دھیان، بیان اور انسان - ریاض علی خٹک

انسان ضروریات اور خواہشات کا مارا ہے. یہ مار جتنی شدید ہوتی ہے، دھیان اتنا ہی آسماں تک بلند ہوجاتا ہے. اس کا بیان ممکن نہیں.

جب آسودہ ہوتا ہے، تو بیان اس گیان کے لفظ بن جاتے ہیں. جتنی دھیان کی شدت اتنا ہی مکمل بیان دیتا ہے

”اسی لیے بھوک اپنے بیان کے لفظوں کے لیے آسودہ پیٹ کا محتاج.“

سوداگر وہ لفظ ہیں، جو اپنے جوڑ توڑ سے کسی بھوک کی تفسیر بن جائیں. کسی طلب کی انتہا کو نظم بنالیں. کسی مظوم کی آہ بن جائیں. یہ لفظ منافق ہوتے ہیں. ان کی واہ واہ میں اور ان کی آہ آہ میں وہ ظلم وہ بھوک وہ طلب چھپ جاتی ہے.

انسان! ایک کردار ہے. دھیان اور بیان میں اگر انسان کا کردار نہیں، تو سوداگروں کے لفظ کاغذوں کے غلط نقشوں کی طرح طویل دور تک ضروریات و خواہشات کے گیانیوں کو غلط منزلوں کی راہ دیتے ہیں.

بھوک آہ آہ کی محفلیں سجا کر جیت جاتی ہے.

ظلم ہائے ہائے کے پردے کے پیچھے چھپ جاتا ہے. اور کردار کھوکھلے لفظوں پر واہ واہ کر کے اطمینان پا لیتا ہے.