عبث ہے شکوہ کہ اس ملک کا دستور یہی ہے - راؤ صمد

وہ اپنے والدین کا بہت ہی لاڈلا بیٹا تھا۔ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا، اس لیے والدین نے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور اسے اس بات کا احساس بھی تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ جلد کسی جگہ سیٹ ہو اور اپنے بیمار والد کو آرام کروا سکے ، بہنوں کو پڑھواسکے اور والدہ کو تسلی دے سکے کہ ماں! اب پریشان مت ہو، تیرا بیٹا کمانے لگ گیا ہے، اب تجھے اپنی بچیوں کے مستقبل سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ میں انہیں پڑھا لکھا کے بااعتماد بناؤں گا، اور ان کے اچھی جگہ رشتے کروں گا۔

میٹرک کے بعد سے اس نے روزگار کے تلاش میں جگہ جگہ دھکے کھائے۔ کہیں کام نہ ملتا اور اگر کہیں ملتا تو ایک ماہ تک کروا کے بغیر تنخواہ دیے چھٹی کروا دی جاتی۔ یہ اب کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کی عادت بن گئی ہے کہ کام کرواؤ اور جب تنخواہ کا مطالبہ ہو تو چھٹی کروا کے نیا بندہ رکھ لو۔ اس طرح بغیر کچھ دیے کام کرواتے جاؤ۔ایسے ہی دھکے اور دھوکے کھاکھا کر وہ مایوس ہوگیا۔ اک دن اس کی ملاقات اک ایجنٹ سے ہوئی جو لوگوں کو خلیجی ممالک کے ویزے لگوا کے دیتا تھا۔ اس نے لڑکے کو سبز باغ دکھائے اور سعودی عرب کا اک ویزا بتایا۔ ماں باپ کو بمشکل راضی کیا اور گھر کے کاغذات رکھوا کے ادھار رقم حاصل کی اور ایجنٹ سے ویزا لگوانے کا کہا۔ سب کام ارجنٹ ڈبل فیسوں میں کروائے اور پاسپورٹ وغیرہ ایجنٹ کے حوالے کردیا۔ وہ اور گھر والے سب خوش تھے کہ اب ہمارا بیٹا سعودی عرب میں سیٹ ہو جائے گا۔ بہنوں نے ابھی سے فرمائشیں شروع کر دی تھیں کہ بھائی ہمارے لیے یہ بھیجنا، وہ بھیجنا۔ وہ بھی سب کو یقین دلاتا آنے والے دنوں کے خیالات میں کھو جاتا۔

اک دن صبح صبح ایجنٹ آیا اور کہا کہ آج شام کی فلائٹ ہے، تیار ہو جاؤ۔ میں تمہیں ائیرپوٹ تک لے جاؤں گا وہیں سے ٹکٹ وغیرہ لینا ہے ۔ وہ جلدی جلدی تیار ہوا اور بیگ میں کپڑے رکھ کر ایجنٹ کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہوا۔ ائیرپوٹ پہنچ کر اس نے گھر کال کی کہ ابو جی مجھے یہ مشکوک سے لوگ لگ رہے ہیں۔ انہوں نے میرا سامان بھی اپنے پاس رکھا ہوا ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہیں میرے سامان میں کچھ رکھ نہ دیں ۔ باپ نے تسلی دی کہ بیٹا جاننے والے ہیں کچھ نہیں کرتے، تم پریشان مت ہو۔ انہوں نے بورڈنگ کروائی، ٹکٹ تھمایا اور تسلی دی کہ جدہ سے کمپنی کے آدمی تمہیں رسیو کر لیں گے ۔

اس کے دماغ میں اک انجانا سا خوف بیٹھ گیا تھا چنانچہ اس نے اندر جا کر ایک سیکورٹی والے کو کہا کہ میرا بیگ چیک کیا جائے، مجھے خدشہ ہے کہ ایجنٹ نے اس میں کچھ رکھ نہ دیا ہو۔دوبارہ چیکنگ ہوئی تو اس میں سے 1300 گرام آئس برآمد ہوئی۔ اسے دھر لیا گیا، رات گئے گھر اطلاع دی گئی کہ آپ کا بیٹا منشیات اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار ہے ۔

گھر والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، راتوں رات اس کا باپ تھانے پہنچا ۔ انہیں ساری حقیقت بتائی گئی لیکن ان کا کہنا تھا کہ برآمد آپ کے بیٹے سے ہوئی، اس لیے ہمارے لیے یہ ہی مجرم ہے ۔ عدالت میں پیشی ہوئی۔ والد نے وکیل کیا، جس نے ایک لاکھ روپے ایڈوانس لیے اور ایک لاکھ تفشیشی کو دلوائے کہ اس نے رپوٹ تیار کرنی ہے تو یہ آپ کے بیٹے کو بے گناہ لکھ سکتا۔

فوراً دولاکھ ادھار لے کر انہیں دیا گیا مگر چالان پیش ہوا تو اس میں لڑکے کا اعترافی بیان لکھا گیا تھا کہ میں یہ منشیات سعودی عرب اسمگل کرنا چاہتا تھا۔ تفشیشے نے لاکھ وصول کر ہی لیا تھا، معاملہ جلد نپٹانے کے لیے بچے کو مجرم لکھ دیا۔ وکیل بس جھوٹی تسلی دیتا رہا۔ بعد میں پتا چلا کہ وکیل اور تفشیشی نے اصل مجرموں سے بھی بھاری رقم وصول کی ہے ، جس کے عوض بچے کو ہی قربانی کا بکرا بنانا ہے ۔

نیا وکیل کرنے اور کیس کی پیروی میں وہ گھرانہ لاکھوں کا مقروض ہو چکا۔ جج نے ضمانت کی درخواست بھی خارج کردی۔ اس کے والد نے اینٹی نارکوٹکس فورس سمیت تمام متعلقہ اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے مگر شنوائی نہیں ہوئی۔ ماں نوحہ کناں ہے کہ ہمارا قصور بس اتنا ہے کہ ہم نے بہتری کے خواب دیکھے ، اس کی کیا اتنی بڑی سزا ہوتی ہے ؟ لیکن اسے کون سمجھائے کہ عبث ہے شکوہ کہ اس ملک کا دستور یہی ہے۔ یہاں مجرم کو بچانے کے لیے ہی سارا نظام کام کرتا ہے، چاہے اس کے لیے بے گناہوں کو ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔