مسلمانوں کا عروج و زوال - سید وجاہت علی

ابو الحسن علی ندوی صاحب کی ہر کتاب ہی اُن کا Magnum Opusہے۔ اُن کی تحریروں میں ہمیں اُن کے قلم کی روانی، دل کا خلوص اور تڑپ اور ذہن کا توازن اور اعتدال نظر آتا ہے۔ اُن کا ایک عظیم علمی کارنامہ اُن کی کتاب" ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین "ہے جو عالم عرب میں بہت مقبول ہوئی۔ مصنف ہی نے اِس کتاب کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کااثر"کے نام سے یہ اُردو میں طبع ہوئی۔ مذکورہ کتاب میں اُن کا وہی دل آویز اسلوب ہے۔ اُمت کے زوال سے مسلمانوں کے علاوہ باقی دنیا کو کیا عظیم نقصان ہوا ؟اِس خسارے کا تخمینہ انہوں نے اپنے وقت کی اعلٰی علمی سطح کے سامنے پیش کیا ہے۔ ندوی صاحب لکھتے ہیں :

"پیش ِ نظر کتاب کا ابتدائی تخیل ایک مضمون سے زیادہ نہ تھا۔ ابتدا میں خیال تھا کہ اجمالی طور پر اُن نقصانات کی نشاندہی کی جائے جو مسلمانوں کے تنزل و زوال اور دنیا کی قیادت رہنمائی سے کنارہ کش ہوجانے سے انسانیت کو پہو نچے اور دکھایا جائے کہ زندگی کے نقشے میں اُن کی جگہ اور قوموں کی صف میں اُن کا مقام کیا ہے ؟اِس کا مقصد اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ مسلمانوں کو اُس مجرمانہ کوتاہی کا احساس ہو جو انہوں نے انسانیت کے حق میں کی اور اِس کی تلافی اور اصلاحِ احوال کا جذبہ اُن کے اندر پیدا ہوا اسی کے ساتھ دنیا کو بھی اُس بد قسمتی کا علم ہوا جس سے اُس کو مسلمانوں کی قیادت سے محروم ہوجانے کی بناء پر دو چار ہونا پڑا۔ اس کو محسوس ہو کہ حالات میں کوئی بڑی تبدیلی اُس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک کہ دنیا کی قیادت مادہ پرست اور ناخدا ترس انسانوں کے ہاتھ سے نکل کر اُن خدا شناس اور خدا ترس انسانوں کے ہاتھ میں پہو نچ جائے جو پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں، اور اُنہیں کی ہدایات اور تعلیمات سے روشنی اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور اُن کے پاس آخری پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت اور دین و دنیا کی رہنمائی کا مکمل دستور موجود ہے۔ "

مسلمان اِ س دنیا کے امام تھے۔ ایک ہزار سال سے زیادہ انہوں نے دنیا کی قیادت کی۔ اُ ن کے اسلاف شمشیر و سنا ں کی تعبیر تھے اور اخلاف طاؤس و رباب کی تصویر بن گئے۔ نتیجتاً زوال اُن کا مقدر ٹہرا۔ عالمی قیادت ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ دنیا کا رخ دوبارہ ہمہ گیر خدا فراموشی اور جاہلیت (جدید ہ) کی طرف پھر گیا۔ دنیا کی قیادت کمزور، غافل خدا شناسوں کے ہاتھ سے نکل کر طاقتور ناخدا شناس اور مادہ پرست مغرب و یورپ کی طرف منتقل ہوگئی۔ دنیا میں جاہلیت ِ جدیدہ کا، جس کے سر کرد ہ سرغنے ڈارون، فر ا ئیڈ، میکڈوگل، ایڈلر، مارکس، میکاؤ لی اور کیرک گارڈ ہیں، سیلاب آگیا جو اپنے ساتھ تمام اعلیٰ انسانی اقدار بہا کے لے گیا۔ پھر ایسے انسان وجود میں آئے کہ جنگل کے درندے انہیں دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ ڈارون نے نظریہ پیش کیا کہ انسان کی اصل جانور ہے۔ میکڈوگل کے بقول انسان اپنی جبلتوں کو پورا کرنے کے لیے جیتے ہیں۔ یہی ان کا واحد مقصد ِ حیات ہے۔ فرائیڈ کے خیال میں انسانی زندگی کا مقصد جنسی خواہشات کی تکمیل ہے۔ چناں چہ انسان کو جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے لامحدود آزادی ہونی چاہیے۔ بصورت دیگر وہ نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ایڈلر نے سمجھا یا کہ حب ِ تفو ق اور بالا دستی کی آرزو انسان کے افعال کی محرک ہے۔ مارکس نے جتلایا کہ معاش انسانی زندگی کی اساس ہے چنانچہ زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفع کا حصول Maximization of Profitٹہرا۔ میکاؤ لی نے خیال آرائی کی کہ انسان کو اپنی قوم اور ملک کا غلام ہونا چاہیے۔ قومی اور ملکی زندگی ہی انسان کا محور ہے۔ ایک قوم اپنی سر بلندی کے لیے جو وہ چاہتی ہے، کر گزرے چاہے وہ اخلاقی اعتبار سے کتنا ہی پست اور تباہ کن نتائج کا حامل ہو۔ کمزور قوموں کو جینے کا حق نہیں۔ قوموں کی سیاست میں مذہب و اخلاقیات بچکانہ باتیں ہیں۔ وجودی فلسفے جس کا بانی کیر ک گارڈتھا ، کے ہمنواؤ ں نے تمناء کی کہ کسی بھی فرد کو کسی بھی کام کے لیے مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ فرد خود طے کرے گا کہ کون سا عمل اس کے لیے اچھا ہے اور کون سا برا ؟ منطقی ثبوتیت کا یہ نتیجہ نکلا کہ صرف حسییات طبعی اور عقل کے تجربے و تجزیے سے ثابت ہونے والی چیزیں ہی یقینی قرار پائیں اور بقیہ امور کے متعلق انکا ر یا غیر جانب داری (جو انکار ہی کی شکل تھی) کا رویہ اپنا لیا گیا۔

ان سارے نظریات(جو علم وحی کی روشنی سے تہی دامن تھے ) کو بلینڈ کیا گیا تو پھر انسان نہیں بلکہ خون آشام بھیڑیے تیار ہوئے۔ یہ ہی اسفل السافلین کی تشریح ہیں۔ سب اس لیے ہوا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے عالمی قیادت نکل گئی اور خود ان کے اپنے اعمال کے سبب نکلی۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر سرکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت تک تقریباً چھ سو سال کا عرصہ بنتا ہے۔ ان چھ صدیوں میں دنیا میں کوئی نبی ، کوئی رسول نہیں آئے۔ یہ چھ بد قسمت صدیاں تھیں۔ خاص طور پر ولادت ِ باسعادت سے پہلے کے دوسو برس انتہائی تاریک سال تھے۔ جہالت اپنے عروج کو پہنچ چکی تھی اور روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ انسانیت اُس عظیم پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ تک رہی تھی جن کے آنے کی نوید سیدنا مسیح علیہ السلام اور دیگر تمام انبیا ئے کرام دیتے آئے تھے۔ قافلے مسلسل خزاں میں سفر کر کر کے تھک گئے تھے اور اب بہاروں کو ڈھونڈ رہے تھے۔

آیۂ کائنات کا معنی دیریاب تو
نکلے تیری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی ریاست: ایک الٰہیاتی نظام، ایک بہترین انتظام - عمر ابراہیم

"ایسے وقت میں کہ انسانیت پر نزع کا عالم طاری تھا، دنیا اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ ہلاکت کے مہیب و عمیق غار میں گرنے والی تھی۔ عین وقت پر اللہ تعالیٰ نے حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی و رسالت کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ "

یہ اللہ بزرگ و برتر کا اس کائنات پر سب سے عظیم ترین احسان ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاریخ انسانی کا ایسا عظیم انقلاب برپا فرمایا کہ عقلیں عاجز ہوگئیں۔ ایسا ہمہ گیرانقلاب کہ سب کچھ ہی بدل گیا۔ عقائد ، عبادات ، رسومات ، معاشرت ، معاشیات ، سیاست، اخلاقیات۔ ایسا حسین انقلاب انسانیت نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ساتھ ہی عرب کے صحرا نشین ، پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی بدولت دنیا کے حکمران بن گئے۔ ان کی آخرت بھی سنور گئی کہ ان کے ناموں کے ساتھ رضی اللہ عنہ لگ گیا اور دنیا میں بھی انہیں سیادت اور عروج نصیب ہوا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد خلافت راشدہ کا سنہری دور شروع ہوا۔ ایسا تابناک دور جو کسی خوبصورت خواب کی طرح مسلمانوں اور انسانوں کے اجتماعی شعور میں بس گیا۔ خلافت راشدہ کا دور محص مسلمانوں کا ہی نہیں بل کہ پوری انسانیت کا Combined Nostalgia ہے۔

دکھلا دے اے تصور پھر وہ ہی صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

خلافت راشدہ کے بعد بنو امیہ کے دور کا آغاز ہوا۔ مسلم سلطنت وسیع ہوتی گئی۔ اسلام سندھ سے لے کر جزیرہ نماآئیبیریا(سپین) تک پھیل گیا۔ بنو عباس کے بعد بنو عباس بر سر اقتدار آئے۔ وہ پانچ سو سال کے لگ بھگ مسند نشین رہے۔ آخر 656 ہجری میں ان کی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور بڑے درد ناک انداز میں ہوا۔

آسماں را حق بود اگر خوں ببارد زمیں
بر زوال ملک معتصم امیر المومنیں

بنو عباس کے دور میں ہی چھوٹی چھوٹی خود مختار سلطنتیں پیدا ہو چکی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان پر بھی زوال کی شب آتی گئی تھی۔ جب بنو عباس سریر آرائے سلطنت ہوئے تھے تو ادھر ہسپانیہ میں عباسی سلطنت کے متوازی بنو امیہ کی حکومت بن چکی تھی۔ وہ ہسپانیہ جس کو طارق بن زیاد نے فتح کیا تھا اور جہاں عبد الرحمن الداخل نے بنو امیہ کا اقتدار قائم کیا تھا، اس گلستان اندلس سے 1492ء میں مسلمان بے دخل ہوگئے۔ غرناطہ ، اشبیلیہ ، طلیطلہ سے ان سے چھن چکے تھے۔ قرطبہ کی مسجداذانوں سے محرو م ہو گئی تھی اور کوہ سیرا نوید اکی برف پوش چوٹیوں میں مسلمانوں کی عظمت کا سورج ڈوب گیا تھا۔

اشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و در
گریہ پیہم سے بیناہے ہماری چشم تر
دہر کو دیتے ہیں موتی دیدہ گریاں کے ہم
آخری بادل ہیں ایک گزرے ہوئے طوفاں کے ہم

بنو عباس کے بعد سلطنت عثمانیہ دنیا کے نقشے پر ابھری۔ عثمانی سلاطین کے ہم عصر ایران کے صفوی اور ہند کے مغل تھے۔ سب سے پہلے صفویوں کاخاتمہ ہوا۔ اس کے بعد 1857ء میں مغل محروم تخت ہوئے اور بالآخر 1924ء میں خلافت عثمانیہ بھی ختم ہو گئی۔ تب سے مسلمان مغلوب ہیں اور دنیا کی غالب اقوام جاہلیت جدیدہ کی علم بردار اقوام مغرب ہیں۔

مسلمانوں پر زوال کیوں آیا؟ اس کا سیدھا سادا اور بنیادی جواب یہ ہی ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو چھوڑدیا۔ قرآن سے بے وفائی کی۔ نتیجتاََ ذلت و مسکنت ان پر مسلط کر دی گئی۔ مسلمانوں کے عروج و زوال میں سائنس و فنیات کو اہمیت نہیں رہی۔ ان کا عروج و زوال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وفاداری سے مشروط ہے۔

اسلام اور مسلمانوں کی نشا ۃ ثانیہ کے لیے لازم ہے کہ تجدید ایمان کی ایک تحریک برپا ہو۔ مفکر اسلام ندوی صاحب بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔

" عالم اسلام کو اس مقدس فریضے کو ادا کرنے کے لیے معنوی تیاری اور اندرونی تبدیلی کی بھی ضرورت ہو گی، ظاہر ہے کہ عالم اسلام خدا نا شناس یورپ کا مقابلہ تمدن و تہذ یب کے کھوکھلے مظاہر مغربی زبانوں کی مہارت او ر زندگی کے اس رنگ ڈھنگ کو اختیار کرلینے سے نہیں کر سکتا جس کو قوموں کی ترقی میں کوئی دخل نہیں، وہ اپنا پیغام اس روح اور معنوی طاقت ہی کی مدد سے پہونچا سکتا ہے، جس میں یورپ روز بروز دیوالیہ ہوتا جا رہا ہے، عالم اسلام اپنے مد مقابل پرا سی صورت میں غلبہ حاصل کر سکتا ہے کہ وہ اپنے حریف سے ایمان میں فائق ہو، زندگی کی محبت اس کے دل سے نکل چکی ہو، خواہشات نفسانی کے بند سے آزاد ہو چکا ہو، اس کے افراد شہادت کے حریص ہوں، جنت کا شوق ان کے دلوں میں چٹکیاں لیتا ہو، فانی مال و متاع ان کے دل میں وقعت نہ رکھتا ہو، اللہ کے راستے کی تکلیفیں وہ ہنسی خوشی برداشت کرتے ہوں، درحقیقت ایک خدا ناشناس منکر آخرت کے مقابلہ میں مومن کا یہ امتیاز ہے، اور اسی بناہ پر اس سے یہ توقع کی گئی ہے کہ اس میں برداشت کی قوت زیادہ ہو گی۔ "

" واقعہ یہ ہے کہ مومن کی طاقت اور اس کے فتح و غلبے کا راز یہ ہے کہ اس کو آخرت کا یقین اور اللہ کے اجر و ثواب کی امید ہوتی ہے، اگر عالم اسلامی کے سامنے بھی تمام تر وہی دنیاوی مقاصد اور مادی منافع ہیں، اور وہ بھی محض محسوسات و مادیات کے طلسم میں گرفتار ہے، تو یورپ کواپنی مادی طاقت صدیوں کی تیاری اور وسیع تر سازوسامان کی بناء پر غلبہ کا زیادہ حق ہے "

پھر ندوی صاحب عالم اسلام کی جماعتوں اور مفکرین کو مشورہ دیتے ہیں :

" اج عالم اسلامی کے قائدین و مفکرین اور اس کی جماعتوں اور حکومتوں کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کا تخم دوبارہ بونے کی کوشش کریں، جذبہ دینی کو پھر متحرک کریں، اور پہلی اسلامی دعوت کے اصول ا ور طریق کار کے مطابق مسلمانوں کو ایمان کی دعوت دیں اور اللہ و رسول اور آخرت کے عقیدے کی پوری طرح تبلیغ و تلقین کریں، اس کے لیے وہ سب طریقے اختیار کریں جو اسلام کے ابتدائی داعیوں نے اختیار کیے تھے، نیز وہ تمام وسائل اور طاقتیں کام میں لائیں جو عصر جدید نے پیدا کر دی ہیں۔ "

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی ریاست: امکانات، خدشات، اور ضرورت - عمر ابراہیم

" قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اب بھی زندگی اور طاقت کا ایسا سرچشمہ ہے جس سے عالم اسلام کی خشک رگوں میں زندگی کا گرم اور تازہ خون پھر دوڑ سکتا ہے، ان کے مطالعہ اور اثر سے اس جاہلی دنیا کے خلاف بغاوت کاجذبہ ابھرتا ہے، اور ان کی تاثیر سے ایک اونگھتی سوتی قوم ایک پر جوش، بے چین اور سرگرم عمل قوم بن جاتی ہے۔ "

اسلام اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لیے تجدید ایمان کی ایک تحریک ناگزیرہے۔ جدیدیت، مادیت ، منطقی ثبوتیت اور دیگر خدا بیزار اور گمراہ کن فلسفوں کے اس دور میں جب کہ نظریں دیکھے کو مانتی ہیں اور ان دیکھے پر ان کا یقین نہیں ہے، لازمی ہے کہ مسلمانوں کا اس ذات اقدس سے تعلق بن جائے جو پردۂ غیب میں ہے لیکن اس کائنات کی حقیقت اولی، حقیقت مطلق، دیکھے سے زیادہ یقینی اور فاعل حقیقی ہے اور جس کو مسلمان اللہ کہ کر پکارتے ہیں۔ اللہ پر ایمان اور اس کے ساتھ تعلق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان اور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق اور آخرت پر پکا ٹھکا ایمان اور یقین۔ اس تجدید ایمان کے بغیر نشاۃ ثانیہ ہو جانا ناممکنات میں سے ہے۔ تجدید ایمان کے سلسلے میں مولانا الیاس رحمتہ اللہ علیہ کی حیثیت ایک مجدد کی سی ہے۔ انہوں نے تبلیغی جماعت کی نیو اٹھائی جس کا بنیادی موٹو ہی یہ ہے کہ اللہ سے ہوتا ہے، اللہ کے غیر سے نہیں ہوتا۔ بھروسہ اسباب پر نہیں بل کہ مسبب الاسباب پر ہونا چاہیے۔ جب اس امر کا یقین دل میں پیدا ہو جاتاہے کہ پانی پیاس بجھانے میں اللہ کے حکم کا محتاج ہے، اللہ پیاس بجھانے میں پانی کا محتاج نہیں۔ کھانا بھوک مٹانے میں اللہ کے حکم کا محتاج ہے، اللہ بھوک مٹانے میں کھانے کا محتاج نہیں ، تو پھر بے عملی اور بد عملی کا کاتمہ ہوجاتا ہے اور وہ ہی افعال سرزد ہونے لگتے ہیں جن کا اللہ نے حکم فرمایا ہے۔

اللہ پاک کے دست قدرت میں ہی عزت و ذلت اور عروج و زوال کے خزانے ہیں۔ وہ جس فرد یا قوم کو چاہتا ہے، عزت اور عروج دیتا ہے، اور جس فرد یا قوم کو چاہتا ہے، ذلت اور زوال کی پستیوں میں دھکیل دیتا ہے۔

کیا قرآن پاک میں کہیں مال و دولت اور ٹیکنا لوجی کو مسلمانوں کے عروج کا سبب بتایا گیا ہے؟ بلکہ قرآن پاک میں ان لوگوں اور قوموں کی مذمت ہی کی گئی ہے جو اسباب کی وجہ سے خود کو ناقابل تسخیراور نا قابل شکست سمجھتے تھے۔ عذاب شدہ قومیں ٹیکنا لوجی میں ترقی یافتہ تھیں لیکن ان سب کو ذلت آمیز عذاب کا سامنا کرنا پڑا۔

جدیدیت، مادیت اور دوسرے مذہب دشمن فلسفے آج کے صنم ہیں مذکورہ بالا جملے تیشیے ہیں جو ان بتوں کو توڑ دیں گے۔

خودی کا سر نہاں لاالہ اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ اللہ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں ، لا الہ اللہ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کانہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ اللہ

عوامی اور جذ باتی سطح پر یہ کام تیزی سے ہو رہا ہے لیکن علمی اور خواص کی سطح پر اس فریضے کو سر انجام دینے لیے ایک جگر خون کر دینے والی تحریک کی ضرورت ہے۔ معاشرے کی Inteligentsia کے ذہنوں میں باطل فلسفے گھسے ہوئے ہیں۔ ان کا ابطال اسی صورت میں ممکن ہے کہ ایک تحریک علمی درجے پر چلے۔ اس تحریک میں شامل لوگ قرآن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں اور قرآنی فلسفے کو وقت کی اعلی علمی سطح کے سامنے پیش کریں۔ اس طرح Inteligentsia کے حلقوں میں بھی تجدید ایمان کی تحریک برپا ہو جائے گی جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے الفاظ میں :

" بنا بریں وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ ایک زبر دست علمی تحریک ایسی اٹھے جو سو سائٹی کے اعلی ترین طبقات یعنی معاشرے کے ذہین ترین عناصر کے فکر و نظر میں انقلاب برپا کر دے۔۔۔ اور انھین مادیت و الحاد کے اندھیروں سے نکال کر ایمان و یقین کی روشنی میں لے آئے اور خدا پرستی و خود شناسی کی دولت سے مالا مال کر دے۔ خالص علمی سطح پر اسلامی اعتقا دات کے مدلل ثبات اور الحا د و مادہ پرستی کے پر زور ابطال کے بغیر اس تحریک کا سر ہونا نا ممکن ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ موجودہ دور میں فاصلے بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں اور پوری نوع انسانی ایک کنبے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے لہذا علمی سطح کا تعیین کسی ایک ملک کے اعتبار سے نہیں بل کہ پوری دنیا کے اعلی ترین معیار کے مطابق کرنا ہو گا۔۔۔ "

ان شاء اللہ وہ دن ضرور آئے گاجب
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی
اس قدر ہو گی ترنم آفریں باد بہار
نکہت خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغام سجود
پھر جبین خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی!
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے !
یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے!!