”کچھ چاہیے؟ ہاتھ بلند کریں“ - فیضان رضا سیدؔ

”جو لوگ نہیں چاہتے کہ چیچہ وطنی سے موٹروے گزرے، وہ ہاتھ کھڑا کریں.“
وزیراعظم نواز شریف صاحب چیچہ وطنی میں عوامی خدمت کے جذبات سے لبریز خطاب کر رہے تھے۔
”دائیں طرف والے بتائیں کہ چیچہ وطنی سے موٹروے گزرنی چاہیے یا نہیں ۔ ۔ ۔ وہ دیکھیں وہ ہاتھ کھڑا کر رہا ہے اسے پوچھیں ذرا (قسمت غریب کی)۔۔ ہاں اب بائیں ہاتھ والے بتائیں۔۔ تو بھائیو! آپ سب چاہتے ہیں کہ چیچہ وطنی سے موٹروے گزرے؟؟“ عوام نے ہاتھ بلا ہلا کر پرزور انداز میں موٹروے کی حمایت کا اعلان کیا۔
”پس عوام نے فیصلہ کر دیا ہے چنانچہ موٹروے چیچہ وطنی سے گزرے گی۔۔ ۔ فیصلہ وہ ہونا چاہیے، جسے عوام کی تائید اور مرضی حاصل ہو اور وہ عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہو.“


اس ساری کارگزاری کو میں بڑے دلچسپ انداز میں ٹی وی پر دیکھ رہا تھا۔۔ لاہور سے ملتان اور پھر کراچی جانے والی موٹروے کا فیصلہ چیچہ وطنی کے جلسے میں آئے ن لیگ کے لوگ کر رہے ہیں۔ گویا اگر خدانخواستہ چیچہ وطنی کے لوگ یہ کہہ دیتے کہ ہمارے شہر سے موٹروے نہیں گزرنی چاہیے تو لاہور سے ملتان تک جانے والی موٹروے چیچہ وطنی سے گزرتے وقت فضا میں معلق ہو جاتی؟ اور غالباً یہی اعلان اسی قسم کے انداز میں وزیراعظم صاحب ہر اس شہر، گاؤں یا علاقے میں کریں گے، جہاں جہاں سے یہ موٹروے گزرے گی۔ بس دعا کریں کسی دیہات یا گوٹھ کے لوگ اسے ویٹو نہ کردیں اور یوں ہمارے وزیراعظم صاحب عوامی تائید اور امنگوں کے مطابق موٹروے کا روٹ وہ رکھ دیں جو افغانستان سے ہوکر آتا ہو۔

محترم نواز شریف صاحب!
آپ تو واقعی عوامی لیڈر ہیں یہاں عوام نے ہاتھ لہرا لہرا کر موٹروے کی خواہش کی، وہیں آپ نے قومی خزانے سے جمع نفی کا حساب کیے بغیر موٹروے منصوبے کا اعلان جڑ دیا۔ اگر آپ عوامی فیصلے ایسے ہی فرماتے ہیں تو ذرا کسی جلسے میں عوام سے یہ بھی پوچھ لیجیے کہ
”بھائیو!
کون کون چاہتا ہے کہ اسے ہر قسم کا مفت علاج ان کے علاقے میں میسر ہو ہاتھ کھڑا کریں!
جو اس بات کی خواہش رکھتے ہیں سب کو کھانے کو روٹی رہنے کو گھر پینے کو پانی اور اچھا روزگار مل جائے وہ ہاتھوں کو بلند کرلیں۔
جو بچوں کا اعلیٰ تعلیم نہیں دلواسکتے اور سرکار سے یونیورسٹیز کی فیس میں کمی چاہتے ہیں وہ ہاتھ لہرا کر فیصلہ سنادیں۔
جو چاہتے ہیں ہماری کابینہ کے 19 وزراء اپنے یومیہ خرچے کو ڈیڑھ کروڑ سے کم کرکے قابل قبول سطح پر لے آئیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔
جو چاہتے ہیں کہ بجلی کے بلوں سے 35 فیصد سے زیادہ ٹیکس کو کم کر کے مناسب قیمت پر لے آئیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔
جن کو لگتا ہے پی ٹی سی ایل پر 30 فیصد کے قریب ٹیکس زیادہ ہے، وہ ہاتھ بلند کریں۔
جو سمجھتے ہیں کہ موبائل نیٹ ورکس پر38 فیصد کے قریب لگنے والا ٹیکس ان کی پہنچ اور برداشت سے باہر ہے، وہ ہاتھ کھڑا کرلیں۔
جنہیں پیٹرول پر 40 فیصد اور ڈیزل پر50 فیصد ٹیکس پسند نہیں ہے، وہ ہاتھ کھڑا کرکے اسے کم کروا سکتے ہیں۔
اور ہم تجربہ کار لوگ ہیں، 85 ء سے پارلیمنٹ اور حکومت کا حصہ ہیں، اگر آپ یہ مطالبہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم قومی اداروں سے سالانہ پانچ سو ارب روپے کا ہونے والا نقصان ختم یا کم کر دیں تو ہاتھ اٹھا بلند کرکے اس کا اظہار کریں۔ ہم جھٹ سے عوامی خواہشات کو بجالائیں گے۔ بلکہ آپ سب کچھ چھوڑیں میرے بھائیو!
جو لوگ چاہتے ہیں میں غریب عوام کے دکھ درد میں ذاتی طور پر شریک ہوتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس کا یومیہ خرچ 23 لاکھ روپے اور اپنے بیرونی دوروں پر یومیہ 47 لاکھ روپے کا خرچہ کم کردوں، وہ اپنے ہاتھوں کو فضا میں بلند کرلیں!!“

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم عمران خان دو دن چھٹی پر نہیں تھے : ڈاکٹر شاہد مسعود

کیا وزیر اعظم جناب میاں محمد نواز شریف عوام میں کھڑے ہوکر ان باتوں کا فیصلہ جلسے میں آئی عوام کے بلند ہاتھوں کی تعداد پر کر سکتے ہیں ؟؟ کیا وزیر اعظم صاحب کرسکتے ہیں ؟؟