برداشت کلچر - خواجہ مظہر صدیقی

کسی سیانے کا کہنا ہے کہ گفتگو میں نرمی اختیار کرو، کیونکہ لہجوں کا اثر الفاظ سے زیادہ اہم ہوتا ہے. اچھے رویے سے خاندان، تربیت اور مزاج کا پتہ چلتا ہے. ذرا ارد گرد کا جائزہ لیں تو افسوس سے کہنا پڑے گا کہ ہمارے رویوں سے برداشت ختم ہوگئی ہے، اور شدت در آئی ہے. اپنی زبان اور عمل سے دل ڈھانے کا عمل برق رفتاری سے جاری ہے. محبت کی جگہ نفرتوں کی فصلیں بوئی جا رہی ہیں. نتیجے میں نفرت کی فصل ہی کاٹنی پڑے گی. جو ہمارے لیے بہت سے خطرات کا باعث بنے گی. اس سے بچنے کی فوری چارہ جوئی کرنا ہم سب کا فرض ہے.

سوشل میڈیا پر بالخصوص اور عام زندگی میں بالعموم لوگوں کی ایک ایسی اکثریت دیکھی ہے جو دوسروں کے اچھے کاموں کی تعریف کرنا تو اپنی توہین سمجھتی ہے، جبکہ ذرا سی غلطی پر انہیں خوب تذلیل کا نشانہ بناتی اور بہت رسوا کرتی ہے. بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اس قسم کی طبعت و مزاج کے مالک خواتین و حضرات شاید ایسے مواقع کی تلاش میں یا انتظار میں ہی بیٹھے ہوتے ہیں کہ کب کوئی اپنی کوئی کمزوری دکھائے، یا غلطی کا مرتکب ہو، یا کسی سے کوئی خطا سر زد ہو، یا پھر کسی کا کوئی عیب انہیں نظر آئے تو یہ اسے آڑے ہاتھوں لیں. خطا کار سے کوئی رعایت نہیں کرتے. کسی معافی کو نہیں خاطر میں لاتے. بس دوسرے کی غلطی اور کمزوری دراصل ان کی طاقت بن جاتی ہے. معلوم یہی ہوتا ہے کہ جیسے کوئی خزانہ ان کے ہاتھ لگ گیا ہو. سچ پوچھیں تو مجھے یہ نفسیات کے عارضے میں مبتلا افراد لگتے ہیں. اس کی گواہی تو کوئی نفسیاتی معالج ہی دے سکتا ہے. مخالفت کے جنون میں مبتلا یا دوسروں کی غلطیوں کی تشہیر کرنے والے ان نفسیاتی مریضوں کا دل بلیوں اچھل پڑتا ہے. مخالفت و عداوت کی منفی صفت میں اپنا فن دکھانا شروع کر دیتے ہیں. ذاتی حملے اس انداز میں شروع ہو جاتے ہیں کہ اللہ کی پناہ.. سچ کہوں تو یہ شیطان کے آلہ کار بن جاتے ہیں.

ایسے میں مجھے ایک نجی چینل کے اینکر کا چہرہ یاد آ جاتا ہے. جس کے پروگرام کا مقصد ہی الزام تراشی اور دشنام طرازی ہوتا ہے. جو مخالفت کو جنم دینے کا فن جانتا ہے اور اس کے بعد مخالفین پر ننگے اور گندے الزامات لگانے میں کسی بھی حد تک گزر جاتا ہے. اس کے ہاں بھی کسی کی غلطی پر کوئی رعایت نہیں ہوتی. اس کے منہ سے جوش جذبات میں جھاگ نمودار ہونا شروع ہو جاتی ہے. اپنی آرام کرسی سے اچھل اچھل کر وہ چالیس منٹ کا شو کرتا ہے. شو کے ختم ہونے کا جب وہ اعلان کر رہا ہوتا ہے تو اس لمحے بھی یہی لگ رہا ہوتا ہے کہ اس کے دل کی بھڑاس اور غبار ابھی پوری طرح اور مکمل نکل نہ پائی تھی کہ شو کا وقت ہی ختم ہوگیا، ورنہ وہ آج منہ سے نفرت کے گولے اور برساتا. آج سب کو لفظوں، جملوں اور اپنے لہجے سے تہس نہس کر دیتا. مگر وقت کی کمی نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا. اینکر کو یاد رکھنا چاہیے کہ پرندے اپنے پاؤں اور انسان اپنی زبان کی وجہ سے جال میں پھنستے ہیں. اس درجہ کی زبان درازی برداشت کلچر کی قاتل ہے.

ایسے ہی نمایاں افراد کسی کی معمولی سی لغزش پر ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ کے تھانیدار بن جاتے ہیں. فتوی لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے. لحاظ اور مروت تو جیسے انہیں چھو کر بھی نہیں گزرتے. شرمندہ کرنا یا ندامت دلانا تو ان کا ایجنڈا ہی نہیں ہوتا. بس یہ غلطی سرزد ہونے والے بندے کو ذلیل کرنے اور ناک کی لکیروں نکلوانے پر مامور ہو جاتے ہیں. غلطی کو نظرانداز کرنا اور عفو و درگزر سے کام لینا تو ان کی ڈکشنری میں ہی نہیں ہوتا.

جانے کیوں اچھے کام اور کارنامے پر ان کی نظر چندھیا جاتی ہے، اور معمولی غلطی پر یہ خدائی فوج دار خواب خرگوش سے بیدار ہو جاتے ہیں. یہی اصلاح پہ مامور حضرات ہی فل ٹائم دوسروں کو بے عزت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں.

ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کی کوششیں تیز کی جائیں. دوسروں کو تحمل، رواداری اور برداشت کا سبق دینے والے خود ایسے حالات میں صبر و برداشت کا دامن چھوڑ بیٹھتے ہیں. ہمیں برداشت کرنے کی مشق سیکھنی چاہیے. عدم برداشت کا خاتمہ تبھی ممکن ہے کہ جب ہر سطح پر اس کو موضوع اور عنوان بنایا جائے. ناموافق صورت حال میں موافقت کی راہ کو اختیار کیا جائے. دوسروں کی غلطیوں پر ان سے رعایت برتی جائے. میرا خیال ہے کہ اس برداشت کلچر کے فروغ سے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی نمودار ہوگی. صبر،برداشت، ایثار اور قربانی کی عمدہ مثالیں پھر سے قائم ہونا شروع ہوں گی. بس برداشت کے عملی نمونے پیش ہونے کی ضرورت ہے.

Comments

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی بچوں کے ادیب، کالم نگار، تربیت کار و کمپیئر ہیں۔ تین کتابیں بعنوان نئی راہ، دھرتی ماں اور بلندی کا سفر، شائع ہو چکی ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں، ملتان سے تعلق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.