قندیل بلوچ نشانہ کیوں ہے؟ ثمینہ رشید

محترمہ سعدیہ قریشی کی تحریر ”قندیل پر ہی کیوں“ نظر سےگزری۔ اور ساتھ ہی ہمارے بہت محترم عامر خاکوانی صاحب کا تبصرہ بھی۔

ایک خاتون، ایک انسان، ایک مسلمان اور پھر ایک صحافی، اس پہ روشن خیال، پڑھی لکھی، ادیبہ اور شاعرہ ہونے کی صفات کی حامل بھی۔ چلیں سرِ تسلیم خم کہ یہ ساری خصوصیات محترمہ سعدیہ قریشی صاحبہ میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن کیا ان میں سے کوئی ایک بھی صفت محترمہ سعدیہ کو ایک مرنے والے کے لیے انتہائی نامناسب اور اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے؟

قندیل بلوچ کون تھی؟ ایک انتہائی غریب گھرانے کی لڑکی جس کے پاس دولت تھی نہ ڈگری لیکن خواہشات اور خواب ضرور تھے، وہ بھی اپنی اوقات سے بڑھ کر۔ اب اگر ماڈلنگ کرنے والی اور مختصر کپڑے پہن کر ریمپ پہ واک کرنے والی ایک کروڑ پتی سیٹھ کی یا ارب پتی سیاستدان کی بیٹی ہے، تو یہ اس کا ٹیلنٹ ہے۔ اس کی خوبصورتی کے لیے قومی اور بین الاقوامی میگزینز میں انٹرویوز چھاپے جاتے ہیں، لیکن قندیل کی غربت کے بیک گراؤنڈ میں وہی مختصر کپڑے اس کو ”بُری“ ثابت کرنے کے لیے کافی تھے۔ چلیں آپ کرلیں اس کی شان میں دشنام طرازی لیکن اگر وہ زندہ ہو۔ اور کتنا ہی اچھا ہو کہ آپ ایسا ہی ایک نام قندیل کے ان لاکھوں فینز کو بھی دینے کی ہمت کر سکتیں جو اس کے ویڈیو کلپس پہ رات دن آنکھیں سینکا کرتے تھے۔ اور کیا ہی اچھا ہوتا کہ معاشرے کے ان کرداروں کو بھی اتنا ہی اچھے القاب سے نوازانے کی جرات کریں جن کی منافقت ان کی عزت کی ضمانت ہوا کرتی ہے۔ جو کبھی قندیل بلوچ سے فرمائشی خفیہ ملاقاتیں کرتے تھے اور جو قندیل کے ساتھ سیلفیز بنایا کرتے تھے۔ کچھ ادب و آداب ان عزت مآب ٹی وی اینکرز کے لیے بھی جو قندیل سے معنی خیز سوالات کرنے کی جرات کرتے تھے، ایسے سوالات جو اگر کسی ”باعزت“ ٹی وی اور فلم ایکڑیس سے کیے جاتے تو ان کو خود اپنی عزت بچانا مشکل ہوجاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

لیکن فرق ہوتا ہے قندیل نہ مشہور ٹی وی ایکٹریس بن سکی تھی نہ سپر ماڈل۔ اس کے ہاتھ میں ایک موبائل تھا اور اس کی خوبصورتی جس کے ذریعے اس نے ایک شارٹ کٹ لیا اور اپنے لیے ایک بری شہرت کا حصول ممکن بنا لیا تھا۔ اور یہی بری شہرت تھی جو اس کی زندگی لے کر ٹلی۔ جبکہ تاریخ شاہد ہے کہ قندیل سے کہیں زیادہ بری شہرتیں رکھنے والی ایسی ہستیاں بھی گزری ہیں جنھیں جرنیل و سیاست دانوں کی چھپر چھایہ ایسی راس آئی تھی کہ ان کے زندگی میں کسی کو ان پہ انگلی اٹھانے موقع نہ ملا، کیونکہ ان پردہ نشینوں کے ساتھ بڑے بڑے عزت داروں کے نام شامل تھے۔ افسوس قندیل کو ایسی کوئی چھپر چھایہ نہ مل سکی۔ چلیں بُری ہی سہی لیکن اس کی پرواز اپنے ہی بل بوتے پہ تھی۔ یہی میڈیا تھا جو قندیل کو بریکنگ نیوز کا موضوع بناتا تھا اور ایک سیلیبریٹی کا درجہ دے چکا تھا۔

میری اس تحریر کا مقصد نہ تو قندیل کو مدر ٹریسا ثابت کرنا ہے نہ ہی انسانی حقوق کی علمبردار، کیونکہ اگر اسے انسانی حقوق کی الف ب بھی پتہ ہوتی تو وہ اپنے آبائی گھر کی چھت تلے ایک کھردری چارپائی پہ غیرت کے نام پہ ”باغیرت“ بھائیوں کے ہاتھوں مرنے کے بجائے پناہ کی درخواست دے کر کسی ترقی یافتہ ملک میں آرام سے زندگی گزار رہی ہوتی۔

اس تحریر کا واحد مقصد محترمہ سعدیہ قریشی کو انسانیت، اخلاق، مذہب اور صحافت کے ان بنیادی اصولوں کی یاد دہانی کروانا ہے جن کو انہوں نے کہیں پڑھ کر انہی کتابوں میں دفن کر دیا ہے۔ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں صرف دو ہی طرح کے لوگ ہوتے ہیں جو کسی فلم، ڈرامے یا کتاب کا موضوع ہوا کرتے ہیں، اوّل جن کے کاندھوں پہ عزت کے ساتھ شہرت کا ستارہ سجا ہو اور دوم وہ جن کے ساتھ ذلت کے ساتھ بری شہرت کا۔ اسی لیے جہاں دنیا کے عظیم لوگوں پہ کتابیں لکھی اور فلمیں بنائی گئیں، وہیں بری شہرت رکھنے والے بھی سرِ فہرست ہیں، جیسا کہ پڑوسی ملک کی پھولن دیوی ۔

یہ بھی پڑھیں:   سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

حقیقت تو یہ ہے کہ قندیل نہ میرا آئیڈیل کردار تھی نہ اس معاشرے کا، بلکہ وہ اس معاشرے کی منافقت کا چلتا پھرتا اشتہار تھی، کہ کس طرح میڈیا ایک ایسی لڑکی کو بریکنگ نیوز بناتا ہے اور راتوں رات سیلیبرٹی کا درجہ دے دیتا ہے جس کے کریڈٹ پہ بظاہر کوئی ”باعزت“ کام نہ تھا لیکن یہی میڈیا اس کو غیرت کے نام پہ مرنے سے نہ بچا سکا۔ اس عزت و منافقت کے دوہرے معیار سے لتھڑی سوسائٹی کے لیے قندیل بڑا آسان ٹارگٹ تھی اور ہے۔ کل بھی اس کو گالی دینا آسان تھا اور آج مرنے کے بعد بھی۔

حرفِ آخر یہی کہنا مقصود ہے کہ صحافت کے اصول نہ سہی، انسانیت اور مذہب بھی کسی مردہ انسان کو گالی دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ قلم کی آبرو کا خیال رکھنا ہی ہر اہل قلم کا سب سے اولین فرض ہے۔ بات کہنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.