فارنر‘! اِس فنامنا کا شکار victim لوگ بھی اِس جہان میں لاکھوں کے اندر ہیں۔

بہت سے ملکوں میں درآمد شدہ لیبر کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک باقاعدہ قوانین کے سہارے ہوتا ہے، اور جس کے آگے پرانے دور کے غلاموں کے احوال ماند پڑتے ہوں گے، اس کا ایک قانونی اور سماجی عنوان ’غیر ملکی‘ ہی ہوتا ہے۔ یعنی نیشن سٹیٹ میں ’غیر شہری‘ جو ہمارے دار الاسلام میں ’غیرمسلم‘ سے لاکھ درجہ بدتر رکھا جاتا ہے۔ ملک کےلیے وہ ایک ’غیرملکی‘ ہے لیکن انسانیت کےلیے آخر وہ کیا ہے، اس کا بھی تو کچھ تعین ہو۔

لیکن بہت مشکل ہے کہ اپنے مرغوب بیانیے کے پیدا کردہ اس اتنے بڑے پیمانے پر پیش آنے والے ایک روح فرسا ’لائیو‘ انسانی المیے یا المیوں پر ہمارے اِن مہربان حضرات کا قلم کبھی اٹھا ہو۔ اور کچھ نہیں تو نیشن سٹیٹ پیکیج میں اصلاح اور رد و بدل کےلیے ہی کوئی ویسی تحریک چلانے کا عندیہ پھوٹا ہو جیسی یہاں مین سٹریم علماء کے بیانیہ کے خلاف چلا رکھی گئی ہے۔ یا اس کا عُشرِ عشیر ہی۔ باوجود اس کے کہ ایک حساس دل یقیناً ہمارے اِن بھائیوں کے سینے میں دھڑکتا ہو گا، مگر مسئلہ اُس نظر کا ہے جو اپنے اردگرد کے ایک زندہ فنامنا کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے سیدھی کچھ کتابوں کے اوراق کے اندر جا کھُبتی ہے اور یہ تصور کرتے ہوئے کہ اگر کبھی خدانخواستہ اس پر عمل ہو تو انسانیت کس طرح تڑپ جائے گی یہ ’’انسانیت کے درد‘‘ پر مبنی ایک پورا بیانیہ جس کا آپ کے زمانے سے کوئی تعلق نہیں، آپ کے آگے لا دھرتی ہے! فقہ اور فقہاء کے خلاف ایک پوائنٹ بہرحال سکور ہوتا ہے، لوگ فقہاء کے اس ظلم پر دکھ کا اظہار کریں گے، اور یہ بہت ہے!

نوٹ: اس مضمون کی بعض جہتوں پر اس سے پہلے ہماری یہ دو تحریریں آ چکی ہیں:

مفتی منیب الرحمن، جاوید غامدی اور عالمی سٹیٹس کو

مین اسٹریم ”اصل“ : المورد اور ٹی ٹی پی دو ”متبادل“ بیانیے