لفظوں کے سوداگر - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

مجھے لفظوں سے محبت تھی .. لفظوں میں چھپے جذبے .. پرت در پرت کھلتے مفہوم .. ہلکی ہلکی نکیلی باتیں جن کی کسک محسوس تو ہو لیکن تکلیف دہ نہ ہو ..
لفظوں کے لہجے.. لفظوں کی ترتیب .. ترتیب کا الجھاؤ اور اس میں چھپے رنگ بدلتے معنی ..

بہتے پانی کے دھارے جیسے کبھی دھیمی آب جو جیسے اور کبھی طوفان کی طغیانی جیسے ..

کبھی بلندی سے گرتی آبشار کے شور کی طرح کانوں کے پردے پھاڑ دینے والے جملے اور کبھی قطار اندر قطار باندیوں کی طرح ہاتھ باندھے غلام لفظ .. چپ چاپ گونگے گہرے لفظ .. پر اسرار ..

ان الفاظ سے میں چہرے تراشتی... کردار بنتی .. ماحول کو سمجھتی .. ایک دنیا تشکیل دے لیتی جس کے موجودات کو میں الفاظ سے دی گئی پہچان سے جانتی..

خوبصورت جملے مجھے لطف دیتے جیسے مزیدار تلخ کافی کا گھونٹ .. مجھے جملوں کا ذائقہ محسوس ہوتا ..
میں سوچتی ان الفاظ کو لکھنے والا کتنا خوش قسمت ہے .. اس کے ہاتھ میں قدرت نے قلم کی طاقت دی ہے..

پھر میرے ذہن میں ایک شخصیت جنم لیتی مصنف کی شخصیت جس کی بنت اسی مصنف کے لکھے الفاظ اور جملوں سے ترتیب پاتی .. آپ اسے آئیڈیل کہہ سکتے ہیں ..
جب کچھ سمجھ آئی تو پتا چلا زندگی گزارنے کا یہ طریقہ اگر غلط نہیں تو بھی مشکل ضرور ہے .. انسان کے اپنے لیے بھی اور اس کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کے لیے بھی ..
اسی طرح وقت نے خوبصورت الفاظ کے پردے میں چھپی چند شخصیات کی حقیقت بھی دکھائی .. جس سے یہ سمجھ پائی کہ تصورات اور حقیقت میں اکثر 180 ڈگری کا بعد ہوتا ہے..

تخیل کا پردہ پاش پاش ہونے پر نظر آنے والی حقیقت بہت تلخ ہوتی ہے .. زہر کے جیسی .. جس کا ذائقہ بے انتہا کڑوا ہو اور وہ ہر رگ جاں سے دھیرے دھیرے زندگی نچوڑتا ہو..

یہ بھی پڑھیں:   سچائی - رومانہ گوندل

یہ سب تلخیاں میں نے ایک دم اپنی روح کے اندر نہیں اتاریں بلکہ یہ تمام جام دھیرے دھیرے جرعہ جرعہ کر کے اپنی روح میں انڈیلے ہیں ..

ایک مصنف کو ہمیشہ اپنی ظاہری شخصیت کو مخفی رکھنا چاہیے تاکہ اس کے الفاظ اور تخیلات زندہ رہیں.
ایک لفظ کی چھلنی سے چھنے ہیں نامی کتنے
#قندیل

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.