ہمارا ادب مایوسی کے گرداب سے کب نکلے گا؟ - ڈاکٹر یونس خان

مغرب کو جو عروج حاصل ہے وہ اسے کسی نے پلیٹ میں سجا کے پیش نہیں کیا بلکہ آٹھ صدیوں تک جہالت اور زوال کے گرداب میں پھنسے رہنے کے بعد یہ بڑی جدوجہد اور بیش بہا قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔

کیا یہ قربانیاں دینے والے عوام الناس تھے یا پھر وہاں کے حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ؟ ان دونوں سوالات کا جواب نہ صرف نفی میں ہے بلکہ ان ہر دو طبقہ ہائے مغرب نے اس عروج کی راہ میں حتی المقدور روڑے ہی اٹکائے۔ ۔۔۔۔۔ پھر وہ کون تھے، جن کی قربانیوں کے ثمرات سے آج پورا مغرب مستفید ہو رہا ہے ؟ یہ تھے ان کے دانشور، ادیب، فلسفی اور سائنسدان!

ایک طرف ان کے سائنسدانوں نے کلیسائی افکار کی عمارت زمین بوس کرنے کی جسارت سے ملامتیں سمیٹیں تو دوسری جانب ان کے شاعروں نے امید کے چراغ جلاتے ہوئے لہو گرمانے والی شاعری کی اور تیسری جانب فلاسفر اور ادیبوں نے عوام کو صدیوں کی ذہنی غلامی سے آزاد کرنے کے لئے انقلابی افکار پیش کئے۔ اس نظم و نثر نے عوام کے فکر و شعور کے نئے در وا کئے اور انہیں آزادئ انساں کے ایک نئے مفہوم سے آشنا کرتے ہوئے ان میں عقل و دانش، اعلی اخلاقی اقدار، مساوات اور حقوقِ انسانی کا حیرت انگیز شعور بیدار کیا۔ اس بیداری کی لہر نے مغرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ارتعاشات پیدا کئے۔

اس تناظر میں اگر مشرق خصوصا پاکستانی سماج کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے معاشرے کے بحران اور فکری و ذہنی زوال اور افراد کے رویوں کی زیریں ترین سطح پر بہتے ہوئے فہم و دانش کے دریاؤں میں ادب اور فلسفہ کے نہایت غیر ذمہ دارانہ افکار کا بہاؤ نظر آئے گا۔

سادہ الفاظ میں اسے یوں کہا جائے کہ وہ ادب اور فکری سرمایہ جس سے معاشرے زندہ و جاوید ہوتے ہیں، اول تو ہمارے ہاں بہت کم لکھا گیا ہے اور جو لکھا بھی گیا ہے اسے در خور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ ہمارے مقبول ترین ادب میں بھی مایوسی کا عنصر زیادہ ہے، امید کم ہے۔ مسائل کا ذکر ہے لیکن حل موجود نہیں۔ تفریحی ادب کی بھرمار ہے اور ٹی وی اور انٹرنیٹ کے زیر اثر وہ ادب لکھا جا رہا ہے جو عوام میں فورا مقبول ہو کر سپر ہٹ ہو جائے چاہے اس سے بجائے بلندئ افکار کے، زوال آمادہ طرز فکر ہی کیوں نہ حاصل ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کی ایک بہت ہی خوبصورت عادت "ادب سے عروج کی داستان"

ہماری موسیقی مرد وعورت کے رومانس یا ہلا گلا سے باہر نہیں نکل پا رہی۔ شاعری میں بھی وہی رومانی فضا، جدائی کے غم، تقدیر کے ستم، اپنی بے کسی کا رونا اور خود ترسی و خود نمائی و خود فریبی کا لا متناہی سلسلہ۔ ڈراموں میں وہی اندرونِ خانہ سازشوں کے جال، گلیمر کی چکا چوند اور رومانویت۔

یہ سب کیا ہے ؟ کیا ہم بنا سوچے سمجھے، لاشعوری طور پر انہی پستیوں کی جانب بہے چلے جا رہے ہیں اور ایک لمحہ، صرف ایک لمحہ کے لئے بھی امید کے چراغ جلانے والے مسیحا، رازدانِ خودی اور ترجمانِ حقیقت، اقبال کے پیغام پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں ؟

نظم، نثر، ڈرامہ اور موسیقی، یہ چار شعبے ہیں جن کی درست سمت کا تعین کر کے ہم اپنی قوم، خصوصاً نوجوان نسل کی محرومیوں، بد نصیبیوں اور زوال آشنا رویوں کا تدارک کر کے ان کے زخموں کا مداوا کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں مغرب کے ادب و افکار سے استفادے کے ساتھ ساتھ جدید فہم کو قرآنی فکر سے ہم آہنگ کر کے کلامِ اقبال کا نئے سرے سے مطالعہ کرنا ہو گا۔ ہمارے ہر شاعر، ادیب، گلوکار، موسیقار اور ڈرامہ نگار پر لازم ہے کہ ان کی تخلیقات ان تجلیات کے پر تو سے جلا پا کر مایوسی کے گرداب سے باہر نکل آئیں۔ پیامِ امید، تعمیرِ خودی، سماجی و نفسیاتی مسائل کا حل اور تعمیرِ شخصیت و کردار ہمارے آرٹ اور ادب کا مرکزی موضوع رہیں اور اسی سرچشمے سے تمام اذہان سیراب ہوں۔ یہی ہے چارہ عصرِ رواں کی اداس نسلوں کے دکھوں کا۔