قندیل: فاحشہ یا صالحہ؟ مجیب الحق حقی

سب سے پہلے قندیل بلوچ کی مغفرت کی دعا کہ اللہ اس کی غلطیوں اور گناہوں کو معاف کرکے اس کی مغفرت کرے۔ آمین۔

سعدیہ قریشی صاحبہ کے ایک کالم پر دانشوران کے درمیان ایک گرما گرمی مچی ہے۔ خاتون کے مضمون کے اصل مقصد کو نظرانداز کرکے ان کے لکھے ایک لفظ پر سخت اعتراض کیا جا رہا ہے کہ ایک مرحومہ کو فاحشہ کیوں لکھا کیونکہ اس طرح اس کی توہین ہوئی۔ اچھے خاصے پڑھے لکھوں کی طرف سے یہ جذباتی انداز تحریر بڑا عجیب لگا۔ اس میں اصل وجہ جو سمجھ میں آتی ہے، وہ ایک خاص مادر پدر آزاد معاشرے کی طرف رجحان والی سوچ کی آبیاری ہے۔ اس طرز فکر میں ایک دوغلا پن ہے۔ بلکہ بڑے نامور لکھاریوں کو پڑھ کر محسوس ہوا کہ تعصّب کیسے کیسے اپنے آپ کو عیاں کرتا ہے۔

دیکھیے جناب! انسان اس دنیا میں صرف اپنے اعمال کا تاثر چھوڑ کر جاتا ہے۔ جو لوگ معاشرے کی سوچ اور فکر پر اثرانداز ہوتے ہیں، خواہ مثبت یا منفی، ان کا کردار پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے۔ یہی لوگ تاریخ کا چھوٹا بڑا، منفی مثبت کردار بنتے ہیں۔ ہم ماضی کے گزرے ہوئے لوگوں کو ان کے اعمال کے بموجب ہی کوئی لقب دیتے ہیں جو کہ مثبت یا منفی ہوتا ہے۔ ٹیپو سلطان اور میر جعفر اپنے کردار کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اگر غدّار کو غدّار کہا جاتا ہے تو اس لیے کہ اس کا کردار ہمارے لیے ویسا ہی تھا۔ ایک جنگجو کسی گروہ کے لیے ہیرو ہوتا ہے اور کسی کے لیے باغی۔ تاریخ ایسے کرداروں سے بھی بھری ہے جن پر آج بھی لاکھوں لوگ لعنت بھیجتے ہیں۔

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے، برطانیہ کے وزیر قانون کا کرسٹائن کیلر سے تعلقات کا شہرہ ہوا جو کی ایک کال گرل تھی۔ اسے آج بھی فاحشہ ہی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ مغرب میں سیکولرازم اور انسانی حقوق کے باوصف ہر کام کی آزادی ہے لہذٰا وہاں اس کو پروفیشن قرار دے کر باعزت پیشہ بنادیا گیا ہے۔ وہاں فاحشہ ہونا جرم نہیں اور نہ قابل مذمّت ہے۔ روس کے مشہور راسپوٹین کو عیّاش کہا جاتا ہے لیکن اس کو توہین نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ یہ حقیقت ہے۔

فاحشہ اسلامی اصطلاح ہے، قرآن اور حدیث میں اس کا استعمال ہوا ہے، ایسے کام کے حوالے سے بھی اور فحش کے حوالے سے بھی.

یہ بھی پڑھیں:   درد میں‌ڈوبی التجا - شمائل غازی

ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لھم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ واللہ یعلم وانتم لا تعلمون. (سورۂ النور)
ترجمہ : جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مؤمنوں میں بے حیائی پھیلے، ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

ولوطا اذ قال لقومہ اتَاتون الفاحشۃ وأنتم تبصرون (سورہ النمل)
ترجمہ: اور لوط ؑ کو ہم نے بھیجا۔ یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا، کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟

قرآن نے لوط علیہ السلام کی قوم کے لیے اس کے مرنے کے بعد ہی یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ اس لیے کہ ان کے کرتوت ایسے تھے، اور اس میں ان کی خاص بدکاری کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں ان لوگوں کو دردناک عذاب کی خوشخبری دی گئی ہے جو مسلمانوں میں بےحیائی اور بدکاری پھیلانا چاہتے ہیں۔ تو کیا قرآن میں اس لفظ کے استعمال پر
بھی اعتراض وارد کیا جائے گا. یہ عین انھی معنوں میں آیا ہے جس معنی پر بحث جاری ہے.

یہ اصطلاح اسی خاص تناظر اور خاص کردار کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں مستعمل ہے. کچھ لوگ ایک ایسی عورت کے بارے میں جو کہ اپنے مشکوک اور انتہائی قابل اعتراض اور بے باک کردار کی وجہ سے بدنام تھی، دفاع پر کمربستہ ہیں، کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ اس کو کس نام سے پکاریں؟ آپ اس کے ایسے وصف بتا دیں کہ ہم اسے ایک صالحہ یا شریف النفس خاتون کا لقب دے سکیں۔ اگرآپ ایسا نہ کرسکیں تو پھر آپ تاریخ کے ہر برے کردار کی نشاندہی کے نئے معیار متعارف کرا دیں۔ ایسا نہ ہو تو انھیں منافقت کا لبادہ اتار دینا چاہیے اور لفظ فاحشہ کو نہ صرف قبول کرنا چاہیے بلکہ کھل کر اعلان کرنا چاہیے کہ وہ ایسے کردار کے حامی ہیں، چاہتے ہیں کہ ان کے گھر کی خواتین کو ایسا بننے اور کرنے کی اجازت دی جائے، جب تک ایسا نہیں ہوتا، وہ اس کو معاشرے میں قابل قبول بنانے کےلیے قلمی و عملی جدوجہد کریں گے. یہ تو منافقت ہے کہ کردار تو قبول ہے، اور اس کی وکالت کی جا رہی ہے، مگر قرآن و حدیث اور لغت و محاورے میں اس کےلیے مستعمل لفظ پر اعتراض ہے.

یہ بھی پڑھیں:   درد میں‌ڈوبی التجا - شمائل غازی

سعدیہ قریشی کا بطور خاتون یہ کہنا تھا کہ ایسے کردار کو خواتین کے ساتھ منسوب کیا جائے نہ اسے گلوری فائی کرکے پیش کیا جائے. بعض سیکولر لکھاریوں نے بھی اس کی تائید کی اور کہا کہ ایک فاحشہ کو فاحشہ ہی لکھا جائے گا. شوبز کی فیلڈ سے تعلق رکھنے والے جناب ظفر عمران نے ایک جگہ کمنٹ کیا:
”حیرت ہے کہ فاحشہ کو فاحشہ لکھنے ہر واویلا ہو رہا ہے؛ فاحشہ کو فاحشہ نہ کہا جاے تو کیا کہا جاے؟ قندیل بلوچ نہ فن کارہ تھی، نہ سوشل ایکٹوسٹ۔ شو بز سے وابستہ ہونے کے باعث مجھے دُکھ ہے کہ زبردستی اس کو میری فیلڈ سے جوڑا جاتا ہے، گر چہ اس میں ایک فی صد بھی سچائی نہیں۔ سوشل ایکٹوسٹ اس کو اپنا سمجھتے ہیں تو سمجھیں۔
جنھیں قندیل کو وابستہ کرنے ہی کا شوق ہے وہ اس کو پاکستان آرمی سے وابستہ کر دیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ کر دیں۔
جہاں تک فلم بنانے کی بات ہے تو کوئی حرج نہیں، ریاض گجر سے لے کر نظام ڈاکو تک پر فلمیں بنیں۔ ثریا بھوپالی سے امراو جان ادا تک مرکزی کردار ہوئیں۔ ب امراو جان ادا کو سوشل ایکٹوسٹ دکھایا جاے تو اعتراض بنتا ہے۔“

مکالمہ کے حلقہ ادارت میں شامل جناب موسیو‌ نے لکھا:
”تو میں مرحومہ کو کیا طبیبہ لکھوں یا ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ، میں سنگدل ملا کی طرح جنت جہنم کے فیصلے نہیں کرتا لیکن جو مرحومہ کا پیشہ تھا، اس کے حوالے سے اور کیا لکھ سکتا ہوں۔“

یہ بات واضح رہے کہ عاقبت اور جنت جہنم کے حوالے سے انسان کسی کا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں، کسی کا زانی، نمازی، شرابی اور فاحشہ ہونا جنّت دوزخ کی سند نہیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہوگا جو انصاف پر مبنی ہوگا۔ اور اللہ جس کو چاہے گا، اپنے فضل سے بخش دے گا۔

لیکن دنیا سے ہر گزر جانے والے انسان کو خواہ عورت ہو یا مرد اس کے کردار کے آخری تاثر کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ یہی قندیل کے حوالے سے ہو رہا ہے۔ اس پر چراغ پا ہونا غیر متوازن سوچ کی نشانی ہے۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.