خواہشات - افشاں فیصل شیوانی

انسان فطرتاً بے پروا بھی ہے اور ناقدرا بھی۔ جو اس کے پاس موجود ہے، اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور جس کی ضرورت سمجھتا ہے وہ اپنے پاس نہیں پاتا۔ناقدری و ناشکری کی وجہ سے سب کے پاس شکوے ہیں، کسی کو کچھ نہ ملنے کا شکوہ تو کسی کو کم ملنے کا اور کسی کو سب کچھ ملنے کے باوجود شکوہ!

اکثریت اس غم میں گھلتی نظر آتی ہے کہ ہمیں فلاں چیز کیوں نہیں ملی؟ بلکہ اس سے بھی زیادہ اس بات پر دکھی رہتی ہے کہ وہ چیز دوسرے کو کیوں میسر ہے؟ یعنی معاملہ ناقدری و ناشکری سے بھی آگے حسد تک پہنچ جاتا ہے۔ دراصل یہ جو ہماری خواہشات کا ٹوکرا ہے نا؟ یہ کبھی نہیں بھرتا۔ ہر خواہش کے بعد ایک نئی خواہش جنم لیتی ہے اور انہیں پورا کرنے کے لیے ہم بے لگام دوڑ پڑتے ہیں، ان کی تکمیل کے لیے اچھا، برا ہر راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اب تو ایسے لوگ بہت کم بچے ہیں جو ایمانداری کے ساتھ اپنے حصے کی محنت کرکے صبر کے ساتھ ان خواہشات کا تکمیل کا انتظار کرتے ہیں۔

ہم 'اداس نسلیں' ہیں، ہمارا عمومی رویہ ناخوش رہنا ہی ہے۔ کسی کو ماضی کا غم ستاتا ہے تو کسی کو مستقبل کی فکر۔ اپنے حال پر قانع رہنے والے لوگ کم ہی نظر آئیں گے۔ جب بچے تھے تو بڑے ہونے کی جلدی تھی اور بڑے ہوکر ذمہ داریوں کا بوجھ پڑا تو بچپن بھلا لگنے لگا۔

یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ حاصل ہونے والی چیزوں کی اہمیت کھو دیتا ہے۔ وہ چیزیں جو اس کی دسترس میں ہوں ہمیشہ غیر اہم ہوتی ہیں۔ وہ نئی چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ بلاشبہ اس خواہش کو زندہ رہنا چاہیے تاکہ وہ آگے بڑھتا رہے کیونکہ اگر زندگی سے خواہش اور اس کی تکمیل کے لیے جدوجہد ختم ہو جائے تو وہ منجمد ہو جائے گی۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ حاصل ہونے والی نعمتوں کی قدر باقی رہے، ان پر اللہ کا شکر بھی ادا کرتے رہیں اور ان نعمتوں سے بھرپور لطف اٹھاتے رہیں جو موجود ہیں۔ بہتر سے بہترین کی خواہش کرنا غلط نہیں لیکن اس میں حاصل نعمتوں کی ناقدری اور ناحاصل نعمتوں پر جلنا کڑھنا غلط ہے۔

اپنی خواہشات کو زندہ رکھیں لیکن انہیں اتنا نہ بڑھائیں کہ وہ آپ کی ذات پر غالب آ جائیں۔ اس صورت میں زندگی کی باقی نعمتیں اور خوشیاں نظر آنا بند ہو جائیں گے۔ اس لیے جو حاصل پر اس پر خوش رہیں اور ہو سکے تو دوسرورں کی خوشی کا بھی ذریعہ بنیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */