نام میرا اُن کتابوں میں لکھا رہ جائے گا - عائشہ افق

جو کبھی اس نے پڑھی تھیں مجھ سے ناصر مانگ کر
نام میرا ان کتابوں میں لکھا رہ جائے گا

اوئی ہوئی ہوئی۔ کیا کمال شعر ہے!

یہ شعر پڑھ کے ہنسی آ رہی ہے۔ ہنسی خود پر اور گزرے سارے برس بھی یاد آنے لگے ہیں۔ وہ سب دوستیں ، جانے پہچانے چہرے ، اجنبی لوگ بھی جو میرے سے کتابیں واپس کرنے کے وعدے کے ساتھ لیکر جاتے رہے اور پھر واپس تو آئے لیکن کتابوں کے بغیر کہ چاند کہیں راہوں میں کھو گیا۔

ساتھ ساتھ کتاب دیتے ہوئے مجھے اپنا انداز بھی یاد آ رہا ہے۔ وہ کتابیں جو گمنام ہو گئیں۔ ان رسالوں، کہانیوں پر میرے لکھے لفظ۔ میرا جگہ جگہ لکھا نام عائشہ اطہر ۔ رسالے کی ہر تصویر کے ساتھ پینسل سے بنائی اک تصویر میرے ہاتھ سے بھی تھی۔ ساتھ ساتھ ان پر میرے لکھے کمنٹس بھی اور پرنٹڈ لفظوں کے اوپر کہیں چلے قلم میرے بھی ہوتے تھے۔

اور کتاب دیتے ہوئے ہر بار میرا انہیں واپس کرنے کی تلقین کے ساتھ کہنا کہ "شرائط و ضوابط لاگو ہیں " اور ان کا کبھی بھی شرائط و ضوابط فالو نہ کرنا سب یاد ہے مجھے۔

کبھی وہ جو آئی مجھ سے لینے کتاب
میں ہوئی پرجوش، دی اسے اپنی کتاب
کہا جو "شرائط و ضوابط لاگو ہیں "
ہنسی وہ "بڑے سخت تیرے اصول ہیں "
لیکن میرے اصولوں کا پاس رکھ نہ پائی
کتابیں ساری میری وہ راہ میں کھو آئی
ان پہ پہلا اور آخری حق تھا میرا
اس کا گواہ ان پہ لکھا نام ہے میرا

رسالے دیتے ہوئے ان کے کبھی واپس نہ ملنے کے خدشے ، ان کہے خوف کے باوجود دے دینا اور پھر لینے والوں سے ان کا خیال رکھنے کی درخواست۔ سب سے زیادہ تو وہ ہیں جو سرحد پار تو گئیں لیکن لمبی مسافت سے گھبرا کے واپس نہ پلٹیں۔ شرائط و ضوابط لاگو کرنے کا سہرا بھی سر لیا اور ہاتھ بھی کچھ نہ آیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کتابوں کی صحبت میں - محمد عامر خاکوانی

تب سے اب تک کتنے نور، پیغام، اذان سحر، نونہال، بتول، خواتین میگزین، تعلیم و تربیت اور بے شمار کہانیوں کی کتابیں چلی گئیں، کھو گئیں۔ آج کوئی کہیں ہو گی تو کوئی کسی کی ملکیت ہو گی لیکن مجھے وہ سب یاد آتی ہیں۔
خدیجہ کہتی ہے " جب کوئی آتا ہے خود ہی کہانیاں نکال کے لے آتی ہے۔ پھر انہیں واپس کرنے کی تلقین بھی کرتی رہتی ہے۔ واپس ہی لینی ہیں تو دیا ہی نہ کرو۔ " کیسے نہ دیا کروں میرا دل چاہتا ہے جو کتاب میں نے پڑھ لی ہے وہ اب باقی سب بھی پڑھ لیں ۔ "اور کیسے واپس کرنے کی تلقین نہ کیا کروں کہ وہ میری ہوتی ہیں، عزیز جاں ہوتی ہیں، ان پہ پہلا اور آخری حق میرا ہے۔ البتہ درمیانی حق باقیوں کے۔ انتظار کتاب اور وصال کتاب کے سارے لمحے مجھے دستبردار ہونے کی اجازت نہیں دیتے ۔"

جب بڑی ہو جاؤں گی بہت بڑی، تب اپنے بچپن کے رسالے پڑھا کروں گی۔ سفید بالوں کے ساتھ سفید لباس میں ملبوس ہو کر، پچپن میں بچپن کا ذائقہ چکھوں گی۔

اک خواب تھا
دیوانے کا اک خواب!