اسلامیات بمقابلہ مطالعۂ پاکستان؟ - کامران ریاض اختر

نوے کی دہائی میں جب انجنیئرنگ یونیورسٹی لاہور میں داخلہ ہوا تو پیشہ ورانہ مضامین کے ساتھ ساتھ اسلامک اینڈ پاک سٹڈیز کے نام سے ایک مضمون سے بھی واسطہ پڑا۔ یہ اسلامیات اور مطالعۂ پاکستان کو ملا کر بنایا گیا ایک مضمون تھا جس کے پڑھانے کے لیے یونیورسٹی میں ایک علیحدہ شعبہ قائم تھا۔ اس شعبے کی عمارت کے باہر ایک برادر عرب ملک کے سفیر کی طرف سے افتتاح کی تختی لگی ہوئی تھی اور تقریباً تمام اساتذہ بھی ایک ہی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ چھوٹا سا مضمون تھا جس کی ہفتے میں ایک ہی کلاس اور سالانہ امتحانات میں پچاس نمبر کا پرچہ ہوتا تھا ۔ لیکن ہر طرف سے سائنس اور حساب کی یلغار کے بعد یہ ایک کلاس بھی غنیمت لگتی تھی۔ کچھ ساتھیوں کا خیال ہوتا تھا کہ انجنیئر کو یہ آرٹس والا مضمون پڑھنے پر مجبور کرنا وقت کا ضیاع ہے لیکن اکثریت پھر بھی اس میں دلچسپی لیتی تھی ۔

دلچسپ بات یہ ہوتی تھی کہ تمام اساتذہ صرف اسلامیات پڑھایا کرتے تھے، کبھی کسی نے مطالعۂ پاکستان نہیں پڑھایا ۔ جب اصرار کیا جاتا کہ حضور والا! مطالعۂ پاکستان بھی تو نصاب کا حصہ ہے، اس سے ایسا گریز کیوں؟ تو جواب ملتا کہ وہ تو آپ لوگ خود ہی پڑھ سکتے ہیں یا گھر کے بزرگ بتلا دیتے ہیں، ہاں اسلامیات کی تدریس بہت ضروری ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے مطالعۂ پاکستان کوئی اسلام سے متصادم مضمون ہے اسی لیے اس سے گریز کیا جاتا ہے۔ اسلامیات کا نصاب چند سورتوں کی تفسیر اور چہل حدیث پر مشتمل ہوتا تھا۔ امتحانات ہوتے تو اسلامیات کے حصے میں تو کئی مختلف سوالات شامل ہوتے لیکن مطالعہ پاکستان میں ہر دفعہ چند گنے چنے موضوعات پر ہی سوال ہوتے تھے جو تحریک پاکستان میں علماء کا کردار، پاکستان کے آئین کی اسلامی شقیں، اسلامی ممالک سے ہمارے تعلقات تک محدود تھے۔ یعنی یہاں بھی اسلامیات کا رنگ ہی زیادہ نظر آتا تھا۔ اس موضوع پر ہماری محترم اساتذہ سے بحث ہوتی رہتی لیکن اس امتحانی فارمیٹ میں کبھی کوئی تبدیلی نہ آئی۔ ایک دفعہ تو ہم نے جھنجھلاہٹ میں امتحان میں تحریک پاکستان میں علماء کے کردار پر نوٹ لکھتے ہوئے دو علیحدے علیحدہ سرخیاں جمائیں ۔ ایک جگہ تحریک پاکستان کی حمایت کرنے والے علماء پیر جماعت علی شاہ، مولانا شببر احمد عثمانی، پیر صاحب مانکی شریف، مولانا ظفر احمد انصاری وغیرہ کا ذکر کیا تو دوسری جانب تحریک پاکستان کے مخالف علماء کا ذکر اور ان کی مؤقف کی تنقیص بھی کی۔ اب چونکہ ان مخالف علماء میں ہمارے اساتذہ کے ممدوحین کے نام آتے تھے لہٰذا اس جسارت کو کچھ زیادہ پسند نہ کیا گیا۔

خیر یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا۔ لیکن ایسا رویہ کسی ایک ادارے تک محدود نہیں ۔ ہمیں یہ امر ہمیشہ عجیب لگا کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ سمجھنے اور اس میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کرنے والے بہت سے مذہبی لوگوں کی زبان سے ہم نے کبھی تحریک پاکستان اور بانئ پاکستان کے بارے میں کلمۂ خیر نہیں سنا۔ پاکستان کیوں بنا، کیسے بنا، جدوجہد پاکستان کی تفصیلات، تحریک پاکستان کے قائدین اور عوامی تائید کے ذریعہ پاکستان کا قیام یہ سب باتیں ان اصحاب کے لیے بے معنی ہیں۔ ایک دفعہ ایک صاحب نے پاکستانی سیکولر انتہا پسندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ یہ ہمیشہ بانئ پاکستان کا ذکر صرف جناح کہہ کر کریں گے کبھی قائد اعظم نہیں کہیں گے۔ یہ تجزیہ ہمارے مذہبی انتہا پسند حضرات پر بھی بالکل درست بیٹھتا ہے۔ دونوں اطراف کے انتہا پسندوں میں یہی چیز مشترک ہے کہ وہ قیام پاکستان اور بانئ پاکستان کے بارے میں ایک جیسے منفی جذبات رکھتے ہیں ۔

سیکولر حضرات کی مذہب کے نام پر بننے والے ملک کی مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن وہ حلقے جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر بنا تھے لہٰذا یہاں اسلامی نظام کا مکمل نفاذ ہونا چاہیے، انہیں تحریک پاکستان اور اس کے قائدین کے بارے میں اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد قیام پاکستان کو اپنی خوش نصیبی اور قائداعظم کو اپنا نجات دہندہ سمجھتی ہے۔ چند مذہبی حلقوں کی جانب سے ان کے بارے میں کدورت کا اظہار بلکہ بسا اوقات تو توہین آمیز رویہ عوام میں ان کی عدم پذیرائی کا ایک بڑا سبب ہے۔ مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چند حضرات تو اپنے تحریک پاکستان کے کٹر مخالف مرحوم پیشواؤں کے بارے میں بھی اتنے حساس ہیں کہ ان پر ذرا سی تنقید کی جائے یا محض مولانا ہی نہ کہا جائے تو بھڑک اٹھتے ہیں لیکن بانئ پاکستان کے بارے میں ان کی زبان سے کبھی کوئی کلمۂ خیر نہیں نکلتا جبکہ ہم جیسے کئی لوگوں کے لیے قائد اعظم ان بہت سے مولانا حضرات سے کہیں بڑھ کر قابل احترام ہیں ۔

ہمارے خیال میں تو اسلامیات اور مطالعۂ پاکستان نہ تو ایک دوسرے سے متصادم ہیں نہ ہی مقابل۔ اگر ہمارے چند مذہبی حلقوں کی سوچ بھی ایسی ہو جائے تو شائد عام پاکستانی ان کے زیادہ قریب آ سکے۔