کیا لفظ فاحشہ گالی ہے؟ مجیب الحق حقی

مرحومہ قندیل بلوچ کے حوالے سے جو کچھ بھی لکھا جا رہا ہے اس میں یہ استدلال بہت تواتر سے پیش کیا جا رہا ہے کہ فاحشہ کہہ کر اسے گالی دی گئی ہے۔ اسی لائن پر اچھے خاصے پڑھے لکھے حضرات و خواتین اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی سطحی سوچ ہے کہ حیرت ہوتی ہے ہمارے یہاں کی بھیڑ چال پر کہ کسی لفظ کے حقیقی معانی کو سمجھے بغیر اس کے عمومی تاثر کی لکیر کو پیٹا جائے۔

گالی کیا ہوتی ہے؟
گالی دو طرح کی ہوتی ہیں، پہلی توغلیظ زبان کا استعمال جسے سب ہی جانتے ہیں جبکہ دوسری قسم وہ ہوتی ہے کہ جس میں غلیظ زبان استعمال نہیں ہوتی بلکہ کسی ناپسندیدہ اور غلیظ فعل سے، جو کہ معاشرے میں تسلیم شدہ گمراہی ہو، کسی بےگناہ کو غلط نسبت دی جائے۔ مثلاً چوری، یہ گالی نہیں ہے کہ اگر کسی چور کو چور کہا جائے لیکن یہ ایک ایماندار کے لیے گالی ہے۔ رشوت خور کو رشوت خور کہنا، شرابی کو شرابی کہنا، اسمگلر کو اسمگلر کہنا، زانی کو زانی کہنا، بدکردار اور بےحیا کو فاحشہ کہنا گالی نہیں کیونکہ یہ کسی کے کردار کی تشریح ہے۔ اس کے مقابلے میں بلا ثبوت ایماندار کو رشوت خور کہنا، نیک انسان کو شرابی کہنا، محنتی کو کام چور کہنا، عادل کو بدعنوان کہنا، کسی نیک تاجر کو اسمگلر کہنا، باکردار خاتون کو فاحشہ کہنا اس کے لیے گالی ہوگا۔۔ یہ گالی نہ صرف اس شخصیت کے لیے بلکہ اس کے حمایتیوں کے لیے بھی آزار کا باعث ہوگی۔

فحش اور فحّاشی کیا ہے؟
انسانوں کے اخلاق بگاڑنے والے مواد یا اعمال فحش اور فحّاشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ لفظ فاحشہ بذات خود کوئی گالی نہیں، ایک طرز عمل کی تشریح ہے۔ اس کا بےمحل استعمال اس کو گالی بنا سکتا ہے۔ ایک محترمہ نے اپنے آرٹیکل میں مرحومہ قندیل کے لیے یہ لفظ استعمال کیا تو مرحومہ قندیل کے پبلک میں اس کے امیج اور عمومی طرزعمل کے عین مطابق کیا، جو خواتین اور حضرات اس کو اس کے لیے گالی سمجھتے ہیں، براہ کرم ثابت کردیں کہ جو کچھ اس نے میڈیا پر کہا یا دنیا نے دیکھا، وہ حیا کے زمرے میں آتا ہے۔ اب اگر مرحومہ لوگوں کے اخلاق سنوار رہی تھی تب ہی مذکورہ لفظ اس کے لیے گالی ہوگا، فیصلہ آپ خود کرلیں۔ اب اس تناظر میں دیکھیں تو بعض اچھے خاصے پڑھے لکھے بلاگرز اور کالم نویس بھی یہی غلطی کر رہے ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ ردّعمل کے جذبات میں کوئی دانشور اتنا بے خود ہو جائے کہ ایک نیک اور باکردار خاتون کے شریف النفس ہونے پر بھی معترض ہوجائے کہ ان خاتون نے تو فاحشہ کہہ کر گالی دی۔ یہ حال ہے ہمارے تعلیم یافتہ بلاگرز کی جذباتیت کا۔ غلطی یہی ہے کہ ایک لفظ کے معنی اور استعمال کا صحیح پتہ نہیں، مگر ایک عام تاثر کے تئیں ردّعمل دے دینا فیشن ہوگیا۔

یاد رکھیے کہ بےحیائی کے کام چھپ کے ہی نہیں ہوتے بلکہ ببانگ دہل بھی ہوتے ہیں۔ کھلے عام بےحیائی دوسرے انسانوں کے اخلاق بگاڑتی ہے۔ جو قابل اعتراض کام سر عام ہوتے ہیں، ان پر ہی جنرل کمنٹس ہوتے ہیں اور یہی کسی انسان کا ایک تاثر تخلیق کرتے ہیں۔ اس طرح کے قبیح افعال میں ملوّث مرد اور عورت کو ہی بےحیا اور بد کردار کہا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی ایسا کردار فوت ہوگیا ہے تو اخلاقیات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی برائیوں کا تذکرہ نہیں کیا جائے، لیکن اگر کسی ایسے مرحوم یا مرحومہ کی، (جو معاشرے کے عمومی معیار کے حساب سے قابل اعتراض کردار کا مالک تھا یا تھی)، کسی مشکوک پلاننگ کے تحت کسی مبینۃ مقصد کے حصول کے لیے کردار سازی کی کوشش کی جائے یا اس کی ان معنوں میں تعریف کی جائے کہ اس کی برائیاں اچھائی بنیں تو لازماً اس کی مخالفت ہوگی کیونکہ یہ یمارے معاشرے کی مروّجہ اور تسلیم شدہ اقدار کے ٖخلاف ہوگا۔

اللہ اُس کی مغفرت کرے، مرحومہ قندیل بیچاری تو قصّہ پارینہ بن چکی تھی لیکن اس کے تذکرے کو زندہ رکھنے کے لیے اس پر فلم بنانے کے اعلان سے یہ قضیہ اُٹھا، لہذٰا اس کومزید بدنام کرنے کے ذمّہ دار وہی لوگ ہیں جو اسے پھر نوجوانوں کی توجّہ کا مرکز بنانے یا ممتاز مقام دینے کی کاوش کر رہے ہیں۔ معذرت چا ہتا ہوں کہ یہ بحث اچھی نہیں کہ ایک مرحومہ کے کردار کا تذکرہ ہو لیکن جنہوں نے یہ مسئلہ اُٹھانے میں پہل کی، وہی اصل قصوروار ہیں۔ مقامِ صد افسوس ہے کہ ایک مرحومہ کے مدفون جسدِ خاکی کو تجارتی مقاصد یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہی لوگ اور ان کے حمایتی ہی مرحومہ کی توہین کے اصل مرتکب ہیں، اس قبیح فعل پر ردعمل دینے والے ہرگز نہیں۔ میں نے جو کچھ لکھا، ناگواری سے لکھا، کیونکہ اگر بحث اُٹھائی جائے گی تو دن کو دن ہی کہا جائے گا اور رات کو رات۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.