کیا مولانا فضل الرحمن ایسا کر سکیں گے؟ مولانا محمد جہان یعقوب

ایک تقریب میں معروف عالم دین مولانا عبدالرحمن جامی سے ملاقات اور گفتگو کا موقع ملا. موصوف علمی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں، ان کی درسی شروحات کا دائرہ ابتدائی درجات کی کتب کی شروحا ت سے لے کر حدیث کی کتب کی شروحات تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی شہرت بھی ایک علم پرور شخصیت کی ہے، اس کے علاوہ روحانی حوالے سے بھی وہ معروف ہیں۔ ہمارے لیے ان کی جو شناخت زیادہ دل چسپی کا باعث تھی، وہ یہ کہ ان کا نام پاکستان علما کونسل کے منحرف زاہد قاسمی گروپ کے سرپرستوں میں شامل ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ زاہد قاسمی گروپ کے سرپرست اعلی کی حیثیت سے مولانا جامی اس قضیے میں ”اندر“ کی معلومات رکھتے ہوں گے، سو ہم نے ان سے پوچھا: زاہد قاسمی گروپ کی سرپرستی اب بھی فرما رہے ہیں؟ تو وہ انجانے سے لہجے میں الٹا ہم سے سوال کناں ہوئے: کون ساگروپ اور کیسی سرپرستی؟ ان کا لہجہ صاف بتا رہا تھا کہ ان کا نام ان کے کسی ”چاہنے والے“ نے ان کی اجازت کے بغیر سرپرستوں میں شامل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: میں پڑھنے پڑھانے والا آدمی ہوں، مجھے ان سیاسی بکھیڑوں سے کوئی دل چسپی نہیں، ہاں! مسلک دیوبند کے باہمی اختلافات پر کڑھتا ضرور رہتا ہوں۔ ہم نے عرض کیا: حضرت! مسلک دیوبند کو اس کے بڑوں کی سادہ لوحی نے ماضی میں بھی بڑا نقصان پہنچایا ہے، اس دور میں ہمارے بزرگوں کو باخبر رہنا چاہیے، ان کے ”چھوٹے“ اور عقیدت مند ان کے نام سے کیا کیا مفادات حاصل کر رہے ہیں؟ انھیں اس کا علم ہونا چاہیے۔

قارئین کرام! کس قدر حیرت و افسوس کا مقام ہے کہ ایک ہستی کو علم ہی نہیں اور ایک طبقہ اس کے نام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے! ہم یہ یقین سے تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مولانا زاہد قاسمی صاحب سے اس معاملے میں احتجاج کریں گے، لیکن انھیں ایسا کرنا ضرور چاہیے۔ پاکستان علماء کونسل وہ جماعت ہے جس کے راہ نماؤں نے بین المذاہب ہم آہنگی اور امنِ عالم کے نام پر تقریباً معلوم دنیا دیکھ لی ہے، یورپ کے دورے کیے ہیں، عیسائیت و یہودیت کے مذہبی راہ نماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں، امریکی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی ہے، وطن عزیز کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں زرِ کثیر صرف کر کے کانفرنسیں اور اجتماعات منعقد کیے ہیں،گرچہ اب یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ یہ کثیر رقم مدارس و اہل مدارسِ کی جاسوسی کا نقد صلہ تھی، دروغ برگردن راوی، ہم اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے، حقائق جلد یا بدیر سامنے آ ہی جایا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا! یہ کہانی چل چکی ہے - عامر ہزاروی

بات کسی اور طرف نکل گئی۔ ہم بتا رہے تھے کہ جامی صاحب کا کہنا تھا: مسلک دیوبند کے باہمی اختلافات پر بڑا افسوس ہوتا ہے، اس کا فائدہ دشمن کو پہنچتا ہے، اگر ہماری تمام جماعتیں مشترکات کی بنیاد پر ایک ہوجائیں تو آنے والے انتخابات میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ہم نے عرض کیا: ایم ایم اے کی تشکیلِ نو کے لیے ابتدائی اجلاس ہو چکے ہیں، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی کوششیں شروع کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: مولانا فضل الرحمن کو سب سے پہلے اپنی ہم مسلک تمام جماعتوں سے مذاکرات کرنے چاہییں۔

پنجاب میں بڑا دینی ووٹ ہے، جو ہر الیکشن میں تقسیم ہو جاتا ہے، اس کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے، کالعدم جماعتوں کا زور ٹوٹ چکا ہے، ان کے کارکن مخلص ہیں اور موجودہ قیادت بھی سیاسی انداز میں کردار ادا کرنا چاہتی ہے، اس لیے ان سے مذاکرات ہونے چاہییں، ”کچھ لواور کچھ دو“ کی پالیسی کے تحت پنجاب کے دینی ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی تمام دینی راہ نماؤں کی نظر میں ایک وقعت و عظمت ہے، ان کو اس سلسلے میں خود چل کر تمام راہ نماؤں کے پاس جانا چاہیے۔ جمعیت علمائے اسلام کی صد سالہ کانفرنس میں تمام دیوبندی جماعتوں کی شرکت اور جھنگ کے ایم پی اے مولانا مسرور نواز جھنگوی کا جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کرنے کا فیصلہ بتا رہا ہے کہ برف پگھل چکی ہے۔

مولانا کی باتوں سے بالکلیہ اتفاق ضروری نہیں، لیکن انھوں نے ایک اہم معاملے کی طرف توجہ ضرور دلائی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو اس سلسلے میں پہل کرنی چاہیے۔ دینی قوتوں کے لیے سب سے بڑا امتحان بھی پنجاب کے دینی ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے۔ اہل سنت بالخصوص دیوبند مکتبہ فکر کا ووٹ وہاں جمعیت علمائے اسلام اور کالعدم سپاہ صحابہ (موجودہ اہلسنت) کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے اور اب تک ہونے والے انتخابات میں کالعدم سپاہ صحابہ اپنے ووٹ بینک کو مختلف لوگوں کی حمایت کی صورت میں بروئے کار لاتی رہی ہے۔ پچھلے انتخابات میں اہلسنت کے سربراہ مولانالدھیانوی نے اپنی حمایت سے کام یاب ہونے والے جن اراکینِ اسمبلی کی فہرست پیش کی تھی، ان میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی مرکزی شخصیات حتیٰ کہ وزرائے اعظم تک شامل تھے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب میں اس جماعت کا ووٹ بینک کتنا مستحکم ہے، اور اس جماعت کے کارکنوں و ہمدردوں کو جماعتی ڈسپلن کا کس قدر خیال ہے، کہ جماعت جس حلقے میں جس جماعت یا آزاد امیدوار کی حمایت کا اعلان کرتی ہے، کارکنان و ہمدرد اپنا ووٹ اسی کو دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اپوزیشن صادق سنجرانی کے خلاف کیوں ہے؟ عامر ہزاروی

بلاشبہ جمعیت علمائے اسلام مستقبل کی ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھر رہی ہے، موجودہ حالات میں مولانافضل الرحمن کی اہمیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، ایسے میں انھیں اپنے ہم مسلک ووٹ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ماضی کے برعکس اب فضا کافی سازگار ہو چکی ہے، کیوں کہ بیش تر دیوبندی جماعتوں کی زمامِ قیادت ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہے، جو مفتی محمود کے شاگردوں میں سے ہیں اور مولان افضل الرحمن کی سیاسی بصیرت اور ملکی منظرنامے پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت سے نہ صرف بہ خوبی آگاہ، بلکہ اس کے معترف بھی ہیں، لہٰذا انھیں مولانا کے ساتھ چلنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

اگر وہ اپنے ہم مسلک ووٹ کو اپنے حق میں نہ کرسکے، تو اس کا براہ راست فائدہ ان کے سب سے بڑے حریف عمران خان کو ہوگا. خیبر پختونخوامیں اس کا عملی مظاہرہ بھی متعدد بار ہوچکا ہے. دینی طبقے کی ہم دردیاں حاصل کرنے کے لیے، باوجود مکمل لبرل جماعت ہونے کے، تحریک انصاف حکومت نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں، جوایک ٹھیٹھ دینی اتحاد ہونے کے باوجود، ایم ایم اے کی حکومت بھی اپنے دورِ اقتدار میں نہیں کرسکی تھی۔ ان اقدامات کے ”نقد فائدے“ کو دیکھتے ہو ئے تحریک انصاف الیکشن سے پہلے اس نوع کے مزید اقدامات بھی کرسکتی ہے، کہ محبت اور سیاست میں ناجائز بھی جائز اور ناخوب بھی خواب ہو جایا کرتا ہے۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.