ہاکنز سے ڈاکنز تک - ثمینہ رشید

نام کتاب : ہاکنز سے ڈاکنز تک
(مغرب کیا سوچ رہا ہے)
نام مصنف : تنزیل الرحمن
ناشر : بک ٹائم، اردو بازار کراچی

ہاکنز سے ڈاکنز تک (مغرب کیا سوچ رہا ہے)، تنزیل الرحمن کی پہلی تصنیف ہے لیکن کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ کے لیے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہوگا کہ یہ کسی نئے لکھاری کی کتاب ہے یا کسی کہنہ مشق مصنف کی کوئی تخلیق۔ تخلیق کا ہنر ہو یا ترجمے کا معیار، پڑھنے والا مصنف کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

یہ کتاب مغربی مفکرین کے اہم مضامین اور مقالات کا مجموعہ ہے جو کہ کم و بیش گذشتہ پچاس برسوں کے دوران لکھے گئے ہیں۔ مصنف نے ترجمے کے لیے جن تحریروں کا انتخاب کیا ہے، ان میں فلسفہ، سائنس، سماجیات، فلکیات، معاشیات، سیاسیات اور مذہب شامل ہیں ہے۔ اس طرح یہ تقریباً تمام اہم شعبہ ہائے فکر کا احاطہ کرتے ہیں اور ہمیں جدید مغربی فکر کی سمت کا پتا دیتے ہیں۔ ان میں بیشتر مضامین ایسے ہیں جنہوں نے آگے چل کر باقاعدہ کتاب کی شکل اختیار کی۔ ان میں سیموئیل ہنٹنگٹن اور فرانسس فوکویاما کے شہرہ آفاق مضامین بھی شامل ہیں۔ کتاب کے موضوعات کا تنوع ایسا ہے جو قاری کو رُکے بغیر کتاب پڑھنے پر مجبور کردیتا ہے۔

اکیسویں صدی میں جب انٹرنیٹ کے فروغ نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلیج کی شکل دے دی ہے۔ یہ انٹرنیٹ کی وسعت ہی ہے کہ جس نے علم کے ذخائر اور معلومات تک رسائی کو اس حد تک ممکن بنایا ہے کہ اب آپ صرف ایک کلک کے ذریعے جو چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ وگرنہ ایک دور تھا جب مختلف اور متنوع موضوعات پر مطالعے اور اس کے لیے درکار کتابوں کی فراہمی ایک کارِ دشوار ہوا کرتا تھا۔

انٹرنیٹ کی دنیا ہی ہے جس پہ دنیا بھر کی کتابوں کے مطالعے نے تنزیل الرحمن کو راغب کیا کہ مختلف موضوعات پر منتخب تحریروں کا اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ مصنف گزشتہ بیس برسوں سے صحافت کے مختلف شعبوں سے وابستہ رہے ہیں۔ ان دنوں ایک معروف نجی نیوز چینل سے وابستہ ہیں۔ انگریزی ادب اور بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں سماجیات، نفسیات، معاشیات، فلکیات، مذہبیات، اور دیگر شعبوں کے حوالے سے جدید فکر کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اردو اور انگریزی کے علاوہ فارسی، عربی اور ہندی میں شد بد رکھتے ہیں۔ اتنے متنوع موضوعات کا انتخاب اور ان کا ترجمہ یقیناً آسان کام نہیں اور کتاب پڑھنے والا ان کے اس ہنر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

اس ضمن میں تنزیل الرحمن سے قبل ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو ”ارسطو سے ایلیٹ تک“ مرتب و مدون کر چکے ہیں، لیکن اپنی کتاب میں جمیل جالبی صاحب نے منتخب یونانی حکما سے لے کر مغربی مفکرین کے تنقیدی مضامین کو اردو کے قالب میں ڈھالا تھا۔ تاہم ان تحریروں کا تعلق انیسویں صدی کے اواخر تک تھا۔ جمیل جالبی کی کتاب کے بعد کے سو سال کے عرصے میں دنیا یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور اس میں بہت بڑا حصہ اُس مغربی سوچ کا بھی ہے جس نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔

گزشتہ سو برسوں کے دوران مغربی انداز فکر میں ترقی واضح نظر آتی ہے جس کے اثرات بیشتر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں ہیں۔ مغربی افکار کے مختلف گوشوں سے متعلق انفرادی کتب کے تراجم ضرور ہوئے، اور کسی ایک مضمون سے متعلق مضامین کا ترجمہ بھی کیا گیا، مثلاً شہزاد احمد صاحب نے فلسفے اور سائنس سے متعلق منتخب مضامین کا عمدہ ترجمہ کیا اور اسی طرح دیگر اہل دانش نے بھی اہم مغربی کتب کو اردو کے قالب میں ڈھالا، مگر متنوع موضوعات پر اہم ترین مضامین کو گلدستے کی صورت میں یکجا کرنے کی شاید یہ طویل عرصے بعد کوئی کوشش ہے۔

مصنف نے مشرق کے حالات کو ذہن میں مدنظر رکھتے ہوئے کتاب میں امریکی ماہر سماجیات اور سیاسی تجزیہ کار فرانسس فوکویاما کا مضمون بھی ترجمہ کیا ہے، جس میں انہوں نے مشرق میں بسنے والے ان تمام لوگوں کو متوجہ کیا ہے کہ جہاں علم کی لگن ہو وہاں آگے بڑھنے کی کوشش کے دوران آئی مشکلات پر رک جانا آپ کی اپنی کم ہمتی تو ہو سکتی ہے، مگر اس میں قدرت کا قصور ہرگز نہیں۔ فرانسس فوکویاما نے دوران تعلیم تصویر کشی اور فرنیچر کی مرمت کا کام کر کے یہ ثابت کیا کہ مغربی ذہن اس بات پر آمادہ ہے کہ اس نے دنیا تسخیر کرنی ہے، اور اس محنت کو اپنی طاقت بناتے ہوئے انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

کتاب میں جہاں مغرب کے اپنے شعبوں میں نمایاں افراد کی ایک فہرست مرتب کی گئی ہے وہیں نوم چومسکی پر بھی ایک مکمل مضمون ہے جسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مغرب کسی بھی مرحلے میں مشرق سے ہر محاذ پر دو قدم آگے ہے۔ چونکہ نوم چومسکی ایک شہرہ آفاق شخصیت کے ساتھ دور جدید میں علم لسانیات کی تمام شاخوں میں انقلاب برپا کرنے والی شخصیت مانے جاتے ہیں۔ کتاب میں ان کے مضمون ”پروپیگنڈہ، اور دانشوروں کی ذمہ داری“ کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ پاکستانی معاشرے اور سیاسی تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مضمون میں نوم چومسکی نے جمہوریت کی موجودہ تعریف بیان کی ہے جس میں عوام کا کردار حقیقی جمہوریت سے زیادہ صرف ناظر یا پیروکار کا رہ گیا ہے اور دانشوروں اور میڈیا نے مل کر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے اپنی تمام تر صلاحیتیں عوام کو حکمرانوں کے مقاصد کے لیے تیار کرنے پر صرف کر دی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے لیکن نوم چومسکی نے تاریخی حقائق کے تناظر میں مثالوں سے دورِحاضر کے دانشوروں کاحقیقی کردار واضح کیا ہے۔

جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کتاب میں سر رچرڈ ڈاکنز کا ”زمین پہ جاری عظیم ترین عمل“ بھی شامل کیا گیا ہے۔ سر رچرڈ ڈاکنز کا شمار دورِ حاضر کے مشہور ملحدین میں کیا جاتا ہے۔ اور اپنے پیش کردہ نظریۂ ارتقا کی وجہ سے شہرت پائی۔ ان کے مضمون میں سائنس اور مذہب کے حوالے سے مفصل بحث اور موازنے کو موضوع بنایا گیا ہے۔

البرٹ آئن اسٹائن کے مضمون ”مذہب اور سائنس“ پڑھنا شروع کریں تو چاہے آپ موضوع کی مخالفت میں ہوں یا موافقت میں، ایک مرتبہ پڑھنا شروع کریں تو آپ موضوع کا مختلف حوالوں سے پراثر تجزیہ آپ کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ کہیں مذہب کا ایسا تجزیہ کہ جس کی بنیاد خوف و اخلاق پہ تھی اور جس کا مقصد انسان میں رواداری، امن اور محبت کا فروغ تھا۔ اور اس کے برعکس مذہب کو نفرت اور قتل و غارت کے لیے ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ سائنس کی ترقی کو انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بلا رنگ و نسل دنیا بھر میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہنری کسنجر کے نام سے پاکستان میں کون واقف نہیں، کتاب میں ان کے ایک بہترین مضمون کا ترجمہ بھی شامل ہے، جو دنیا میں طاقت کے توازن اور عدل و انصاف کی حکمرانی کے حوالے سے ریاست کے آغاز کی بحث سے لے کر موجودہ حالات تک تقریبا ہر زاویے کا احاطہ کرتا ہے۔ چین اور امریکہ کے تعلقات، چین کی تاریخ اور موجودہ ترقی، شمالی کوریا، یورپ اور مشرقِ وسطی میں سیاسی ارتقاء تک ہر چیز پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

جارج سوروس کا مضمون، ”آزاد سماج اور اس کے دشمن“ ایک نہایت منفرد موضوع کا احاطہ کرتا ہے۔ مضمون میں آزاد سرمایہ دارانہ معشیت، اشتراکیت اور مارکسیت کے چیدہ چیدہ پہلوؤں سے لے کر اشتراکی ممالک کے سماجی نظام سے آزاد سماج کے قیام تک کئی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

کتاب کا ایک مضمون کارل سیگاں کا ”تجسس اور تشکیک“ ہے۔ مضمون سائنس، علمِ فلکیات کے حصول کےحوالوں سے کارل سیگاں کی زندگی کے تجربات و واقعات پر مشتمل ہے۔ مضمون انتہائی دلچسپ انداز سے علمِ فلکیات کے علم کے جاننے سے پہلے اور بعد کے ادوار کو سائنس اور انسانی تجسس کے حوالے سے بیان کرتا ہے اور تنزیل الرحمن نے ایک مترجم کی حیثیت سے موضوع کی دلچسپی کو اردو زبان میں بھی اسی طرح برقرار رکھا ہے۔

کتاب کا ایک انتہائی اہم اور دلچسپ مضمون کیرن آرمسٹرانگ کا ”ہمیں خدا کے بارے میں دوبارہ سوچنا ہوگا“ ہے۔ جدید دور کے ملحدین کے خیالات نظریات کو انتہائی منطقی دلائل سے رد کرنے کے ساتھ ساتھ مذہب کی اہمیت و افادیت اور انسانی زندگی میں کردار کی وضاحت بخوبی بیان کی گئی ہے. مضمون میں فریڈرک نطشے کا مشہور جملہ ’’خدا مرچکا ہے۔‘‘ سے لے کر حال ہی میں ’’دی اکانومسٹ‘‘ کے مدیر اعلیٰ کی کتاب ’’خدا کی واپسی۔‘‘ تک، اور بالخصوص نائن الیون کے حادثے کے بعد آرمسٹرانگ نے اس بات پہ روشنی ڈالی ہے کہ خدا نہ صرف ہے بلکہ اس حادثے نے شاید یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ نہ صرف حیات ہے بلکہ اپنے پورے (تصور) وجود کے ساتھ انسانوں کی زندگیوں میں دخیل ہے.
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی، وائٹ ہاؤس میں انتہاپسند عیسائیوں کا تسلط اس کے شبہات کے ازالے کے لیے کافی ہیں۔ یہ مضمون بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں خدا اور مذہب سے متعلق راسخ غیر منطقی سوالات کا نہ صرف جواب فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں فرد کے متشددانہ رویے اور مزاج کو مذہب سے منسلک کرنے کے غلط تصور کو بھی رَد کرتا ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ کا شمار موجودہ دور کے مایہ ناز سائنسدانوں میں کیا جاتا ہے۔ کتاب میں ان کا مضمون ”کائنات کا سفر“ شامل کیا گیا ہے۔ کائنات کے سفر میں ایک عام قاری سے لے کر ماہر فلکیات تک کے لیے دلچسپی کا سامان موجود ہے۔ اور یہ علم فلکیات کے حوالے سے دلچسپ تفصیل کے حامل مضامین میں سے ایک ہے۔

ان مضامین کے علاوہ بھی کتاب میں شامل ہر مضمون منفرد اور دلچسپ ہے جن میں بل گیٹس، کارل پوپر، پال کینیڈی، ملٹن فرائیڈ مین اور رابرٹ فال کے بہترین مضامین اور مقالات شامل ہیں۔ ایک قاری کے لیے اس کتاب کے بارے میں اگر کہا جائے کا مصنف نے کوزے میں دریا بند کردیا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

مغربی فکر سے متعلق مضامین پر مشتمل تنزیل الرحمن کی یہ کتاب نہ صرف طالب علموں بلکہ عام قاری کو بھی مغرب کے مختلف شعبوں میں آنے والی انقلابی تبدیلیوں کو سمجھنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگی۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.