روداد سفر - راؤ صمد

"وہ رات کا پچھلا پہر تھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔ابا جی نے کواڑ کھولا تو سامنے دلبیر سنگھ کو پایا۔ اس کا سانس پھولا تھا۔وہ ہمارا مزارع تھا اس لیے ایک اطلاع دینے آیا تھا۔ "راوْ صاحب، میں ابھی ملاقات سے اٹھ کر آیا ہوں ، صبح ہوتے ہی گاؤں پر حملہ کیا جائے گا۔ میں نے آپ کا نمک کھا رکھا ہے، اس لیے بتانے آیا ہوں ۔ آپ ابھی گاؤں سے نکل جائیں ۔
"دلبیر سنگھ اندھیرے میں گم ہوگیا۔ ابا جان نے سب کو جگایا، صورتحال سے آگاہ کیا اور مشورہ طلب نگاہوں سے سب کی طرف دیکھا۔ تایا اور چچا نے دوٹوک بات کی کہ ہم گاؤں والوں کو یوں چھوڑ کرنہیں جائیں گے۔ چنانچہ طے پایا کہ سب مسلمانوں کو اطلاع کی جائے اور صبح پیش آنے والے حالات کے لیے تیار کیا جائے۔ چنانچہ گھر گھر جا کر سب کواطلاع کی گئی۔ مسلم جوان صبح ہوتے ہی لاٹھیاں سنبھالے نہر کنارے جمع ہوگئے۔خواتین نے چاقو اور چھریاں اپنے پاس رکھ لیں تاکہ بلوائیوں کے پہنچنے کی صورت میں اپنی جان لے کر عزت بچائیں۔
"پو پھوٹتے ہی ہندوؤں اور سکھوں کا اک ٹولا برچھیاں، گنڈاسے اور ڈنڈے ہاتھوں میں لیے نہر کے پل سے نمودار ہوا۔چند بزرگوں نے آگے بڑھ کر ان سے بات کرنا چاہی کہ ہم ایک دو دن میں علاقہ خالی کردیں گے، آپ لوگ فساد نہ کریں ۔مگر انہوں نے بات سننے کے بجائے ان پر برچھیوں سے وار کیے۔ یہ دیکھتے ہی مسلم جوان بھی طیش میں آگئے اور بلوائیوں کو للکارا۔گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی۔ مسلم جوان بھی ڈٹ کر لڑے۔انہوں نے عصر تک حملہ آوروں کو نہرکنارے روکے رکھا۔ہر طرف چیخ و پکار تھی۔پھٹے سر، کٹے ہاتھ اور خون چارسو بکھرا ہوا تھا۔
"مسلمان ابھی ڈٹے ہوئے تھے کہ اچانک شور بلند ہوا کہ ملٹری آگئی اور یوں سکھ فوج کے اسلحے کے آگے مسلمان بے بس ہو گئے۔ پھر آسمان نے وہ منظر دیکھا جس کو بیاں کرتے ہوئے الفاظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔ نہر کنارے لاشوں کا ڈھیر اور راستوں پر خون اور اعضابکھرے ہوئے۔ خواتین نے نہر میں کود کر یا اپنی جان اپنے ہاتھوں لے کر عزتیں بچائی۔اور جو اُن کے ہاتھ لگیں ان کی چیخیں آج تک کانوں میں سنائی دیتی ہیں ۔ شام اندھیرا پھیلتے ہی طوفانی بارش شروع ہوئی۔ ہم لوگ اندھیرے میں کھیتوں سے ہوتے ہوئے ساتھ والے گاؤں پہنچے۔وہاں سے ایک ٹانگے پر سوار ہو کر تھانہ بھون پہنچے۔ جہاں سے قافلے پاکستان کو روانہ تھے۔اسٹیشن سے ٹرین پر سوار ہو کر پاکستان روانہ ہوئے ۔اس میں جتنے لوگ تھے سب ہی اپنا آدھا خاندان گنوا چکے تھے۔ راستے میں مختلف اسٹیشنوں پر ٹرین روک کر لوٹ مار اور قتل و غارت کی گئی۔جب ٹرین پاکستان پہنچی تو بعض ڈبوں سے صرف لاشیں نکلیں ۔ "
دادا جی رکے اور اپنی آنکھوں کو عینک اتار کے پونچھا۔ میں نے سوال کیا "دادا جی! آپ نے یہ سب کچھ کیسے برداشت کیا؟ اور اتنے بڑے انسانی المیہ کی وجہ کیا تھی؟ وہ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر میری طرف دیکھ کر بولے، اس مرتبہ ان کی آواز میں جوش تھا، "بیٹا جب منزل کی لگن اور تڑپ ہو تو انسان اس کے لیے سب کچھ برداشت کرجاتا ہے۔اس کی نظر صرف منزل پر ہوتی ہے۔"
"تو آپ کی منزل کیا تھی" میں نے سوال کیا۔
"ہماری منزل پاکستان تھی ۔کیوں کہ ہم ایسا خطہ حاصل کرنے جا رہے تھے، جہاں ہم مکمل آزادی کے ساتھ اپنے دین کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ ہم ایک ایسا ملک حاصل کرنے جا رہے تھے جس کی پہچان صرف اسلام تھی۔"
ابھی سفر باقی تھا اور میں دادا سے اور بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔دراصل میں دادا جی کے ساتھ اپنے گاؤں جا رہا تھا اور اس سفر کو قیمتی بنانے کے لیے دادا کا انٹرویو شروع کر رکھا تھا۔
اچانک ہماری گاڑی ایک چیک پوسٹ پر رکی۔ ایک سپاہی گاڑی کے اندر آیا ۔سارے مسافروں پر نظر دوڑائی اور مجھے نیچے آنے کااشارہ کیا۔ میری ٹوپی اور داڑھی نے ان کی نظر میں مجھے مشکوک کر دیا تھا۔اپنی تلاشی دینے اور کارڈ وغیرہ دکھانے کےبعد جب میں دوبارہ گاڑی پر سوار ہوا تو سب مسافر مجھے عجیب عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
مگر مجھے ان کی نظروں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ میری نظروں میں بس دادا جی کا چہرہ تھا۔ کچھ دیر بعد وہ بھی آنسوؤں میں دھندلاگیا۔ میں نے سونے کی اداکاری کرتے ہوئے اپنا سر سامنے والی نشست سے لگا لیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com