سہاگن - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

شادی کی تقریب میں بہت ہمہ ہمی تھی. خواتین اور لڑکیاں بھی بڑی تعداد میں شریک تھیں. زرق برق لباس، بدن پر سجے زیورات، قہقہے اور خوش گپّیاں تقریب کی زینت بڑھا رہے تھے. ایک بزرگ خاتون کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، اس لیے کہ بہت سی لڑکیاں انھیں گھیرے ہوئے تھیں اور ان کی باتیں بہت احترام سے سن رہی تھیں.
میری سہیلی شکنتلہ میرا ہاتھ پکڑ کر انھی خاتون کی طرف لے گئی.
”یہ جسودا میم ہیں، انھوں نے مجھے کالج میں پڑھایا ہے، ابھی چند ماہ پہلے یہ ریٹائر ہوئی ہیں.“
یہ سب بتاتے ہوئے وہ میم تک پہنچ چکی تھی. بزرگ خاتون نے ہماری طرف دیکھا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی.
”شکنتلہ! آؤ، آؤ، کہاں رہ گئی تھی.“
شکنتلہ نے میرا تعارف کرانا ضروری سمجھا:
”یہ میری سہیلی لبنی ہے. میرے پڑوس میں رہتی ہے. جرنلزم کا کورس کر رہی ہے. ایک اخبار میں بھی کام کرتی ہے.“

شکنتلہ نے میرے بارے میں سب کچھ بتا دیا تو میں نے سوچا کہ میں بھی میم کا مکمل تعارف حاصل کرلوں.
میں نے سوال کیا: ”ریٹائرمنٹ کے بعد اب آپ کی کیا مصروفیات ہیں؟“
جسودا میم نے اطمینان سے جواب دیا: ”گھر پر کچھ بچیاں آجاتی ہیں. انھیں پڑھا دیتی ہوں. اس طرح میرا کچھ وقت کٹ جاتا ہے، تنہائی دور ہوجاتی ہے.“
”تنہائی؟ آپ کے شوہر؟ آپ کے بچے؟“ میم کی عمر دیکھتے ہوئے مجھے ان سے اس جواب کی امید تھی کہ شوہر کا انتقال ہوگیا ہے اور بچے دوسرے مقامات پر رہائش پذیر ہیں، لیکن ان کے جواب نے تو مجھے چونکا دیا.
”میرے بچے نہیں. شادی کے چند دنوں کے بعد ہی پتی گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے.“
”لیکن آخر کیوں؟“ میری سہیلی نے مجھے کچوکا لگایا، لیکن میں نے اس کی پروا نہ کرتے ہوئے اگلا سوال داغ دیا.
میم کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا. انھوں نے بغیر کوئی تاثر ظاہر کیے جواب دیا:
”وہ ایک دھارمک سنستھا سے جڑ گئے تھے. انھوں نے اپنا جیون اس کے لیے وقف کر دیا تھا. اس کے بعد انھوں نے گھر کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا، کبھی میری خبر نہیں لی.“
میری حیرت بڑھتی جا رہی تھی. میرے اندر کا صحافتی تجسّس بیدار ہوگیا تھا. میرے ذہن میں بہت سے سوالات کلبلانے لگے تھے، جن کے مجھے جوابات مطلوب تھے.
”پھر آپ نے شوہر کے بغیر زندگی کیسے کاٹی؟“
میم کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے. ان کی نگاہیں کہیں بہت دور دیکھ رہی تھیں. وہ فضا میں گھورتے ہوئے بولیں:
”میری شادی کو پچاس برس ہونے کو ہیں. پتی گھر چھوڑ کر چلے گئے تو میں ان کی راہ تکتی رہی. میں نے سوچا: وہ دیر سویر لوٹ کر ضرور آئیں گے، انھیں میری یاد ضرور ستائے گی، لیکن وہ نہیں آئے. مایوس ہوکر میں نے ایک گرلز کالج میں نوکری کر لی. اس طرح میرا وقت کٹنے لگا. مجھے بہت سی لڑکیاں مل گئی، جو مجھ سے حقیقی لڑکیوں کی طرح پیار کرتی تھیں اور مجھ پر جان چھڑکتی تھیں.“

میری سہیلی کے چہرے پر خفگی کے آثار تھے. وہ مجھے مزید سوالات کرنے سے روکنا چاہتی تھی، لیکن میں کہاں باز آنے والی تھی.
میں نے اگلا سوال کیا: ”اگر آپ کے شوہر آپ کو اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے تھے تو انھوں نے آپ کو طلاق کیوں نہیں دے دی؟“
میم کے چہرے پر اضطرابی کیفیت طاری ہوئی. انھوں نے جواب دیا: ”ہمارے دھرم میں طلاق کو پسند نہیں کیا جاتا. پتی دیو کو بھگوان سمان سمجھا جاتا ہے. ہمارے یہاں کنّیا دان کی جاتی ہے. ہمیں بچپن ہی سے یہ پڑھایا جاتا ہے کہ لڑکی بیاہ کر جس گھر میں جائے، اس کی آرتھی اسی گھر سے نکلنی چاہیے. اگر پتی پتنی میں سمبندھ درست نہ ہوں تو طلاق کے بغیر وہ پوری زندگی الگ الگ رہتے ہوئے کاٹ دیتے ہیں.“

میرے دماغ میں سوالات کا طوفان برپا تھا.
کیا شوہر بھگوان ہے اور بیوی اس کی داسی ہے؟
کیا شادی جنم جنم کا ساتھ ہے کہ جس سے ایک بار ہوگئی، ہمیشہ کے لیے ہوگئی؟
کیا لڑکی کی حیثیت حقیر مال کی سی ہے، جو اسے شوہر کے چرنوں میں دان کیا جاتا ہے؟
کیا شوہر کو اجازت ہے کہ وہ گھر سے باہر جاکر جہاں چاہے رنگ رلیاں منائے اور بیوی گھر میں قیدی کی سی زندگی گزارے؟
اگر شوہر بیوی میں کسی وجہ سے اَن بَن ہوجائے اور ایک ساتھ زندگی گزارنا ان کے لیے ممکن نہ ہو تو کیا ان کی علیحدگی کی کوئی صورت نہیں؟
اگر طلاق کے ذریعے عورت کو ظالم شوہر سے چھٹکارا مل جائے، جس کے بعد دوسری شادی کر کے اسے نئی زندگی شروع کرنے کا موقع مل جائے تو یہ اس کے حق میں ظلم ہے؟
یہ اور ایسے بہت سے سوالات میرے دماغ میں جوش مار رہے تھے، لیکن شادی کی پُر مسرّت تقریب کے رنگ میں بھنگ ڈالنا مجھے اچھا نہیں لگا. اس لیے میں نے آخری سوال پر اکتفا کیا: ”مرد عورت کو طلاق بھی نہ دے اور اس کے ساتھ بھی نہ رہے، یہ بہتر ہے، یا یہ کہ عورت کو طلاق دے دی جائے اور عورت کی دوسری جگہ شادی ہوجائے؟“
یہ سننا تھا کہ جسودا میم کا چہرہ تمتمانے لگا، ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی. انھوں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:
”عورت کو لٹکا کر رکھنے سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ اسے طلاق دے کر آزاد کردیا جائے. یہ طلاق اس کے حق میں ظلم نہیں، بلکہ رحم ہے. کوئی اُس بیس بائیس برس کی لڑکی سے پوچھے جس کی شادی ہوئے ابھی چند دن ہوئے ہوں، اچانک اس کا پتی اس سے منہ موڑ لے، پھر جیتے جی اس کی خبر نہ لے کہ اس پر کیا بیتی؟ کسی کو کیا معلوم کہ ایسی عورت کا ایک ایک پل کیسے کٹتا ہے؟ اس سے تو اچھا تھا کہ اسے موت آجاتی، اس طرح اسے ایک ایک لمحہ گُھٹ گُھٹ کر جینے سے تو نجات مل جاتی. یہ عورت کہنے کو تو سہاگن ہے، لیکن اس کی حالت ابھاگن سے بھی بدتر ہے.“

خوشی و مسرّت کی یہ مجلس رنج و غم میں بدلتی جا رہی تھی، اس لیے میں نے وہاں سے کھسک لینے ہی میں عافیت سمجھی. چند لقمے زہرمار کیے اور اپنی سہیلی شکنتلہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر آگئی.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • میرا بھی یہی مشاہدہ ہے کہ لبرل سوچ کے حامی اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لیئے کسی بھی قسم کی منافقت سے گریز نہیں کرتے۔