فری میسن، انسانی تاریخ کی خفیہ ترین تحریک (4) - بلال شوکت آزاد

"ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور" کی مصداق فری میسن کی علانیہ دعوت بڑی دلفریب، دل پذیر، انتہائی جاذب اور دل موہ لینے والی ہوتی ہے جبکہ حقیقت اور اصلی اغراض و مقاصد اس کے برعکس ہیں۔
ایڈم وائز ہاپٹ نے جو نعرہ مستانہ و یگانہ روزگار مفکرین عالم کی ایک عالمی حکومت کا لگایا تھا اس کی کشش سے ہزارہا اہل فکرو نظر متاثر ہوکر ایک نقطہ پر جمع ہو گئے تھے۔ اور درحقیقت وہ نعرہ صرف نعرے کی حد تک ہی تھا تاکہ ایسے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے قریب کیا جا سکے۔
ان کی حقیقی غرض روز اول سے تمام ادیان عالم کی تخریب تھی۔ اس سنگین بات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے باآسانی کہ 1829ء کی نیویارک کانفرنس میں ان کے ایک انگریز مقرر رائٹ نے یہ کہا تھا کہ ہماری جماعت لادین ملحدوں اور تخریبی و دہشت پسند تحریکوں کی آمیزش سے بننے والی تنظیم و تحریک ہے۔ اور تاریخ کے صفحات پر یہی سال 1829ء کمیونزم کی تاریخ ولادت کا سال درج ہے۔
ان عالمی حکومت بنانے والے معماروں کا یہ کارنامہ کس قدر نا قابل یقین لگتا ہے کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم ان ہی زمین دوز تحریک کے لوگوں نے اپنے مخصوص تخریبی و الحادی مقاصد کے حصول کی خاطر پلان کی اور آدھی دنیا پر مسلط کروائی۔ حالانکہ اس بات کی یہی حقیقت ہے اور اس بات کے دستاویزی ثبوت تک تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔
پائیک کا 10 اگست 1971ء کا لکھا ہوا وہ مشہور زمانہ خط برٹش میوزیم لندن میں حفاظت سے پڑا ہوا ہے جو ان خونی عالمی جنگوں کا پلان اور مقاصد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ کوئی معمولی تحریک نہیں ہے بلکہ انسانی تاریخ کی انتہائی خفیہ تحریک کے طور پر اس کو جانا جاتا ہے۔ میں یا میرے جیسے تمام متلاشیان حق کا سارا تحقیقی کام اس تحریک پر اگر ایک جگہ اکٹھا کردیا جائے تو وہ سارا ملکر اس خفیہ تحریک کے متعلق اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوگا۔ اس لیے جب ہم بات کرتے ہیں اس کے خفیہ ہونے کی تو صاحبان یہ بالکل مبنی بر حق دعویٰ ہوتا ہے ہمارا۔
اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم بنی نوع انسان 'ناسا' کے سپیس پروگرام کی بدولت آج کائنات کے بارے میں محض چند فیصد ہی معلومات رکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہم محقق افراد اور تلاش حق کے مسافروں کی بدولت آپ اور میں اس خفیہ و خطرناک تنظیم کو اتنا ہی جانتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے۔
لیکن یہ سب ہی نہ تو سچ ہوتا ہے اور نہ ہی جھوٹ، کیونکہ ان کے راز اور اسرار عوام میں کھل نہ جائیں اور مذہبی قوانین کی آڑ میں ان پر پابندیاں نا عائد ہو جائیں اس کے لیے یہ خود بھی ذرائع ابلاغ اور حکومتی مشینری کا استمعال کرکے عوام کو ڈبل مائینڈ کرنے کے لیے ماورائی شوشے اور کہانیاں پھیلاتے رہتے ہیں۔
اس لیے جب کوئی میرے جیسا متلاشی حق اس تحریک کے پردے چاک کرنے شروع کرتا ہے تو عوام میں ایک بے چینی اور ہلچل پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ کچھ اس کو من گھڑت کہانیوں تک ہی لیتے ہیں اور جو صاحب ایمان اور صاحب عقل ہوتے ہیں ان کی روحیں تک اس کی تلخ حقیقت جان کر بے چین ہو جاتی ہیں۔
انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ بے چین کر دینے والا سچ دجال کا خروج ہے۔ یہ اتنا کڑوا اور خطرناک سچ ہے کہ ہمارے نبی محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تک نے اس عالمی خطرناک فتنے سے اللہ کی پناہ مانگی تھی آخری دم تک۔ اور ہمیں بھی اس فتنے سے بچنے اور اللہ کی پناہ مانگنے کی تلقین بار بار فرمائی گئی ہے۔
اس کے بارے میں اب تک کی سبھی الہامی و تحقیقی معلومات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ اس فتنے کو اپنے حواس خمسہ سے نہ دیکھنا ہی ہماری زندگی کی کامیابی ہوگا۔ دجال دجل کی جمع ہے مطلب دجال بہت سے دجلوں اور فتنوں کا ایک مجموعہ شخصیت ہوگا۔
اس کا خروج کوئی ایک دم اس دنیا پر نہیں ہوگا بلکہ نبوی اور دیگر الہامی مذاہب کی پیشن گوئیوں کی روشنی میں معلوم ہوا ہے کہ دجال کا خروج ایک طے شدہ وقت پر ہوگا لیکن اس سے قبل اس دنیا پر موجود نسل انسانی کو تیس کے قریب چھوٹے دجلوں اور فتنوں کا مقابلہ اور سامنا کرنا لازم ہوگا۔
دجال کا وقت دنیا پر ایک غیر مصدقہ روایت کے مطابق چالیس دن ہوگا جس کا پہلا دن ایک سو جنت کے سال کے برابر ہوگا اور دوسرا دن ایک جنتی مہینے کے برابر ہوگا اور تیسرا دن ایک جنتی ہفتے کے برابر ہوگا اس کے بعد باقی دن عام انسانی و دنیاوی دنوں کے مساوی ہوں گے۔
اب جب ہم بات کرتے ہیں الومیناٹی، حشاشین، حسن بن صباح، راسپوتین و ہپی کلچر، ایریاففٹی ون، عالمی سیڈز بینک، یہودی پروٹوکولز، ٹرپل ایس پروگرام و دیگر منظم شعبہ جاتی جامع حملے ، ون ورلڈ آرڈر و گلوبل ولیج، موساد، لارنس آف عریبیہ، اہرام مصر کا معمہ، لیگ آف نیشنز کے خاتمے و یو این او کے قیام، خلائی مخلوق و یوایف اوز، داعش، تابوت سکینہ کی گمشدگی و دریافت، ماورائی نظریات، فتنہ قادیان، الحاد و چارلس ڈارون جیسی سائنسی تھیوریز، ڈی این اے کلوننگ مخلوقات و جینیٹک انجنیرنگ، ایڈز و دیگر خطرناک انجان بیماریاں اور ان کا مہنگا علاج، ٹائی ٹینک جہاز کی غرقابی کا معمہ، جنگ عظیم اول و دوئم اورمتوقع جنگِ ہرمجدون، ورلڈ بینک اور تیس امیر و طاقتور خاندان ,برمودا ٹرائی اینگل کے پوشیدہ رازوں اور فری میسن کی تو ہم براہ راست بات کررہے ہوتے ہیں دجال اور اس سے پیشتر تیس دجلوں و فتنوں کی جو اس دنیا میں ظاہر ہوچکے ہیں یا جن کا ظہور ابھی متوقع ہے۔
اس لیے ہمیں دجال اور اس کے سبھی موجودہ و متوقع فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے اور جب جب کوئی ان فتنوں کی اصلیت و حقیقت اور اسرار و رازوں سے پردہ اٹھائے تو دامنے درمے سخنے اس کا شکریہ ادا کرکے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
چونکہ فری میسن دجال کے فتنوں کا یا دجلوں کی اصل جڑ ہے تو اس کی دستیاب معلومات قطعی دجال کی معلومات سے تب تک زیادہ نہیں ہو سکتی جب تک ایک ایک کر کے سبھی ظاہر نہیں ہو جاتے۔ اس تحریک کے اسرار بھی اس کی گزشتہ معلومات سے زیادہ الگ نہیں ہیں۔
اس تحریک کے ممبران کے 33 درجے ہیں اور ہر درجے کا ممبر اپنے سے اوپر والے درجات کے متعلق قطعاً کچھ نہیں جانتا۔
آغاز میں پہلے درجے کے ممبر کو ایک اندھیرے بند کمرے میں لے جایا جاتا ہے جہاں مکمل انسانی ڈھانچہ اور کھوپڑیاں اور زہریلے مصنوعی سانپ رکھے ہوتے ہیں۔
اس کمرے کا نام "کمرہ تامل" رکھا گیا ہے اور مبتدی کو وہ یہ باور کراتے ہیں کہ بلند مقام حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے ماحول سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اندر ان کا ایک چیف ہوتا ہے جو بار بار یہ الفاظ دہراتا ہے کہ "کیا تم میسنری ہونے پر مصر ہو؟"
اگر یہ مبتدی بار بار 'ہاں' کہتا رہے تو ایک گائیڈ اس کی آنکھوں پر سیاہ پٹی اور گلے میں رسی ڈال کر ایک اور ہال میں لے جاتا ہے جہاں دو ستونوں کے درمیان اسے کھڑا کرکے اس سے کئی سوال کیے جاتے ہیں اورآخر میں کہا جاتا ہے کہ تو ایک سخت امتحان دوچار ہوگا جس میں ممکن ہے کہ تجھے جان کی بازی بھی لگانی پڑے ، لہٰذا ابھی تیرے پاس سوچ و تامل اور غور وفکر کے لیے کافی وقت پڑا ہے۔ چاہو تو یہیں سے اپنی دنیا میں واپس لوٹ جاؤ قبل اس کے کہ تم سے پختہ عہد اور حلف لیا جائے۔
اگر وہ نووارد مصر رہے کہ میں نے میسنری بننا ہے تو چیف اسے ایک میٹھے پانی کا گلاس پلاتا ہے اور پھر ایک کڑوے پانی کا اور اسی دوران کہتا ہے۔ "انسانی زندگی اس تلخی سے بھی دوچار ہو سکتی ہے۔ "
اگر دیکھا جائے تو یہ سارا پراسرار عمل ایک منظم ڈرامہ ہی لگتا ہے مگر اس کو اسی انداز میں رچنے کا مقصد ہی مبتدی کو ٹرانس میں لینا اور اس کے شعور اور لاشعور پر قبضہ جمانا ہوتا ہے۔
ہالی وڈ کے اکثر فلمی سین اس منظر کی بہترین منظر کشی کرتے ہوئے اسی لیے دکھائی دیتے ہیں کہ فری میسن کے مبتدی بار بار اس عہد کو ذہن میں رکھیں جو انہوں نے فری میسنری بنتے وقت اٹھایا تھا۔
جی ہاں ہالی وڈ ہی کیا بالی وڈ ودیگر سبھی ووڈز اس تنظیم کی ہی اختراع و ایجاد ہیں۔ یہی تو فری میسن کے پیغامات کو ادھر سے ادھر عوامی سطح پر پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔
نوٹ: جاری ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */