قندیل بلوچ، فکشن اور زندگی کی حقیقتیں - محمد عامر خاکوانی

ارادہ تو سیاست پر لکھنے کاتھا۔ نیوز لیکس والا معاملہ بے شک حکومت اور ادارے اپنی طرف سے نمٹا چکے ہیں، مگر ہم اس موضوع پر نصف درجن کالم لکھ چکے ہیں تو ایک اختتامی کالم لکھنے کا حق بہرحال محفوظ رکھتے ہیں۔ آج مگر سوشل میڈیا کے گرداب نے اپنے موضوع سے ہٹا دیا۔ میرے جیسے کالم نگار جو سوشل میڈیا پر بہت فعال ہیں، ان کے لیے قارئین کے فیڈ بیک، ان کی آرا اور سوالات سے نظر ہٹانا ممکن نہیں۔ پچھلے دنوں قندیل بلوچ پر فلم بنانے کی خبر آئی، سعدیہ قریشی نے اس حوالے سے گزشتہ روز نائنٹی ٹو نیوز میں تنقید ی کالم لکھا کہ قندیل بلوچ جیسے متنازع کردار پر بائیوپک فلم بنا کر اسے گلوریفائی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس تحریر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو ایک طویل بحث چھڑ گئی۔ مختلف آرا سامنے آتی گئیں اور بات پھیلتی گئی۔ بہت سے لوگوں کو اس سے اتفاق تھا کہ مرحومہ قندیل کی شخصیت کو میڈیا نے غیرمعمولی کوریج دی اور اب موت کے بعد اسے کمرشل انداز سے فروخت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ بعض دوستوں نے یہ اعتراض کیا کہ فلم بنانے سے کسی کو نہیں روکنا چاہیے اور انسانی کرداروں کے مختلف شیڈز ہوتے ہیں، فکشن نگار ان چیزوں کو سامنے لاتے ہیں، کوئی کردار برا نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ فیس بک پر کمنٹس در کمنٹس میں بعض اوقات بات الجھ جاتی ہے، مکمل نقطہ نظر سامنے آ نہیں پاتا۔ کالم میں البتہ بات نسبتاً زیادہ تفہیم اور وضاحت کے ساتھ کہی جا سکتی ہے۔

بات بڑی سادہ ہے۔ ادب کی اپنی ایک الگ فضا اور ماحول ہوتا ہے۔ فکشن خاص طور سے مختلف انسانی کرداروں کی ٹریٹمنٹ کا نام ہے۔ لکھنے والا کرداروں کے داخلی تضادات کا احاطہ کرتا اور مختلف شیڈز کو اپنی تحریرکا حصہ بناتا ہے۔ انسانی کردار بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتے، ان میں گرے ایریاز بھی ہوتے ہیں۔ اچھے انسان کے اندر منفی جذبات اور بظاہر منفی کرداروں کے اندر اچھے، مثبت انسانی خیالات ہوسکتے ہیں۔ مصنف ان چیزوں کو باہر لاتا اور پڑھنے والوں پر ایک خاص ڈرامائی کیفیت طاری کرتا ہے۔ کبھی کسی منفی کردار سے محبت کرا دینا اور کبھی بظاہر اچھے، نیک کرداروں کی منافقت سامنے لا کر ان سے بیزار کر دیتا ہے۔ لکھاریوں کے لیے مذہبی طبقہ پسندیدہ شکار ہے۔ پادری ہوں یا مولوی، ان پر فکشن نگار کا قلم تیز دھار خنجر کی طرح چلتا ہے۔ معاشرے کے معتوب کردار خواہ وہ طوائف کی شکل میں ہو، نشہ کرنے والا ہو، جواری یا بعض اوقات کوئی قاتل، ایک مشاق ادیب ان بظاہر قابل نفرت کرداروں کے اندر موجود مثبت علامتیں اجاگر کرتا اور قاری کے سامنے ایک نیا زاویہ نظر پیش کرتا ہے۔ یہ فکشن کی دنیا ہے۔ اس کی اپنی اہمیت ہے، جس سے انکار نہیں۔ ہم مختلف انسانی کرداروں کے احساسات، جذبات، سوچ سے آگاہ ہوتے ہیں اور پیچیدہ کرداروں کی نفسیاتی کیفیت سے بھی آگہی ملتی ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ فکشن پڑھنے والے کے اندر سافٹ نیس آ جاتی ہے، ایک خاص قسم کی نرمی اور گداز۔ عملی زندگی میں جب ایسے کرداروں سے اس کا واسطہ پڑتا ہے تو وہ ادب کی تربیت کی وجہ سے انہیں سطحی نظر سے نہیں دیکھتا اور کچھ رعایتیں دیتا ہے۔ فلم بنانے والے اسی فکشن کو ویژول افیکٹ دیتے ہیں۔اس میں زیادہ تاثیر، قوت اور شدت بھر دیتے ہیں۔ یہی فلم بنانے والے اگر کمرشل تقاضے سامنے رکھیں تو پھر وہ اپنی مرضی سے کرداروں کو آگے پیچھے، ہیرو کو ولن اور ولن کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔ اس سے دیکھنے والے کا زاویہ نظر مکمل طور پر تبدیل ہوجاتا ہے۔ اگر نازی نظریات رکھنے والا کوئی ڈائریکٹر فلم بنائے تو ممکن ہے کہ وہ ہٹلر کے کردار کو اس قدر گلوریفائی کر دے کہ دیکھنے والا مسحور ہو کر رہ جائے۔ ہٹلر کی تمام خامیاں تب غائب ہوجائیں گی اور اس کے مضبوط پہلوسامنے آئیں گے۔ نازی مخالف ڈائریکٹر جب فلم بنائے گا تو وہ ہٹلر کو ایک نیم پاگل، جنونی کردار کے طور پر دکھائے گا، جس نے کروڑوں لوگ مروا دیے، دنیا تباہی کے دھانے پر کھڑی کر دی، وغیرہ وغیرہ۔ کسی بھی متنازع کردار کو مصنف خوشی خوشی اپنے ناول کے پلاٹ میں شامل کرے گا کہ اس کے پاس الفاظ سے کھیلنے کے مواقع زیادہ ہوں گے۔ مختلف انسانی تضادات کو استعمال کر کے وہ کہانی میں ڈرامائیت پیدا کرے گا۔ فلم ڈائریکٹر ان سب چیزوں کو کمال کی حد تک لے جائے گا۔ کسی فکشن نگار یا فلم ڈائریکٹر کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ سماج پر اس کے کیا اثرات پڑتے ہیں؟ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی متنازع منفی کردار کو ہیرو بنانے سے نئی نسل اس کی پیروی کرنے لگے گی اور کئی قسم کے سماجی مسائل پیدا ہوں گے۔ یہ فکشن نگار اور فلم ڈائریکٹر کا ایشو ہی نہیں۔

یہ سب ایک طرف مگر دوسری طرف زندگی کی بے رحم حقیقتیں ہیں۔ سماج پر تیزی سے امنڈتی جدید تہذیب نے سماج کے کئی بیرئر اڑا دیے ہیں، باقی ماندہ کو بچانے کی جدوجہد جاری ہے۔حیا، شرم، اخلاق ہمارے معاشرے کے بنیادی جوہر ہیں۔ یہ اجزا مشرقی تہذیب میں بھی کسی حد تک موجود تھے اور ان کی بھرپور تہذیب، ترتیب اسلام نے بنا دی۔ یہ وہ فیبرک ہے جس سے پاکستانی سماج کی تشکیل ہوئی۔ اسے توڑنے، ختم کرنے سے بے پناہ مسائل پیدا ہوں گے۔ ہم اپنی بچیوں کو وہ سکھانے، سمجھانے، ذہن نشیں کرانے کی کوشش کرتے ہیں، جو ہمارے مذہب سے ہمیں ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں، نئی نسل کے لیے جو کچھ کہا، جس ضابطہ اخلاق کی انہوں نے تلقین کی، ہر مسلمان ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچوں میں وہ منعکس ہو۔ میرے جیسا ایک دنیا دار، گناہ گار باپ کی بھی یہ دلی خواہش ہے کہ اس کے بچے وہ تمام ڈوز، ڈونٹس (do's & don'ts) سیکھ لیں جو اسلام کی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ سیرت مبارکہ کے علاوہ صحابہ کی زندگیوں کے واقعات عام پڑھے لکھے گھرانوں میں بچوں کو سنائے جاتے ہیں۔ اہل بیت کی عظیم المرتبت شخصیات کے عزم، ایثار اور قربانیوں کے حیران کن واقعات ہمارے سکول کے نصاب میں شامل ہیں۔ نانی دادی اپنی رات کی کہانیوں میں انھیں شامل کرتی ہیں۔ اپنی بچیوں کو ہم بی بی خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مثالیں دیتے ہیں، شرم و حیا اور پاکیزگی کا اعلیٰ ترین مرقع، جنھوں نے اپنا جنازہ تک رات کو اٹھانے کی وصیت کی۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعات سنائے جاتے ہیں، شرافت، فراست اور بے مثال کردار جن کی پہچان ہے۔ وجہ صرف یہ کہ بچوں کو وہ روشن، منور آئیکون ملیں جن کی پیروی کر کے اپنی دنیا اور آخرت بہترین بنا سکیں۔

ہر معاشرہ اپنے فیبرک، ماحول اور ترجیحات کے اعتبار سے ان آئی کونز کو ترتیب اور تخلیق دیتا ہے۔ مغربی معاشرے کے اپنے آئیکون ہیں۔ وہ سیلف میڈ کرداروں اور غیر معمولی کارکردگی دکھانے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ایسے رول ماڈل وہاں کے اخبارات، جرائد، فلموں، ٹی وی ڈراموں میں عام نظر آتے ہیں۔ بولڈ، پراعتماد ، اپنا گھر چھوڑ کر دنیا کا مقابلہ کرنے والی لڑکیوں کی مغرب میں خاص اہمیت ہے۔ ایسے کردار ہمیشہ گلوریفائی کیے جاتے ہیں۔ اپنے دل کا سننے والی، اپنی خواہشات کو پانے کے لیے کچھ بھی کرگزرنے سے گریز نہ کرنے والی لڑکیاں بھی مغربی تہذیب کی رول ماڈل ہیں۔ مغربی تہذیب سے متاثر یا اس کی تقلید کرنے والے سماج بھی انھی آئیکون کو اپناتے ہیں۔ بھارت میں اس کی جھلکیاں عام ملتی ہیں۔ دپیکا پڈوکون جیسی ٹاپ اداکارائیں کھلے عام کہتی ہیں، ”ہمارا جسم ہماری ملکیت ہے، ہم اسے جس طرح مرضی استعمال کریں، کسی کو کوئی حق نہیں بولنے یا اعتراض کرنے کا۔“ یہ بات جب شدت اختیار کرتی ہے تو خاوند سے بھی یہ حق سلب کر لیا جاتا ہے۔ بھارتی ٹی وی ڈراموں میں یہ مناظر عام ملتے تھے کہ بیوی اپنے کسی سابق بوائے فرینڈ سے ملاقات کر کے رات گئے واپس آئی اور خاوند غریب نے ڈرتے ڈرتے پوچھ لیا، کہاں گئی تھی۔ جواب میں بیگم صاحبہ شوہر نامدار کو بے بھاؤ کی سناتیں اور اسے اپنی پرائیویسی میں مداخلت قرار دیتیں۔اس طرز کی پیروی پاکستانی ڈرامہ چینلز نے بھی کی، مگر ابھی وہ شرمائے شرمائے لگ رہے ہیں۔

ہمارے بیشتر گھرانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی بنیاد کو نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ہماری خواہش ہے کہ اپنے بچوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کریں، مگرمغربی تہذیب اور مغربی اخلاقی اقدار سے محفوظ رکھ سکیں۔ یہ کام آسان نہیں ہے۔ اس لیے کہ سماج اس حوالے سے فرینڈلی نہیں۔ اس لیے کہ ہمارے بیرئرز ٹوٹ رہے ہیں۔ والدین کا کام اب بہت مشکل ہوگیا ہے۔ تعلیمی ادارے، میڈیا اور سماج ماضی میں پاکستانی معاشرے کی تربیت کرتے تھے۔ پی ٹی وی کے زمانے میں والدین بے فکر ہو کر بچوں کو ڈرامے دیکھنے دیتے تھے۔ آج دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نجانے بات کس طرف چلی جائے۔ آج کے والدین کو اساتذہ، میڈیا اور معاشرے کے دیگر طبقات کے حصے کا کام بھی خود سنبھالنا پڑا ہے۔ ایسے میں کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہونا فطری ہے کہ خدارا مزید متنازع کرداروں کو آئیکون، رول ماڈل نہ بناؤ۔ کہیں پر تو مثبت نئے آئیکون نظر آئیں، جن کی مثال وہ بچوں، بچیوں کو دے سکیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.