دِین اور مذہب میں فرق - عادل سہیل ظفر

دِین اور مذہب، لُغوی طور پر تقریبا ہم معنی اِلفاظ ہیں ، لیکن، اِصطلاحی طور پر مختلف مفہوم رکھتے ہیں ۔ اِس لیے یہ کہنا بالکل دُرُست ہے کہ دِین اور مذہب د والگ الگ چیزیں ہیں ۔ گو کہ ہمارے ہاں ، اُردُو میں اِس فرق کو رَوا نہیں رکھا گیا، دِین کو ہی مذہب کہا جاتا ہے، اِس لیے اکثر ہمیں " مذہب اِسلام " پڑھنے اور سننے میں ملتا ہے۔ اور دِین اِسلام میں پائے جانے والے مذاھب کو فرقہ کہا جاتا ہے، جبکہ فرقہ کچھ اور ہے اور مذہب کچھ اور۔
دِین کی اِصطلاحی تعریف یہ ہے کہ “دِین کِسی اِنسان کے ہاں پائے جانے والے خالق، مخلوق، غیبی امور اور آخرت سے متعلق عقائد اور اُنہی عقائد کے مُطابق عمل اور عمل کے انداز پر مشتمل ہوتا ہے “۔ اور، مذہب کی اِصطلاحی تعریف یہ ہے کہ “مذہب اِن اُمور میں سے کچھ سے متعلق ہوتا ہے، یا، اِن اُمور کے کچھ مسائل سے متعلق ہوتا ہے، یا محض دُنیاوی زندگی کے معاملات سے متعلق ہوتا ہے ( کہ اُن معاملات کو کس انداز میں نمٹایا جانا ہے، جسے مَسلک بھی کہا جاتا ہے ) ۔ (بحوالہ :الموجز فی الأدیان والمذاهب المعاصرة: ڈاکٹر ناصر العقل اور ڈاکٹر ناصر القفاری – ص10)
دُوسرے اِلفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ “ دِین کے معاملات کے بارے میں سوچ و فہم کے انداز کو مذہب کہا جاتا ہے “۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ “کچھ مسائل کے حل اور معاملات کی تکمیل کے بارے میں کِسی اِنسان کے خیالات اور انداز و اطوار کا مجموعہ مذہب کہلاتا ہے “۔ پس ایک دِین میں کئی مذاھب ہوتے ہیں ، جیسا کہ دِین اِسلام میں ، حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور ظاھری مذہب وغیرہ۔ مسیحی دِین میں کیتھولک، پروٹیسٹنٹ، ارتھوڈکس، وغیرہ۔ یہودی دِین میں سامری، صدوقی، فریسی، ارتھوڈکس وغیرہ۔ اور، جب دِین ہی الگ ہو گا تو یقینی طور پر اُس سے متعلق مذاھب بھی الگ ہی ہوں گے۔
اِسی لیے اللہ عزّ و جلّ نے قران کریم میں اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے یہ جواب دلوایا کہ "تم لوگوں کے لیے تمہارا دِین ہے اور میرے لیے میرا دِین " (سُورت الکافرون) اِس آیت شریفہ سے پہلے عِبادت اور مَعبُود کا ذِکر ہے، جو اوپر ذِکر کی گئی دِین کی تعریف کی دلیل ہے، کہ کفر ایک دِین ہے، اُس میں پائے جانے والے تمام اَدیان اور اُن میں پائے جانے والے سارے ہی مذاھب ایک ہی دِین میں شامل ہیں ، اور اِسلام ایک دِین، جس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اِسلام ایک دِین ہے، مذہب نہیں ۔ اب اگر اِسے مذہب کہنا اور لکھنا عام ہو چکا ہے تو ہمیں اِس کی اِصلاح کرنی چاہیے۔
اگر کہیں یہ سوال سامنے آئے کہ عہد رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے دور میں ، ہمیں یہ تفریق کیوں نہیں ملتی؟
تو اِس کا سیدھا اور سادھا سا جواب ہے کہ اُن مُبارک ادوار میں ، اللہ کے دِین اِسلام میں کِسی فقیہ، کِسی عالم سے منسوب کوئی مذہب نہیں تھا، کوئی مسلک نہیں تھا، عظیم ترین فقہاء موجود تھے، لیکن کسی کا مذہب رائج نہیں تھا، نہ کوئی ابوبکری تھا، نہ کوئی عُمری یا فاروقی، نہ کوئی عثمانی نہ کوئی علوی، نہ کوئی عائشوی۔ تو جہاں جِس چیز کا وجود ہی نہ ہو وہاں اُس کا ذِکر کیسے ملے گا؟
اُمید ہے کہ یہ مختصر معلومات دِین اور مذہب کے اِصطلاحی مفاہیم سمجھنے اور اِن دونوں میں فرق سمجھنے کے لیے کافی ہوں گی اِن شاء اللہ اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ اِسلام ایک دِین ہے جس میں کئی مذہب ہیں ، لہذا دُرُست یہی ہے کہ اِسلام کو مذہب نہیں دِین کہا جائے۔
ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ اِن سب باتوں کا مقصد کیا ہے ؟
تو اِس جواب یہ ہے کہ اِن کا مقصد دِین کی وسعت اور مذہب کی تنگی کے فرق کو سمجھنا بھی ہے، اور دِین کے حقیقی اِصطلاحی مفہوم کے خِلاف اُسے مذہب کہنے کی غلطی کی تصحیح کی کوشش بھی ہے۔ چراغ سے چراغ روشن ہوتا ہے، عین ممکن ہے کہ اِس ایک چراغ سے اتنے چراغ روشن ہو جائیں کہ ہمیں یہ دِکھائی اور سُجھائی دینے لگے کہ ہمارا اِسلام اللہ عزّ و جلّ کی طرف سے نازل کردہ ایک مکمل دِین ہے۔ چند شخصیات کی فقہ، یا، سوچ و فِکر، یا، آراء وغیرہ پر مشتمل محض ایک مذہب نہیں ۔