یورپ میں اسلام کا ابھرتا چہرہ - عمر ابراہیم

یورپ کو اب نئی مسلمان نسل کا سامنا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں یورپی استعمار جن مسلمان مجبوروں، مزدوروں، اور محکوموں کو بیگار کی خاطر یورپ لے گیا تھا، آج وہ نئی نسل میں ڈھل چکے ہیں۔ یہ نئی نسل نہ مرعوب ہے، نہ محکوم، اور نہ ہی مجبورہے۔ بالخصوص یورپ میں نوجوان مسلمان مغرب کا بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ جیسا کہ فرانس میں لاکھوں الجزائری نوجوان۔

یورپ میں دوکروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ یہ اکثر وہ ہیں، جواستعماری جارحیت سے دربدر ہوئے، جن کے ملکوں اور معیشتوں کو لوٹا گیا اور وہ جو مغرب سے مرعوب ہو کر درآمد ہوئے۔ دہائیوں کی بودوباش اور افزائش نسل کے بعد، اب یہ سب یورپ کے اپنے باشندے بن چکے ہیں۔ اکثریت میں غیریت کا احساس موجود نہیں رہا۔ یہ یورپ کی روزمرہ زندگی کا بھرپور حصہ بن چکے ہیں۔ والدین کی نسبت مسلمان نوجوانوں کا اہم حصہ اسلام پر کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں۔ مغرب کے معاشروں میں اسلامی طرزحیات پر شرمندہ نہیں، اور نہ ہی شرمندگی کی کوئی وجہ پاتا ہے۔ یہ فطری اور آزاد طرز فکر ہے۔

یہی طرز فکر وعمل مغربی تہذیب کے لیے للکار ہے۔ اس للکار کے دو پہلو ہیں: پہلا یہ کہ یہ مسلمان مغربی فکر و فلسفہ سے مرعوب و متاثر نہیں۔ دوسرا پہلو ہے کہ یہ مسلمان اسلامی شناخت پر فخر و اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ مغربی تہذیب سے مسلمان نوجوانوں کا یہ ایسا شناختی تصادم ہے، جس نے مغرب پر تارکین وطن مخالف پالیسی کا ہنگامی خبط طاری کر دیا ہے۔

یورپ کے یہ مسلمان نوجوان کیا کہتے ہیں؟ کس طرح سوچتے ہیں؟ اس پر ترک نژاد فرانسیسی سوشیالوجسٹ نیلوفر گول نے عمدہ کام کیا ہے۔ کتاب The Daily Lives of Muslims میں خاتون بتاتی ہیں کہ یورپ میں نئے مسلمان چہرے جامعات اور عوامی مباحث میں خود کومتعارف کروارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام یورپ کی سیاست میں پچیس سال سے اہم ایجنڈا بنا ہوا ہے۔ مغربی تہذیب کی شناخت بحال کرنے کے لیے ہر سطح اور مقام پر کوششیں تیزتر ہوچکی ہیں۔ امریکہ سے فرانس تک قوم پرستی کا فروغ مل رہا ہے۔ ٹرمپ، پیوٹن، گیرٹ وائلڈر اور دیگرانتہاپسند آگے لائے گئے ہیں۔ اس سب کے باوجود نئی مسلمان آوازیں پوری قوت سے ابھررہی ہیں، یہ آوازیں دلائل میں مضبوط اور مباحث میں ماہر ہیں۔ یہ یورپ میں اسلام کا ابھرتا ہوا چہرہ ہیں۔ نیلوفرگول نے حجاب کے رجحان پر مسلمان خواتین سے گفتگو کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سلامتی کونسل کے 5 ارکان کا ترکی سے شام میں فوجی آپریشن روکنے کا مطالبہ

شامی نژاد ڈینش سلمیٰ کوپن ہیگن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کررہی ہیں، کہتی ہیں ”حجاب سے پہلے، میں باقاعدہ ساری نمازیں ادا کرتی رہی ہوں۔ عبادت کی وجہ سے حجاب کا رجحان پیدا ہوا۔ اللہ حکم دیتا ہے، اس لیے حجاب میرے لیے انتہائی اہم اور لازم ہے، یہ مجھے میرے رب سے قریب کرتا ہے۔“ ہالینڈ کی ترک نژاد طوبٰی کہتی ہیں ”میں حجاب کرتی ہوں، اس لیے کہ مجھے راحت ملتی ہے۔ کسی نے مجھے حجاب پر مجبورنہیں کیا۔ یہ میرے وجود کا وہ حصہ ہے، جو مجھے بےحد محبوب ہے۔ اسکارف پہننا اسلامی طرز زندگی کا سکون عطا کرتا ہے۔“ نارویجئین نومسلم مریم گیارہ سالہ بیٹی کے ہمراہ تنہا رہتی ہیں۔ مریم اسکارف پہنتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ”روحانیت کی تلاش اسلام تک لے گئی۔ حجاب میں خود کو پروقار اور محترم محسوس کرتی ہوں۔“ سوشیالوجسٹ نیلوفرنے برطانیہ میں مسلمانوں کی تحریک Not in my name کا حوالہ بھی دیا ہے۔ یہ تحریک شام وعراق میں داعش کی دہشت ناک سرگرمیوں سے مکمل نفرت وبیزاری کا اظہار ہے۔

مغرب میں نئی مسلمان نسل تعداد اور معیا ردونوں حوالوں سے بہت اہم ہے۔ گویہ کثیر ثقافتی جہت ہے، تاہم مغربی تہذیب کے لیے مسئلہ بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلمان تارکین وطن کا یورپ کی جانب بہاؤ مغرب کے لیے تشویشناک ہوچکا ہے۔ تارکین وطن مخالف تحریک پورے مغرب میں نمایاں ہوچکی ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے رجحانات سامنے ہیں۔ حال ہی میں آسٹریا کے وزیرداخلہ وولف گینگ سوبوٹکا نے بیان دیا کہ ”جہاں تک ملک کی داخلی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کا تعلق ہے، مجھے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کون میرے ملک میں داخل ہو رہا ہے۔“ اقوام متحدہ جینیوا کے ڈائریکٹرمائیکل مولرنے خبردارکیا ہے کہ یورپ کمرکس لے، افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطٰی سے لاکھوں تارکین وطن کا سیلاب براعظم یورپ امڈنے والا ہے۔ دو مئی کو یورپی یونین کمشنر برائے تارکین وطن دمترس آورمپولوس نے آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی، ناروے اور سوئیڈن سے کہا ہے کہ آئندہ چھ ماہ تک شینگین سرحدوں کا کنٹرول سخت کر دیں۔

غرض، یورپی مسلمانوں کی تعداد اور معیار کا ہر دو جانب سے سدباب کیا جا رہا ہے۔ اس معیاری تعداد پر قابو پانے کے لیے آنے والوں کا راستہ روکنا اور بسنے والوں کو بھاگنے پر مجبورکرنا ہے۔ دہشت گرد واقعات کی ہاہاکار بےسبب نہیں ہے۔ ایک تیسری پالیسی بھی ہے، وہ یہ کہ جومسلمان مرعوب و محکوم ہیں، ان کی مطلوب محنت مزدوری اور ممکنہ روشن خیالی کا امکان باقی رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

یورپ میں اسلام کے ابھرتے ہوئے نوجوان چہرے کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس مزاحمت کے بھی تین مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ کہتا ہے کہ مسلمان مغرب میں بخوشی رہیں، مگر اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس مؤقف کی بہت مثالیں ہیں۔ دوسرا مرحلہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کے ہمراہ اسلام بھی بخوشی قبول کیا جاسکتا ہے، مگر یہ اسلام مغرب کی مرضی کا ہوگا۔ یعنی مغرب کے معیار و اقدار پر اصلاح شدہ ہوگا۔ اصلاح شدہ سے کیا مراد ہے؟ یہ طارق رمضان کا اسلام ہوسکتا ہے، لبرل روشن خیالوں کا اسلام ہوسکتا ہے، یا گولن کا اسلام ہوسکتا ہے۔ جس میں اسلامی قوانین اور تہذیبی حاکمیت و جامعیت کا کوئی امکان موجود نہ ہوگا۔ مزاحمت کا تیسرا مرحلہ خوف و دہشت اور قتل وغارت ہے۔ پہلے دونوں مرحلے سیاسی اور نفسیاتی نوعیت کے ہیں۔ پہلے مرحلے کی مناسب مثال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور پورے مغرب کا عمومی رویہ ہے۔ دوسرے مرحلے کی مناسب مثالوں میں فرانس کے تازہ تازہ صدرامینیول میکخواں اور امریکہ کے باسی صدر براک اوباما ہیں۔ یہ مسلمانوں کا خوف کم کرتے ہیں، مگر پالیسیاں بدلنے کی قوت نہیں رکھتے۔ اس لیے کہ مزاحمت کا تیسرا مرحلہ عملی ہے۔ اس مرحلے پر عملدرآمد کا اختیارسیاستدانوں اورحکومتوں کے ہاتھ میں نہیں۔ یہ اختیارات صرف ایک حکومت کے ہاتھ میں ہیں، جو مغرب کی کُل معیشت پر قابض ہے اوراسلام سے حالت جنگ میں ہے۔

مزاحمت کا تیسرا مرحلہ شام وعراق کی تباہی ہے۔ معصوم مسلمان بستیوں پر بمباری ہے، بھاری ہتھیاروں سے دہشت گردی ہے۔ گوانتاناموبے کا وحشت ناک عقوبت خانہ ہے۔ عافیہ صدیقی کی قید و بند ہے۔ شامی پناہ گزینوں کی مشکلات ہیں۔ بشار الاسد اور پیوٹن کی وحشت ناکیاں ہیں۔ افغانستان پر ”بموں کی ماں“ کے ہولناک سائے ہیں۔ مغرب میں صبح شام مسلمانوں کو ہراساں کیا جانا ہے۔ داعش دہشت گردی کے خوفناک ڈرامے ہیں۔ بدکردارمسلمانوں کو بہانہ بناکر مسلمانوں پرخوف طاری کرنا ہے۔

یہ سارے مذکورہ اعمال وہ منظرنامہ ہے، جسے بدلنے کی قوت مغرب کے کسی سیاسی مہرے میں نہیں۔ یہ قوت صرف تل ابیب، وال اسٹریٹ، فیڈرل ریزرو، پینٹاگون، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اورعالمی اسٹیبلشمنٹ کے دیگر مراکز میں حرکت پذیر ہے۔ اس سب کے باوجود، یورپ میں ابھرتا اسلام کا چہرہ کوئی قوت داغدارنہیں کرسکتی، جب تک بی بی سلمٰی اور بی بی طوبٰی جیسا ایمان و کردار راسخ و مستحکم ہے۔