ہاں میں یہ بتاؤں گا ! (محسن حدید کے جواب میں ) – ضیغم قدیر

ہاں میں یہ بتاؤں گا کہ پانی کے کولر سے گلاس باندھنا پڑتا ہے کیونکہ یہ لوگ اتنے بے ایمان ہیں کہ اسے بھی چوری کرتے ہیں اور یہ بھی بتاؤں گا کہ جو کولر ایصال ثواب کے لیے لگاتا ہے وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ تھر میں جو لوگ مر رہے ہیں وہ پانی ہی کی کمی سے مررہےہیں۔حالانکہ اس کولر کی ضرورت تھر کے باسیوں کو ہے مگر تم کو کون بتاۓ؟
ہاں میں یہ بھی بتاؤں گا کہ اللہ کا گھر بھی یہاں محفوظ نہیں۔یہاں اللہ کے گھر سے جوتے تو کیا جانیں بھی چوری ہوئی ہیں اور تم نے بتایا ہی نہیں۔ بجاۓ اس کے تم یہ بتاتے ہو کہ مسجد لوگوں نے اپنی محدود اور لامحدود آمدن سے بنوا دی مگر شاید یہ بتانا بھول گئے کہ مسجد کی پڑوسن راتوں کو اپنے بچوں کو بھوکا سلاتی ہے کیونکہ یہاں لوگوں انسانوں کا پیٹ نہیں دیکھتے مگر محلے میں تین مسجدیں ضرور بنواتے ہیں اور تم یہ بھی بتاو نا کہ کتنے لوگ زکوۃ دیتے ہیں اور کتنے لوگ عشر دیتے ہیں؟
تم بتاتے ہو کہ مسجد کا بل نامعلوم شخص ادا کرتا ہے مگر تمہارا وہ نامعلوم شخص ان معصوم بچوں کو بھول جاتا ہے جو ورکشاپوں پر مزدوریاں کرتے ہیں کیا کسی کو تعلیم دلوانی ضروری ہے کسی غریب کا پیٹ بھرنا ضروری ہے یا مسجد میں اے سی، ہیٹر لگوانا؟یہ لوگ خاموش رہ کر ان غریبوں کی بھی مدد کر سکتے ہیں!
تم بتاتے ہو کہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے اور خون کی بوتلیں دینے والے بہت ہیں مگر تم بھول جاتے ہو کہ اسی مریض کو ذلیل و رسوا کرنے والے ڈاکٹر بھی یہاں رہتے ہیں جو ان کے پیٹ میں قینچیاں تک بھول جاتے ہیں اور تو اور ان غریبوں کی بلوں میں کھال تک ادھيڑ دیتے ہیں اور تم ان کو بھول جاتے ہوں آخر کیسے؟
تم نے یہ تو بتایا کہ زلزلہ میں مدد کرنے والے سینکڑوں تھے مگر تم ان چند کوبھول گئے جو ان سینکڑوں کی امداد ہڑپ کر گئے اور پھر ڈکار بھی نا مارا اور بیچارے زلزلہ ذدگان ابھی تک ذلیل ہو رہے ہیں!
تم دھرتی پر جان دینے والے سپوتوں کا تو بتاتے ہو مگر تم یہ نہیں بتاتے کہ اسی دھرتی کے سپوت روز ناکوں پر لوگوں سے رشوت لیتے ہیں اور کوئی ان کے خلاف بول بھی نہیں سکتا!روز لوگ انہی محافظوں کے ہاتھوں تھانے کچہری میں ذلیل ہوتےہیں یہ بھی بتاؤ نا!
تم شہیدوں کا ذکر کرتے ہو مگر کرپٹ کو بھول کر؟تم ایدھی اور چھیپا کا بہت بتاتے ہو مگر ڈاکٹرعاصم اور ایفی ڈرین کیس کا نہیں!
تم ان سیاست دانوں کو بھول جاتے ہو بو جو لوگوں کا فنڈ ہڑپ کرجاتے ہیں!تم ان ملاؤں کو بھول جاتے ہو جو قوم کو تفریق میں ڈالے ہوۓ ہیں!تم اس متنفر قوم کی حقیقت سے کیونکر نظریں چراتے ہو جو دوسرے مسلک والوں کو مسلماں ہی نا سمجھں!
بدلے میں تم مجھے کہتے ہوکہ "تم لگے رہو، میں بھی لگا ہوا ہوں، تم ہر موقع پرشورمچاتے، رہو میں ان چراغوں کی روشنی میں مزید چراغ جلاتا رہوں گا، تم مایوسی پھیلاتے رہو، میں امید کی ایک مدھم سی کرن کے پیچھے بھی چلوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ اس کرن کے پیچھے کوئی سورج ہے، کوئی چاند ہے. دیکھ لینا! یہ روشنی کسی دن میرا آنگن نور سے بھر دے گی، تم تب پلٹو گے جب میں کامیابی کی آخری سیڑھی پر کھڑا مسکرا رہا ہوں گا، لیکن میں تمہیں پھر بھی خوش آمدید کہوں گا کہ میں امن، سلامتی اور محبت کا داعی پاکستان ہوں، میں ہی پاکستان ہوں."
تو کیا میں پاکستان نہیں؟کیا سچائی بتانا جرم ہے؟کیا حقیقت کو بیاں کرنے والا شور مچاتا ہے؟کیا کرپشن کو بیاں کرنا تمہارے اچھائی کے چراغ کی دشمنی کرتا ہے؟کیا حقیقت بتانا مایوسی پھیلانا ہے؟اور جو تم نے بتایا ہے کیا وہ سبز خواب نہیں؟تم امید کی کرن کے پیچھے چل رہے ہوتو میں بھی اسی منزل کی راہ میں ہوں بس فرق صرف اتنا ہے کہ تم سبز خواب دیکھ رہے ہو اور میں حقیقت کو مدنظر رکھ کر چل رہا ہوں میں مسکرانے سے منع نہیں کرتا مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ بلاوجہ مت مسکراؤ!
میں بھی امن وسلامتی کا داعی ہوں میں حقیقت کا متلاشی ہوں اور میں حقیقت سے نظریں نہیں چراتا میں اس کو ٹھیک کرنے کا کہتا ہوں۔میں کہتا ہوں اچھائی کا ذکر ہو مگر خامیاں بھی فاش کی جائیں، میں پاکستان ہوں اور تم بھی پاکستان ہو۔ بس ہماری راہیں جدا ہیں منزل ایک ہی ہے۔ میں یہ سب بتاؤں گا کیونکہ میں سیاستدان نہیں جو صرف سبز باغ ہی دکھاۓ!روشنی دیکھنے کے لیۓ اندھیرا تسلیم کرنا پڑتا ہے۔پاکستان زندہ باد!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */