قندیل پر ہی کیوں..؟؟ سعدیہ قریشی

آپ قندیل بلوچ پر فلم بنانا چاہتے ہیں ضرور بنائیں لیکن از رِہ کرم اسے اس ملک کی آخری بہادر اور پرعزم لڑکی ثابت کرنے سے گریز کریں۔ یہ پاکستان کی لاکھوں پڑھی لکھی روشن خیال، قابل اور ذہین لڑکیوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔ آپ اس پر فلم بنانا چاہتے ہیں تو ضروربنائیں مگر اسے عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والی عظیم خاتون کا ٹائٹل دینے سے گریز کریں،کیونکہ یہ جھوٹ، حقیقت میں عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کرنےوالی پرعزم خواتین کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہوگا جنہوں نے اپنی زندگیاں اسی مقصد میں گزاریں۔

قندیل بلوچ کون تھی؟ بہت سادہ سے الفاظ میں صرف ایک فاحشہ۔ شہرت کی بھوک مٹانے کے لیے جس نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ اپنے فیس بک بیچ کو استعمال کیا، اور غیر اخلاقی ویڈیوز اور غیر اخلاقی گفتگو سے ایک گھٹیا شہرت حاصل کی۔ وہ نہ تو کوئی اے کلاس اداکارہ تھی، بلکہ تھرڈ ڈگری اداکارہ بھی نہ تھی۔ اس کے کریڈٹ پر کوئی فلم، کوئی ڈرامہ حتیٰ کہ ایک ڈیڑھ منٹ کا کمرشل تک نہیں۔ وہ کوئی فیشن ماڈل تک نہ تھی کجا کہ اس معاشرے کے لیے ”رول ماڈل“ جس کی زندگی پر فلم بنائی جائے اور اسے بڑی سکرین کے پردے پر فلمایا جائے۔ معیار کی اس پستی پر صرف افسوس ہو سکتا ہے۔

قندیل بلوچ کی زندگی پر بائیو پک (Bio Pic) بنانے کی خبروں نے ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب کی آوازیں سوال اٹھا رہی ہیں، اعتراض کر رہی ہیں، وہ جنہیں اخلاقی قدریں عزیز ہیں۔ ظاہر ہے وہ ذہن اس پر سوال ہی اٹھائے گا، دوسری جانب کی آوازیں اسے ایک ایسی شخصیت ثابت کرنے پر تلی ہیں جو عورتوں کے حقوق کی جدوجہد میں ماری گئی۔ حد تو یہ ہے کہ وکی پیڈیا پر قندیل بلوچ کا پروفائل دیکھیں تو اس پر اسے ویمن رائٹ ایکٹوسٹ لکھا گیا ہے، جو کہ سراسر جھوٹ ہے، اگر قندیل بلوچ ویمن رائٹ ایکٹوسٹ ہے تو پھر عورت فاؤنڈیشن کی نگار احمد، عاصمہ جہانگیر، ملالہ یوسف زئی، بلقیس ایدھی، مسرت مصباح، ان سب کو اپنے نام تبدیل کر لینے چاہییں۔

ایک بلاگر انگریزی زبان میں لکھتا ہے کہ قندیل بلوچ اس لیے ایک آئیکون ہے کہ اس نے روایت سے بغاوت کی اور اپنے حق کے لیے جدوجہد کی۔ جناب سب سے پہلے تو روایات کی تعریف بھی آپ کو کرنا ہوگی کہ روایت کیا ہے، اور بغاوت کسے کہتے ہیں۔ چلیں اس پر ابھی بعد میں بحث کرتے ہیں، پہلے تو یہ دیکھیں کہ
روایت سے بغاوت تو
ڈیرہ غازی خان کی شہناز لغاری نے کی جس نے باپردہ پائلٹ ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام لکھوا دیا.
روایت سے بغاوت تو
عائشہ فاروق نے کی، جنوبی پنجاب کے قدرے پسماندہ شہر سے تعلق رکھتے ہوئے صرف ٹیچر اور ڈاکٹر بننے سے انکار کیا اور دنیا نے دیکھا کہ جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور کی ایک دھان پان سی لڑکی اب ایک فائٹر پائلٹ ہے۔
روایت سے بغاوت تو
بلوچستان کی مائی جھوری نے کی۔ جس نے مقامی سرداروں کے سامنے الیکشن میں کھڑے ہو کر اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی۔
روایت سے بغاوت کی ایک سو مثالیں میں آپ کے سامنے رکھ سکتی ہوں جہاں لڑکیوں نے خاندان اور سماج کی پہلے سے طے شدہ روایتوں کو توڑ کر قابلیت، تعلیم اور کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کیا۔

ایک لکیر ہر حال کھینچنا پڑتی ہے کہ کن روایات کی آپ روگردانی کر سکتے ہیں اور کن کی نہیں۔ ایک سماج اخلاقی قدروں کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے. کیا یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ آپ کا دل چاہے تو آپ تمام اخلاقی قدریں پامال کر دیں، تمام اخلاقی حدیں پار کر دیں۔ نہیں جناب! ایسا نہیں ہوتا، اس طرح کی کھلی چھٹی تو ان معاشروں میں نہیں ہوتی جنہیں آپ آزاد معاشرہ کہتے ہیں۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور وائٹ ہاؤس میں انٹرن مونیکا لیونسکی کا سکینڈل سامنے آیا تو کلنٹن کے صدارتی محل کی بنیادیں ہل گئیں تھیں۔ آزاد امریکی معاشرے میں ایک طوفان برپا ہو گیا۔ گو کہ وہ معاشرہ آزاد ہے اور فرد کو ہرطرح کے عمل کی آزادی دیتا ہے مگر یہاں پھر ایک حد کھینچتا ہے کہ امریکیوں پر جو شخص حاکم ہے، اسے اخلاقی قدروں کی پامالی کی اجازت نہیں۔ اور اسی حد نے بل کلنٹن کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔

ابھی حال ہی میں خبر آئی کہ کمبوڈیا کی ایک فیشن ماڈل پر وہاں کی فلم اور ثقافت کی وزارت نے بطور سزا کچھ عرصہ کے لیے فلم اور آرٹ کی دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی انہوں نے اپنے کوڈ آف ایتھکس کے عین مطابق لگائی ہے کہ بار بار کی وارننگ کے باوجود اداکارہ نے مناسب لباس نہیں پہنا۔ اور یہ کمبوڈین عوام کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایک فلم اداکارہ کے لباس پر اعتراض ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جو کوئی اسلامی ملک نہیں بلکہ کمبوڈیا کی 95 فیصد آبادی بدھ مت ہے۔ باقی پانچ فیصد دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وارننگ پر وہاں کے نام نہاد لبرلز کے پیٹ میں مروڑ نہیں اٹھا کہ لباس کا انتخاب تو ہر فرد کا اپنا حق ہے۔ اس وارننگ اور سزا کو اس کمبوڈین اداکارہ نے کھلے دل سے قبول کیا اور کہا کہ وہ اپنے لباس کی وجہ سے کمبوڈین عوام کی ناراضگی کا باعث بنی ہیں، وہ اس پر معذرت چاہتی ہیں۔

اب ذرا اس واقعے کو اپنے ملک کے تناظر میں دیکھیں۔ اگر یہی واقعہ اس ملک میں ہوا ہوتا تو پھر یہاں کیا منظر ہوتا۔ اول تو ہم اسلامی ملک ہوتے ہوئے بھی لباس پر کوڈ آف ایتھکس بنانے کی جرات نہیں رکھتے، کیونکہ اس طرح ہم پر بنیاد پرستی کا دھبہ لگ جائے گا اور نام نہاد لبرلز ڈنڈے لے کر ہمارے پیچھے پڑ جائیں گے۔ پھر اللہ سلامت رکھے رہی سہی کسر یہ موم بتی مافیا والے نکال دیں گے اور ماتم کریں گے کہ یہاں تو فرد کی آزادی، اس سے سلب کی جا رہی ہے۔ لباس کا انتخاب تو فرد کا ذاتی مسئلہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

قندیل بلوچ کو ہیرو ثابت کرنے پر تلے ہوئے اس بات کی دلیل دیتے ہیں کہ وہ قابل تعریف اس لیے کہ اس نے جو کرنا چاہا وہ کیا۔ فرد کی آزادی کے حق کو استعمال کیا۔ اسی جرم کی پاداش میں وہ مار دی گئی۔ ان کی اس بے سروپا دلیل کا جواب یہ ہے اگر آپ یہ حق قندیل بلوچ کو دینا چاہتے ہیں تو پھر جو چاہو وہ کرو کا اختیار اس معاشرے میں سب کو ملنا چاہیے۔ اگر کوئی ملاوٹ کر کے دودھ فروخت کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ اسے کرنے دو، اگر کوئی حلال گوشت کی جگہ مردہ مرغیوں کا کھانا آپ کو کھلانا چاہتا ہے تو اسے کرنے دو، اگر کوئی خودکش جیکٹ پہن کر معصوم شہریوں کو دھماکے میں اڑانا چاہتا تو اسے کرنے دو، جو چاہو وہ کرو کا حق اور اختیار پھر آپ سب کو دیں گے۔ پھر آپ کیوں چیختے ہیں، کیوں شور مچاتے ہیں۔ اس طرح تو پاناما لیکس پر بھی کسی شور کا کوئی جواز نہیں۔ کسی کی دولت کہاں سے آئی کہاں انویسٹ ہوئی۔ مجھے اور آپ کو اس سے کیا سروکار ہے؟ اس طرح جو چاہو کرو کا اختیار پھر سب کو دینا ہوگا۔

اور یوں بھی اگر قندیل پر فلم بنانے والے یہ جواز دیتے ہیں کہ وہ غیرت کے نام پر قتل ہوئی تو اس ملک میں سینکڑوں لڑکیاں ہر سال غیرت کے نام پر ماری جاتی ہیں۔ اور صرف لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی ایسی قتل و غارت کا شکار ہوتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کا اندوہناک واقعہ تو وہ تھا جب ایک ماں نے اپنی سگی بیٹی کو خود رسیوں سے باندھ کر آگ میں جلا ڈالا۔ اگر اسی موضوع پر فلم بنانی ہے تو پھراس لڑکی پر بنائیں۔ قندیل پر ہی کیوں۔!۔

اور آخر میں ایک دست بستہ عرض ان لوگوں سے بھی جو سوشل میڈیا سے سستی شہرت حاصل کرنے والی ایک فاحشہ کو پاکستانی عورتوں کے لیے رول ماڈل بنانے پر تلے ہوئے ہیں، ہمیں اس سے معاف رکھیں کمبوڈیا کی مثال پر ذرا غورکریں ۔اگر ایک غیر اسلامی ملک فیشن ماڈلز کے لباس کے حوالے سے تحریری کوڈ آف ایتھکس بنا سکتا ہے تو کیا ہم کمبوڈیا سے بھی گئے گزرے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */