ایک ملحد اور مؤمن کا مکالمہ - محمد فیصل شہزاد

الحاد کا لفظ عربی زبان میں لغوی اعتبار سے، انحراف یعنی درست راہ سے ہٹ جانے کے معنوں میں آتا ہے. عموماً اس لفظ کا الحاق وجودِ خدا، نبوت و رسالت اور موت کے بعد کی زندگی یعنی آخرت میں سے کسی ایک کے یا تینوں کے انکار پر کیا جاتا ہے اور یہ انکار بےمہار عقل کے استعمال کی بنا پر ہوتا ہے. اپنی عقل اور حواس پر بھروسا کرنے والا انسان، سر کی آنکھوں سے اپنے خالق کو نہ دیکھ سکنے کی وجہ سے اس کا انکار کر دیتا ہے، جبکہ ربّ محض عقل سے نہیں، وجدان سے محسوس ہوتا ہے، کیونکہ وجدان مرکز ہے محبت کا اور محبت ہی اللہ رب العزت کی معرفت کا سب سے آسان راستہ ہے۔

پھر یہی انسان جب مرنے کے بعد کی زندگی کے احوال اللہ کے رسولوں کی زبانی سنتا ہے تو اپنی محدود عقل سے اسے وہ زندگی سمجھ میں نہیں آتی، سو وہ یہ سوچے بغیر کہ اس دنیا کی بے شمار چیزیں بھی تو اس کی چھوٹی سی سمجھ دانی میں نہیں آتیں، فوراًحیات بعد الموت کا انکار کر دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف ہر عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ ضرور ایک اور زندگی ہونی چاہیے، جہاں انصاف ہو، جزا و سزا ہو، جہاں انسان اپنے محبوب حقیقی کا دیدار کر سکے، اس کا قرب پا سکے۔

پچھلے دنوں ڈاکٹر وین ڈائیڈ کا لکھا ایک مکالمہ ایک ویب سائٹ پر پڑھا توبہت ہی اچھا لگا۔ دیکھیے کتنی خوبصورت مثال سے ذات الٰہی اور حیات بعد الموت کا انکار کرنے والوں کو بات سمجھائی ہے. ایک عقل و شک کے پھندوں میں پھنسے بچے اور ایک محبت کی طاقت سے اپنے وجدان کو مہمیز کرتے بچے کے درمیان مکالمہ پڑھیے اور ایک ملحد اور پر خود ہی قیاس کر لیجیے…!

ایک ماں کے بطن میں جڑواں بچے تھے…ایک نے دوسرے سے پوچھا:
’’کیا تم زچگی کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتے ہو؟‘‘
دوسرے نے کہا: ’’کیوں نہیں؟ یقینا… زچگی کے بعد کچھ نہ کچھ ضرور ہوناچاہیے۔ ممکن ہے کہ ہم یہاں اس لیے ہوں کہ خود کو آنے والی زندگی کے لیے تیار کریں۔‘‘
’’فضول بات…!‘‘ پہلا بولا۔ ’’زچگی کے بعد کوئی زندگی نہیں، بھلا وہ کس قسم کی زندگی ہو سکتی ہے؟‘‘
دوسرے نے کہا۔ ’’مجھے نہیں معلوم لیکن وہاں یہاں سے زیادہ روشنی ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ ہم وہاں اپنے پیروں سے چلیں اور اپنے منہ سے کھائیں۔ ممکن ہے کہ وہاں ہمارے پاس ایسے حواس ہوں، جن کے بارے میں ہمیں ابھی سمجھ نہیں ہے۔‘‘
پہلے نے مذاق اڑایا۔’’ کیا بے وقوفی کی بات ہے… پیروں سے چلنا ممکن ہی نہیں، اور اپنے منہ سے کھانا؟… مضحکہ خیز… ناف سے جڑی نالی کے ذریعے ہمیں خوراک اور ہر وہ شے مل جاتی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ نالی چھوٹی سی ہے، زچگی کے بعد کی زندگی کا تصور بھی محال ہے۔‘‘
دوسرے نے اصرار کیا: بہرحال میرا خیال ہے کہ وہاں کچھ نہ کچھ ضرور ہے اور شاید یہاں سے بہت مختلف… ممکن ہے کہ وہاں ہمیں خوراک کی اس نالی کی ضرورت نہ ہو۔‘‘
پہلے نے کہا: ’’ بالکل فضول! اچھا چلو پھر یہ بتاؤکہ اگر زچگی کے بعدکوئی زندگی ہے تو کبھی کوئی وہاں سے واپس کیوں نہیں آیا؟ زچگی زندگی کے خاتمے کا نام ہے اور زچگی کے بعد اندھیرے، خاموشی اور بے ہوشی کے سوا کچھ نہیں ہے، اس کے بعد سب ختم ہو جائے گا۔‘‘
دوسرا بولا۔ ’’خیر میں یہ سب نہیں جانتا، لیکن مجھے یقین ہے کہ زچگی کے بعد ہماری ملاقات ہماری ماں سے ہو گی اور وہی ہماری دیکھ بھال کرے گی، جیسا کہ ابھی کرتی ہے۔‘‘
پہلے نے حیرت سے کہا۔ ’’ ماں؟… اوہ… کیا تم واقعی ماں پر یقین رکھتے ہو؟کیا مزاحیہ بات کی ہے تم نے!… اگر ماں وجود رکھتی ہوتی تووہ ہمیں نظر آتی، مگر وہ کہاں ہے، کہیں بھی تو نہیں؟‘‘
دوسرا بولا:’’ماں ہمارے چاروں طرف ہے… ہر جانب… ہم بھی اسی کے ہیں اور ہمیں اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے… ماں کے بغیر یہ دنیا، جہاں ہم موجود ہیں، وجود نہیں رکھ سکتی ہے۔‘‘
پہلے نے اعتراض کیا۔ ’’ ماں مجھے نظر نہیں آتی… لہٰذا عقل یہی کہتی ہے کہ ماں کا کوئی وجود نہیں…یہ تم جیسے بے وقوف کی ذہنی اختراع ہے۔‘‘
دوسرے نے کہا۔’’ نہیں… تم غورتو کرو، کبھی کبھی جب ہم خاموش ہوتے ہیں، ہم توجہ دیتے ہیں اور اس کا دھیان لاتے ہیں تو ہمیں اُس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے ، کہیں اوپر سے اس کی محبت بھری آواز سنائی دیتی ہے…اور تم دیکھ لینا، ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہم اس کو دیکھ بھی لیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   خود کلامی - محمد منیب خان

ہاں عنقریب ایک دن ایسا ضرور آنے والا ہے جب ہم مر کر اگلی زندگی میں منتقل ہو جائیں گے، ایک ایسی زندگی جس کی کوئی انتہا نہیں اور جو ابھی ہمیں اس محدود عقل کے ساتھ سمجھ میں آنے والی نہیں. وہاں خوش نصیب ترین نفوس کے لیے ایک حسین ترین لمحہ ایسا ضرور ہے جب وہ ’اس‘ کو دیکھ لیں گے اور ’اس‘ کا قرب پا لیں گے.
اسی کو جو اس وقت بھی ہماری رگِ جاں سے قریب ہے، اور جب رات کی تنہائیوں میں ہم خاموشی سے ’اس‘ کے دھیان میں کھوجاتے ہیں تو اس کی جانفزا پکار دل کے کانوں سے سن لیتے ہیں۔ (اللھم اجعلنا منھم…!)
٭٭٭
نوٹ: وائن کے مکالمے میں مصنف کی جانب سے تھوڑا بہت اضافہ کیا گیا ہے۔

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں