در مدح ائیرہوسٹس - قاضی عبدالرحمن

صلہ فرنگ سے آیا ہےایشیاء کے لیے
مے و خمار و ہجوم زنان بازاری
(اقبال)

یہ واقعہ بارہویں جماعت کا ہے. کیمسٹری کا لیکچر ختم ہوچکا تھا. دوسرا لیکچر فزکس کا تھا، درمیان میں بمشکل چار پانچ منٹ کا وقفہ رہا کرتا تھا. اس وقفہ میں انگریزی کے پروفیسر مع وکیل قانون، ساجد سر تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ کلاس میں داخل ہوئے، چونکہ موصوف کے خیالات دین سے 180 درجہ انحراف کرتے تھے، اس لیے سمجھنے میں مجھے دیر نہ لگی کہ ضرور ہم تاریک خیالوں کے لیے کوئی روشن خیالی کا کشتہ لے کر آئے ہیں. ان کے جملوں نے اس سوچ کی تصدیق بھی کر دی.

”ہم سب کے لیے مسرت کا مقام ہے کہ ہمارے کالج سے فارغ بچی ’نازنین‘ ایئرہوسٹس بن چکی ہے“
ساجد سر نے یہ جملہ بڑے ہی فدویانہ و عقیدتمندانہ انداز میں ادا کیا. اس کے بعد ایک مختصر سی تقریر اس مولویت زدہ قوم کے افکار کے رد میں کی.

جس وقت موصوف کی تقریر جاری تھی، اسی وقت کلاس کے باہر برآمدے میں فزکس کے پروفیسر موصوف کے نکلنے کے انتظار میں ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے. آخر کار پانچ منٹ بعد جب پیمانہ صبر لبریز ہوگیا تو جناب اندر داخل ہوگئے. مجبورا ساجد سر کو باہر جانا پڑا.

فزکس کے پروفیسر کی پڑھائی ہائی اسکول تک آر ایس ایس کے اسکول میں اور اعلی تعلیم کرسچن مشنری کالج میں ہوئی تھی. دماغ کیا تھا، لائبریری سے کسی طرح کم نہ تھا. مطالعہ کی گہرائی کا یہ عالم کہ ’اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے‘، مگر ذہن پر مغربیت اور مسیحیت کا تہذیبی خمار چڑھا ہوا تھا. ان کا خیال تھا، اونٹ کی طرح مسلمانان برصغیر ہند کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں. ہر وقت مسلمانوں کے انداز بودوباش پر تنقید اور عیسائیوں کی توصیف. داخل ہونے کے بعد ڈسٹر ٹیبل پر رکھ دیا جو اس بات کی علامت تھی کہ آج ’دوسرا لیکچر‘ہونے والا ہے. لیجیے صاحب انہیں بھی جھیلیے. یک نہ شد دو شد.

مگر حیرت اس وقت دوچند ہوئی جب پہلی مرتبہ لیکچر میں اپنی تنقیدی گولہ باری کا رخ مسلمانوں پر تنقید کے بجائے ائیر ہوسٹس اور ریسپشنسٹ جیسے جدید پیشوں کی طرف کردیا اور ان پیشوں کی قباحت کو بالتفصیل بیان کرنے لگے. صرف اسی پر بس نہیں بلکہ پردہ کی اہمیت پر بھی کسی راسخ العقیدہ مسلمان کی طرح دلائل کے انبار لگانے لگے. سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے گویا ہوئے:
”ایئر ہوسٹس کوئی پیشہ نہیں، مردوں کی ہوس کو تسکین پہنچانے کا ذریعہ ہے. ورنہ کیا وجہ ہے جو خوبصورت چہروں کا انتخاب کیا جاتا ہے؟ گھٹنوں کے اوپر لباس پہنایا جاتا ہے تاکہ ہر ایک ’ہیئر ریموور زدہ‘ اسکن دیکھ سکے. کسی کی خواہش کے انکار کو شجر ممنوعہ قرار دیا جاتا ہے. تیس سال بعد ٹشو پیپر کی طرح نکال کر پھینک دیا جاتا ہے. بابا! یہ ’اسکین اینڈ فلیش شو‘ ہے، اور کچھ نہیں.“

سر کا لیکچر جاری تھا اور میرے ذہن میں ’ائیرہوسٹس‘ پر لکھی مصطفے زیدی کی نظم گونج رہی تھی.
تیرے لہجے میں ترغیب کی یہ کیفیت
کہ مشینوں کی فضا ساز بنی جاتی ہے
ہم سفر انجمنیں گرم کیے بیٹھے ہیں
اور تو میرا سب سے بڑا راز بنی جاتی ہے

کلاس کے ایک منچلے نے پوچھ لیا، ”سر لیکن یہ ریسپشن اور ایروناٹکس کے شعبہ میں استقبال کے لیے عورتوں کا ہی کیوں انتخاب کیا جاتا ہے؟ مردوں کا کیوں نہیں؟“
”بیٹا، آپ شراب پیتے ہو؟“ سر نے سوال کیا.
”سر یہ کیا بات ہوئی؟ حرام ہے وہ.“ جواب ملا
”ہمم. اچھا، یہ بتاؤ اگر کوئی انتہائی حسین و دلکش لڑکی مسکراہٹ کے ساتھ تمھیں کانچ کے گلاس میں پیش کرے تو..؟“ سر نے سوال ادھورا چھوڑا.
اس ظالم کے دل اور زبان میں ہم آہنگی تھی. سر کو یہ بات پتہ تھی کہ یہ وہی بولےگا جو دل میں ہوگا.
”سر تب تو سوچنا پڑے گا. خوبصورت لڑکی کو انکار کرنے کو دل نہیں چاہتا ہے!“
ادھر اس کاجواب آیا، ادھر پوری کلاس کشت زعفراں بن گئی.

اس مکالمہ سے پرے میں سوچ رہا تھا، مرد نے صرف عورت کو جنس بازار بنانے کا کام کیا ہے. اپنی تجارت کے فروغ میں ٹوتھ پیسٹ کے برش سے لے کر دیگر ممالک کے صدور تک کو لبھانے تک اسی کا استعمال ہو رہا ہے. ولیم شیکسپیئر نے اپنے ڈرامہ (As You Like It) میں کنواری دوشیزہ روزالینڈ (Rosalind ) کی زبان سے، اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہوا، درج ذیل جملہ ادا کروایا ہے.
Beauty provoketh thieves sooner than gold.
ترجمہ: حسن، چوروں کو سونے کے زیورات سے بھی زیادہ اکساتا ہے.

Comments

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن حیدرآباد دکن کے انجینئرنگ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا ہے۔ کتب بینی اور مضمون نگاری مشغلہ ہے۔ دلیل کے اولین لکھاریوں میں سے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.