یہ تلوار - سجاد بلوچ

میجر جنرل آصف غفور کی کل کی پریس کانفرنس سے جہاں بہت لوگوں کو خوشی ہوئی وہیں کچھ کو دکھ اور کچھ کو باقاعدہ صدمہ پہنچا. یہ دکھ، جیسا کہ سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے، صرف میڈیاکے کچھ دوستوں کو ہی نہیں بلکہ کئی اور لوگوں کو بھی ہوا. اب ان سب کی نیت پر توشک نہیں کیاجا سکتا، بات معاملات کو سمجھنے اور اپنے اپنے نقطہ نظر کی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں فوجی حکمرانوں اور سیاست دانوں نے ملکی مفاد اور جمہوریت کے نام پر ایسے ایسے تماشے کیے ہیں کہ لوگوں کو حالات میں بہتری کی واحد امید ہر تھوڑے عرصے بعد کسی نہ کسی طرح کی حکومتی تبدیلی ہی میں نظر آتی ہے. حکومتوں کے خلاف احتجاج اور بڑے بڑے واقعات، غلطیاں یا سکینڈلز کسی ممکنہ تبدیلی کے امکانات کو روشن کر دیتے ہیں اور میڈیا کا غالب حصہ انہیں بیچتا ہے اور ان امکانات میں خوابوں کو گوندھ کر پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق یوں کہیے کہ ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں، اصل خرابی یہ نظام ہے۔ اگر بنیاد خراب ہے تو اس پر جیسی بھی عمارت تعمیر کر دی جائے، اس نے تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ ویسا ہی ہونا ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کی خرابیاں واضح ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ سونے پر سہاگہ ہماری قوم کا حافظہ بھی ماشاء اللہ کافی اچھا ہے، ہم بہت جلد سابقہ آمروں یا سیاستدانوں کی کارکردگی کو بھلا کر پھر انھی سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ یہ توقعات دونوں صورتوں میں ہوتی ہیں ،جب فوج اقتدار میں ہوتی ہے تو انہیں سیاستدان یاد آتے ہیں اور یہ ملک بدر لیڈروں کے استقبال کے لیے بچھ بچھ جانے کو تیار ہوتے ہیں، اور بالکل اس کے الٹ جمہوری حکومتوں کو بھی کام کرتے دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور انتظار کرتے ہیں کہ کب فوجی مداخلت ہو اور اس حکومت کا بوریا بستر لپیٹا جائے۔ یہ بے صبری ہے، اور خدا جانے بے صبری کم علمی سے پیدا ہوتی ہے یا وہ وجوہات اس کا سبب ہیں جن کا شروع مں ذکر ہوا، مثلاً حالات میں کوئی واضح بہتری پیدا نہ ہونا وغیرہ۔ سو ان سب بے صبروں کی نیت پر محض کم علمی کا شک کرنا بھی درست نہیں۔ اور نہ ہی یہ کوئی جواز ہے کہ جب لوگوں کی توقعات پوری نہیں ہوتیں تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں۔

لیکن ایک بات طے ہے کہ اس عوامی بے صبری ہی میں کچھ میڈیا کے مداریوں اور اندرونی و بیرونی سازشی ٹولوں کو اپنے خواب بننے اور بیچنے میں سہولت ہے۔ کئی اینکرز ہر رات پرائم ٹائم شوز میں عوام کو سونے سے پہلے حکومت کے خاتمے کی پیشین گوئیوں کی میٹھی گولیاں کھلاتے ہیں، انہیں سننے اور دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ بس صبح جاگیں گے تو حکومت تبدیل ہو چکی ہوگی۔ اور یہ عمل اس تواتر سے دہرایا جا رہا ہے کہ اس بیچارے کو صبح جاگنے کے بعد یاد بھی نہیں ہوتا کہ کل کیا دیکھا تھا کیوں کہ اسے روزی روٹی کی تلاش میں نکلنے کی جلدی ہوتی ہے، اور پھر رات کو واپس گھر پہنچ کر وہ اسی گذشتہ یا گم شدہ خوش فہمی کو چھوٹی سکرین پر تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ اور چینل بدلتے بدلتے یہ سہولت بآسانی مل جاتی ہے۔ یہ شاید حالات سے مجبور انسانوں کی جبلت بھی ہوتی ہے کہ وہ ہر حکمران کو اپنی محرومیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور حقیقت میں زیادہ تر ایسا ہوتا بھی ہے، سو حکمرانوں کو ہتھکڑی لگنے کے خواب دیکھنے اور دکھانے والوں کی اپنی ایک دنیا ہے اور اس دنیا میں دکان دار و خریدار بے شمار ہیں۔

اب اس پریس کانفرنس کے بعد موجودہ فوجی اور سویلین حکومت کے درمیان تعلقات سے زیادہ معاملات کے سلجھنے کا ایک نیا پہلو سامنے آ رہا ہے، حالانکہ کچھ لوگ 2023ء تک کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کے کسی معاہدے کا ذکر بھی کرتے ہیں، لیکن اس سب سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ خدشات مکمل طور پر ختم ہو گئے، یعنی اس قصے کا خاتمہ ہوگیا؟ جواب یقیناً نفی میں ہے، تو جب تک اس مداخلت کے خدشات ختم نہیں ہوتے، جب تک یہ تلوار سر پر لٹکتی رہےگی، ہمارے حالات نہیں سدھریں گے. اس کی کئی وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ سیاستدان اس مسئلے کو اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا جواز بنا کر پیش کرتے ہیں، وہ یہی کہتے ہیں کہ ہمیں تو کام ہی نہیں کرنے دیا گیا یا کرنے دیا جاتا، اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ کسی جمہوری حکومت کے کسی غلط اقدام کے خلاف باہر نکلنے والے یا احتجاج کرنے والے کو ہمیشہ شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے ہمیشہ کسی خفیہ ہاتھ کی موجودگی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ کسی بھی تحریک یا احتجاج کو پلانٹڈ کا طعنہ دے کر رد کر دیاجاتا ہے۔ ہمارے ہاں کچھ صورتوں میں ایسا ہوتا بھی ہے اور حالیہ حالات میں بھی یہ ممکن ہے لیکن کیا اگر ایسا نہ ہو اور واقعتاً کوئی احتجاج کرنے والا عوامی امنگوں کا حقیقی ترجمان ہو اور وہ واقعی ان بھیڑ بکریوں کے حقوق کے حصول کی جنگ کے لیے باہر نکلے تو کیا اس پر الزام نہیں لگے گا یا اسے شک کی نظروں سے نہیں دیکھا جائے گا؟ اس کا جواب ہے ہاں ایسا ہی ہوگا اور یہ اس مداخلت کی تلوار کے لٹکنے کا دوسرا اور سب سے بڑا نقصان ہے۔ سیاست دانوں کے ہر برے کام پر ان کی ’’شہادت ’‘‘ کی وجہ سے پردہ پڑ جاتا ہے اور وہ اس تالاب سے نہا کر پوتر ہو کر باہر نکلتے ہیں۔ تو گویا یہ ایک ایسا تالاب ہے جس میں نہا کر سیاستدان حکمران بنتا ہے، ویسے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جیل تو سیاست دانوں کا دوسرا گھر ہے اور ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ اب اس تلوار نے ایک اور کام خراب کیا ہے کہ واقعتاً حق کی خاطر کسی ظلم کی مخالفت میں قید کاٹنے والے اور کرپشن کی بنیاد پر اندر ہونے والے ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔

غرض یہ کہ اس غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ہماری ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے نقصانات کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس منزل کے حصول میں یعنی اس بے یقینی کے خاتمے میں شاید دو تین دہائیاں مزید لگ جائیں، تب تک ہمیں تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اسی طرح کے حکمرانوں پر گزارا کرنا پڑے گا، کیونکہ ہمارا سماجی ڈھانچہ اسی طرح کے لوگوں کو نیچے سے اوپر تک ایک خاص لڑی میں پروئے ہوئے ہے بلکہ یوں کہیے کہ یہی ہمارا سماجی ڈھانچہ بناتے ہیں۔ سو دو تین دہائیوں کے جمہوری تسلسل کے بعد شاید کوئی خالص احتجاج یا انقلاب کی صورت بنے، کہ جس پر شک بھی نہ کیا جائے اورجو اس نظام کر بدل کر رکھ دے یا پھر وہی ایک صورت کہ پھر سب کچھ اسی طرح ہو جائے جس کا خواب ہمیں ہر روز دکھایا جاتا ہے، اور میری مجوزہ دو تین دہائیوں والی بات خدا نخواستہ صدیوں تک پھیل جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */