شیخ اور پارٹ ٹائم انقلابی - زبیر منصوری

شیخ آپ عظیم تھے!
شیخ میں آپ کو گز بنا کر جب امت کی قیادتوں کے قد ناپنے کی کوشش کرتا ہوں، ہمیشہ ناکام رہتا ہوں، بونوں کی اس دنیا میں کوئی ملتا ہی نہیں، کوئی جچتا ہی نہیں۔

پچیس برس! پچیس برس ہوتے ہی بھلا کتنے ہیں؟
اتنے ہی کچھ برس گزرے ہوں گے غزہ کی ایک مسجد کے بتدریج معذور ہوتے اس امام کو، شاید جانتا بھی کوئی نہیں تھا مگر پھر اللہ پر ایمان محکم، مطمئن کر دینے والے ایمان، دل کے اندر، بہت اندر تک مٹھاس کی مانند گھلے ہوئے ایمان نے آپ کو کس راستے پر لا ڈالا! واہ سبحان اللہ!

ایمان سے دل کو بھر کر عقل سے دماغ کو آراستہ کر کے، دانائی اور حکمت کی باگیں تھام کر، آپ نے محبت فاتح عالم کی بھرپور اور ناقابل شکست قوت سے انسانیت کے سب سے بڑے شیطان ملک اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا دیے، خود اسرائیل ہی سے فنڈ لیا، باڈی بلڈنگ کلب بنائے اور جب بازوؤں کی مچھلیاں سخت ہوئیں، ان میں جب زور آزمائی کی جان پیدا ہوئی تو غزہ کے نوخیز ممولوں کو کرگسوں سے لڑا دیا، عربوں کو غیرت دلائی، وسائل لیے اور سینکڑوں پی ایچ ڈی تیار کر کے ٹیلنٹڈ ٹیم بنا ڈالی. ایسی مائیں تیار کیں جو شوہروں کے ساتھ مل کر زیادہ سے زیادہ بچے جنم دینے کی ”فیملی پلاننگ“ میں لگ گئیں اور جذبہ یہ کہ بچے نہیں ہوں گے تو گرم تازہ لہو تحریک کو کون دے گا؟

یہی نہیں، یہاں رنتیسی تیار ہوتا ہے جو کہتا ہے موت تو آنی ہے اسپتال میں آئے یا اپاچی ہیلی کاپٹر کی فائرنگ سے، تو پھر اپاچی ہی کیوں نہیں؟ آپ نے خالد مشعل اور اسماعیل ہنیہ دیے جن کے دل ایک دوسرے کے اندر پیوست ہیں!

شیخ! میرے شیخ احمد یاسین!
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے۔

آپ اور آپ کی ٹیم کو دیکھتا ہوں اور خود پر نظر ڈالتا ہوں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے.
میں ۔۔۔ اصول کے نام پر انا کا اسیر،
میں ۔۔۔ دوسروں کے مچھر چھاننے میں مصروف،
میں ۔۔۔ کہ دل محبت سوز گداز نرمی سے خالی،
میں ۔۔۔ کہ قاعدوں ضابطوں چونکہ چنانچہ کے ساتھ پارٹ ٹائم انقلابی،
میں ۔۔۔ کہ امریکہ کے ایوانوں میں ویزہ لے کے آگ لگا دو کا نعرہ زن،
میں ۔۔۔ کہ گہرائی اور گیرائی سے سوچنے سے عاری، دور اندیشی سے بس دور دور کا تعلق،
میں ۔۔۔ کہ عہدوں اور مناصب کے لیے میرے دکھانے کے دانت اور، کھانے کے دانت اور
میں ۔۔۔ کہ میری درویشی بھی عیاری سلطانی بھی عیاری۔

شیخ! واللہ کبھی کبھی بہت یاد آتے ہو.
وہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش ہی کر دو!
کچھ ہمیں بھی تو عطا ہوں!
آپ جیسے! پورے نہ سہی معذور ہی سہی

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.