میں اس گھر کا محافظ ہوں - فیصل ندیم

کیا دن تھے وہ جب بھائی میرے ساتھ زیادتی پر زیادتی کئے جارہے تھے۔ ان کی طرف سے آنے والی تکالیف سے میرا دل بہت پریشان تھا۔ زیادہ پریشانی اس بات پر تھی کہ یہ سب کچھ کرنے والا کوئی اور نہیں میرا اپنا خون تھا۔ میری بڑھتی ہوئی پریشانی مجھے کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی تھی۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا ایک جانب رکھا ہوا ایک بڑا ہتھوڑا میری توجہ اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب ہوگیا۔ میں تیزی سے اس ہتھوڑے کی طرف بڑھا۔ غصے کی زیادتی سے مجھے اپنا خون ابلتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ ہتھوڑا اٹھائے میں تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے ہی گھر کی بیرونی دیوار کے سامنے پہنچا اور ہتھوڑے کو پوری قوت سے گھر کی بیرونی دیوار پر برسانا شروع کردیا۔ دیوار پر لگنے والی ہر ضرب کے ساتھ میرے دل میں ایک عجیب سا سکون اترتا چلا جارہا تھا۔
یہ کیا ہورہا ہے ؟ایک زوردار آواز نے میرے تیزی سے چلتے ہوئے ہاتھوں کو ایک دم بریک لگادیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا محلے کی ہردلعزیز شخصیت چچا عبداللہ میری پشت پر کھڑے تھے۔ انہوں نے پھر پوچھا یہ کیا ہورہا ہے ؟آپ دیکھ رہے ہیں، یہ میرا جواب تھا۔ کیا یہ تمہارا گھر نہیں ہے ؟ چچا عبداللہ نے پوچھا۔ میرا گھر؟یہاں وہ لوگ رہتے ہیں جن کے وجود سے مجھے نفرت ہے لوگ انہیں میرا بھائی کہتے ہیں لیکن وہ بھائی کے روپ میں میرے بہت بڑے دشمن ہیں۔ وہ مجھے میری بیوی میرے بچوں کو ایک لمحہ چین نہیں لینے دیتے اس گھر کا یہی انجام ہونا چاہئے۔ میری بات سنو ' چچا عبداللہ آگے بڑھے 'ان کی طرف سے کی گئی زیادتیوں میں اس گھر کا کیا قصور ہے ؟ یہ صرف ان کی حفاظت تو نہیں کرتا اس کی دیواریں اس کی چھت صرف ان کو ان کے بچوں کو تو زمانے کے سرد و گرم سے محفوظ نہیں رکھتی نا!چچا عبداللہ بڑے آرام سے بڑے نرم لہجے میں مجھے بات کیے جارہے تھے۔ کیا تم برداشت کر سکتے ہو کہ تمہاری بیوی تمہارے بچے سخت گرمی یا سخت سردی میں کسی کھلے میدان میں موسم کی سختیوں کا سامنا کررہے ہوں ؟کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ ہر گزرنے والے کی اچھی بری نگاہیں تمہاری بیوی تمہاری بیٹی کے کے پاکیزہ وجود کو چھیدتی چلی جائیں ؟بتاؤ کیسے برداشت کروگے کیسے ؟چچا عبداللہ کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح انگارے کی طرح دہکتے میرے دماغ پر برس رہے تھے۔ میں چشم تصور میں اپنی عزت دار بیوی اور بیٹی کو لوگوں کی گندی نگاہوں سے گھائل ہوتا دیکھ رہا تھا۔ سڑک کے کنارے پڑے میرے بچے پر پڑتی لوگوں کی ترس کھاتی نگاہیں چشم تصور میں ہی مجھے شرم سے پانی پانی کئے دے رہی تھیں۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے بازو شل ہوگئے ہیں ہتھوڑا میرے ہاتھ سے گرگیا۔
چچا عبداللہ کی آواز مجھے بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ تمہیں یاد ہے تمہارا باپ کتنی محنت کتنی مشقت خون پسینہ ایک کرکے اس نے یہ گھر بنایا تھا۔ چچا عبداللہ پوچھ رہے تھے اور میں گویا اپنی ہی نگاہوں میں ذلیل ہوتا چلا جارہا تھا۔ میرے بیمار ذہن میں چچا عبداللہ کی آواز گونج رہی تھی، صحیح تو ہے کسی مکین کی سزا مکان کو دینا کیسے عقلمندی ہوسکتی ہے۔ میرے ذہن کے نہاں خانوں سے کچھ لوگوں کی تصاویر ابھر ابھر کر سامنے آرہی تھیں وہ تصاویر جو میں اکثر کسی ٹی وی چینل کسی اخبار پر دیکھتا تھا۔ اپنے گھر سے بے گھر کھلے آسمان تلے اپنی چھت کو ترستے بے شمار لوگ جنہیں دیکھ کر ہمیشہ میری روح کانپ اٹھتی تھی اور میں ہمیشہ ہی رب سے دعا کیا کرتا تھا اللہ مجھ سے میرا گھر کبھی نہ چھیننا۔ میں یہ کیا کررہا تھا اور کیوں کررہا تھا ؟مجھے یاد آنے لگے وہ لوگ جو ہمدردی کی چادر اوڑھے میرے سامنے آکر میرے بھائیوں کی عیب جوئی کیا کرتے تھے۔ اس وقت مجھے وہ اپنے سب سے بڑے ہمدرد دکھائی دیتے تھے لیکن اب مجھے لگ رہا تھا نہیں وہ میرے دوست نہیں تھے۔ چھوٹے موٹے مسائل تو ہر گھر میں ہوتے ہیں کوئی یوں بھی گھر برباد کرتا ہے۔ گھر ہوگا تو آپس میں بیٹھ کر مسئلے بھی حل کرلئے جائینگے اور اگر گھر ہی نہ ہوا تو ؟نہیں میں اس گھر کو کبھی ٹوٹنے نہیں دونگا کبھی نہیں کبھی بھی نہیں ! گھر ہے تو سب کچھ ہے گھر نہیں تو کچھ بھی نہیں
میں پھر کھڑا ہوا، ہتھوڑا پھر میرے ہاتھ میں تھا۔ چچا عبداللہ بغور میری طرف دیکھ رہے تھے کیا ارادہ ہے بیٹا بات سمجھ میں آئی ہے یا ؟آئی ہے چچا بالکل آئی ہے گھر ہے تو ہم ہیں گھر نہیں تو ہم بھی نہیں۔ یہ ہتھوڑا اب ہمیشہ ہاتھ میں ہوگا مگر ان لوگوں کے لیے جو گھر کو توڑنے کی بات کریں گے
یاد کیجئے !
1947 میں ہمارے بڑوں نے بھی ایسا ہی گھر ہمیں بنا کردیا تھا کہیں غیروں کی باتوں میں آکر ہمارا ہتھوڑا بھی اس کی دیواروں پر تو نہیں برس رہا۔ یاد رکھیں لا الہ الا اللہ کے نام پر بننے والا گھر "پاکستان " اللہ کا انعام ہے۔ اس کی قدر کریں ، اس سے محبت کریں ، اس کی تعمیر کریں !