یورپ بچ گیا - تزئین حسن

فرانسیسی ٹرمپ، لی پین انتخابات میں شکست سے دوچار ہو گئیں. 39 سالہ جواں سال لبرل سیاستداں ایمینوئل میکرون جنہیں تین سال پہلے کوئی جانتا بھی نہ تھا، انتخاب کے دوسرے راؤنڈ میں 66 فیصد ووٹ لے کر لی پین سمیت اپنے تمام تجربے کار حریفوں کو چت کر کے مغربی دنیا کے طاقتور سیاسی رہنما کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں. لی پین اور دائیں بازو کی نسل پرستی اور قوم پرستی پر مبنی سیاست کی شکست اور یورپین یونین کی حمایتی لبرل سیاسی قوت کی فتح صرف فرانس کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری مغربی سیاست کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے. بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مغربی سیاست کی زمام کار پھر عقل و خرد نے سنبھال لی ہے. یہ یورپ کی بھی فتح ہے اور امید ہے کہ فرانس اور یورپ کے مسلمانوں کے لیے بھی سکون کا سانس لینا کچھ آسان ہو جائے گا.

مغربی میڈیا کے تجزیات کے مطابق یہ پہلی دفعہ ہے کہ روایت پسند فرانس میں تبدیلی کی سیاست کامیاب ہوئی. 1804ء میں 35 سالہ نپولین کی تاج پوشی کے بعد پچھلے دو سو سال میں یہ فرانس کے کم عمر ترین سربراہ مملکت ہوں گے. ان کی کامیابی کا راز اس امر میں پوشیدہ ہے کہ وہ فرانس کے لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئے کہ فرانس کی بقا روشن خیالی اور یورپی یونین کی بقا سے ہی وابستہ ہے. لیکن تجزیہ نگاروں کے بقول ان کا مشکل وقت اب شروع ہوگا.

میکرون کے دہشت گردی اور دفاعی مشیر ہیسبرگ کے مطابق ان کی بعید از قیاس کامیابی کی اصل وجہ ان کی سیاسی بصیرت تھی جس نے یہ بھانپ لیا کہ دہشت گردی اور بےروزگاری سے بیزار فرنچ سوسائٹی لیفٹ اور رائٹ کے بجائے یورپ کے حامیوں اور مخالفین میں تقسیم ہے. یاد رہے ان کے علاوہ باقی تمام قابل ذکر سیاسی پارٹیوں کے منشور میں نہ صرف یورپی یونین بلکہ یورو زون اور نیٹو سے نکل جانے کے وعدے بھی شامل تھے. جبکہ میکرون نے اس نازک وقت میں کھل کر کثیر الثقافتی معاشرتی اقدار اور گلوبلائزیشن کی حمایت کی.

میکرون کا کہنا تھا کہ ”فرنچ کلچر نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی“ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”فرانس میں ایک کلچر ہے اور وہ متنوع یعنی diverse ہے.“ فرانسیسیوں جیسی روایت پسند اور اپنے کلچر سے محبت کرنے والی قوم میں یہ تصورات متعارف کروانا اور پھر جیت جانا محض قسمت کا کھیل نہیں. یہ ثابت کرتا ہے کہ فرنچ معاشرے میں واقعی تبدیلی آ رہی ہے اور ڈر اور تقسیم کی سیاست بری طرح ناکام ہوگئی ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ جرمن عوام فرانس اور کینیڈا کی تقلید کرتے ہیں یا امریکا اور برطانیہ کی.

نیویارک ٹائمز کے مطابق سفید فام قوم پرستی ناکام ہوگئی. اکانومسٹ کے مطابق یورپ نے سکون کا سانس لیا. واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ قوم پرستی پرگلوبلایزشن کی فتح ہے. جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے اسے متحد اور مضبوط یورپ کی فتح قرار دیا. واشنگٹن پوسٹ ہی کے مطابق یہ پچھلے ساٹھ سال میں فرانس کے پہلے سربراہ ہوں گے جن کا تعلق سنٹر رائٹ اور سینٹر لیفٹ کی سیاسی قوتوں سے نہیں ہے.

فرانس جنوری 2015ء میں چارلی ہیبڈو نامی جریدے پر دہشت گرد حملے کے بعد سے ایک ایمرجنسی کی کیفیت میں تھا. پچھلے تین سال میں متعدد حملوں نے فرانسیسی عوام میں ہی نہیں پورے یورپ میں سراسیمگی پھیلا رکھی تھی اور اس کا فائدہ براہ راست دائیں بازو کی یورپین مخالف نسل پرست تنظیموں کو جاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا جو عوام میں پناہ گزین مخالف اسلاموفوبیا کے جذبات ابھار کر تیزی سے اپنی مقبولیت کا گراف اوپر لے جا رہی تھیں. ان کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے تھے کہ لی پین نے بریگزٹ سے پہلے ہی اپنے آپ کو مادام فریکزٹ Frexit کہلانا شروع کر دیا تھا. ان کا وعدہ تھا کے وہ 2017ء کا الیکشن جیتنے کی صورت میں فریگزٹ کے لیے ریفرنڈم کروائیں گی. ان کی دیکھا دیکھی دوسرے فرنچ سیاست دان بھی اسی نہج پر چلنے لگے. ادھر عوامی رائے پر مبنی سروے بھی فرانس کے یورپین یونین سے علیحدگی کی عوامی حمایت کی تصدیق کرنے لگے. جون 2016ء میں پیو ریسرچ کی ایک سروے کے مطابق فرانس کی 61 فیصد آبادی یورپی یونین کو موافقت کی نظر سے نہیں دیکھتی تھی اور صرف 45 فیصد لوگ اس اتحاد کا حصہ رہنا چاہتے تھے. بریگزٹ کے بعد سے Frexit، Drexit، Grexit کی فرضی اصطلاحات کا استمعال اور یورپ کے مختلف ملکوں کی یورپی یونین سے علیحدگی کی پیشین گوئیاں مستقل خبروں میں تھیں اور نصف صدی کی جدوجہد کے بعد یورپ کو متحد کرنے کا یہ خواب جو کچھ ہی عرصے پہلے حقیقت بنا تھا، اب کسی بھی لمحے ناکامی سے دوچار ہوتا نظر آ رہا تھا.

ادھر نسل پرست سیاست دان اور سیاسی قوتیں یورپ بھر میں دہشت گردی کے واقعات کا فائدہ اٹھا کر مہاجرین کے خلاف سیاست میں سرگرم تھیں. یہاں تک کے جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل جیسی مقبول عام لیڈر کو بالآخر اپنی امیگرنٹ پالیسی سے یوٹرن لینا پڑا. ایک اندازے کے مطابق فرانس اور جرمنی میں دہشت گرد حملوں سے قبل مرکل جرمنی کی ہی نہیں یورپی یونین کی طاقتور ترین لیڈر تھیں. یورپی یونین کا کوئی فیصلہ ان کی شمولیت اور مرضی کے بغیر ممکن نہ تھا. مگر مہاجرین کے مسئلے پر انھیں خود اپنے سیاسی حلیفوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر بائیں بازو کی نیو نازی نسل پرست تنظیموں کے آگے انھیں ہتھیار ڈالنا پڑے. دیکھنا یہ ہے کہ فرانس کے الیکشن نتائج ان کے لیے کیا تبدیلی لاتے ہیں؟

یاد رہے فرنچ اقلیتوں کے لیے بھی یہ الیکشن بہت اہم تھا. پیرس کی سب سے بڑی مسجد نے بھی میکرون کی کھل کر حمایت کی. فرانسیسی مسلمان عرصہ تین سال سے دہشت گرد حملوں کی وجہ سے جس ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اس سے قبل نصف صدی سے جس طرح گھیٹوز نما علاقوں میں معاشی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کی حالت میں کسی تبدیلی کے امکانات ہیں یا نہیں. یہ تو وقت ہی بتائےگا.

لی پین کی جماعت کے بارے میں عام تاثر یہ بھی تھا کہ یہ یہود مخالف اور پرو نازی نظریات کے لیے نرم جذبات رکھتی ہے. اس تاثر نے بھی یقیناً انہیں نقصان پہنچایا ہوگا. دوسری طرف میکرون کا بینکنگ کیرئیر روتھ شیلڈز نامی غیر معمولی بین الاقوامی اثر رسوخ رکھنے والی یہودی کاروباری اور سیاسی قوت سے وابستہ رہا ہے.

فلسفہ پڑھے ہوئے جوان سال بینکر اور رائٹ اور لیفٹ کے مابین ایک روشن خیال اور لبرل سیاسی قوت !En Marche (بمعنی فارورڈ) کو متعارف کروانے والے ایمینویل میکرون کو جیتنے کے بعد متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن میں گلوبلائزیشن کے اس دور میں شہریوں کی اقتصادی بے چینی، دہشت گردی اور پناہ گزینوں کا مسئلہ سر فہرست ہیں. ان الیکشن نتائج سے کوئی اور سیاسی پیشین گوئی پوری ہو یا نہ ہو، ایک بات بہت واضح ہے کہ یورپ بچ گیا. یورپی یونین کو اپنی سالگرہ سے دو دن پہلے اپنی بقا کی خوشخبری مبارک ہو.