جینڈر، سیکس اور ہوموسیکشویلٹی - ڈاکٹر رضوان اسد خان

اکثر انگریزی میں مختلف قسم کے فارم بھرتے وقت آپ کے نام کے ساتھ ہی ایک خانہ ”سیکس“ کا ہوتا ہے جس میں آپ کو اپنی جنس بتانا ہوتی ہے، یعنی مذکر یا مؤنث. کچھ فارمز میں ”سیکس“ کی جگہ ”جینڈر“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اسے زیادہ مہذب سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ذومعنی نہیں ہے. انگریزی میں بھی یہ دونوں اصطلاحات روزمرہ تحریر و تقریر میں مترادفات کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور اردو میں بھی دونوں کا ترجمہ ”جنس" ہی ہے، لیکن سائنس کے میدان میں ان میں بہت بڑا فرق ہے.

”سیکس“ سے مراد وہ جنس ہے جو کسی شخص کے قدرتی اعضاء پر منحصر ہوتی ہے. یعنی مردانہ اعضاء والا ”میل“، زنانہ اعضاء والی ”فی میل“ اور غیر متعین یا دونوں قسم کے اعضاء والے ”شی میل“.

”جینڈر“ کا مسئلہ البتہ کافی پیچیدہ ہے. یہ وہ جنس ہے جس کا تعین کسی شخص کے اعضاء نہیں بلکہ اس کی سوچ اور نفسیات کرتی ہیں. اور ضروری نہیں کہ یہ تعین اس کے ”سیکس“ سے مماثلت بھی رکھتا ہو. یہاں اصل مسئلہ جو اسوقت سائنس کو درپیش ہے، وہ ہے اس معاملے میں ”نارمل“ اور ”ابنارمل“ کی تفریق. اس فیلڈ میں جتنی تحقیقات ہوئی ہیں، ان کا کل ڈیٹا بھی فی الحال کسی حتمی رائے تک پہنچنے کے لیے ناکافی ہے. بہت کچھ ابھی ماہرین کے ”ذاتی تجربے“ اور ”رجحان“ پر مشتمل ہے.

چند مثالوں سے بات کو سمجھیں:

1. اینڈروجن انسینسٹوٹوی سنڈروم:
دوران حمل اگر مردانہ وائی کروموسوم کے زیر اثر ٹیسٹوسٹیرون نامی ہارمون کا اخراج نہ ہو، تو ہر بچہ لڑکی بن جائے. اب ایک دلچسپ صورتحال اس بیماری میں سامنے آتی ہے جس میں بچے میں کروموسوم بھی وائی ہوتا ہے، ٹیسٹوسٹیرون بھی بنتا ہے، لیکن جہاں اس نے اثر کرنا ہوتا ہے وہاں اس کو قبول کرنے والے ”ریسیپٹرز“ ہی موجود نہیں ہوتے. لہٰذا اس کا ہونا، نہ ہونا ایک برابر ہوتا ہے. نتیجتاً جو بچہ پیدا ہوتا ہے، اس کے مردانہ جرثومے اور ہارمون پیدا کرنے والے غدود موجود تو ہوتے ہیں مگر جسم کے اندر ہی رہ جاتے ہیں. اور بیرونی اعضاء سو فیصد زنانہ بن جاتے ہیں.

اب ظاہر ہے کہ والدین اسے لڑکی کے طور پر ہی پالتے ہیں اور وہ خود بھی ہمیشہ اپنے آپ کو لڑکی ہی سمجھتی ہے یہاں تک کہ بلوغت کی عمر نکلنے والی ہو جاتی ہے، پر ماہواری شروع نہیں ہوتی. جب ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو جینیاتی اور اندرونی اعضاء کے لحاظ سے لڑکا، مگر جسمانی اور ذہنی لحاظ سے لڑکی ہے. یعنی سیکس ”میل“ اور جینڈر ”فی میل“.
اب مخمصہ یہ ہے کہ طبی امداد سے اسے مکمل طور پر لڑکا بنائیں یا لڑکی؟ اور یہی اکثر وہ کیسز ہوتے ہیں جن کے بارے میں اخبارات میں آتا ہے کہ تبدیلی جنس کا آپریشن کروا کر لڑکی، لڑکا بن گئی.. عموماً فیصلہ مریض اور طبی سہولیات کی دستیابی پر چھوڑ دیا جاتا ہے. زیادہ تر کیسز البتہ لڑکی رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں.

2. کنجینیٹل ایڈرینل ہائپرپلیزیا:
اسی طرح ایک اور جینیاتی بیماری میں لڑکی کے جینز والے بچے میں دوران حمل ٹیسٹوسٹیرون کی ضرورت سے زیادہ مقدار کی وجہ سے بیرونی اعضاء مردانہ بن جاتے ہیں. اور بسا اوقات یہ تبدیلی اتنی ”مکمل“ ہوتی ہے کہ والدین کو بلوغت تک پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ لڑکا نہیں لڑکی ہے، (خصوصاً اس صورت میں جب نومولود کا تفصیلی معائنہ کسی ماہر امراض اطفال نے نہ کیا ہو). مریضہ بھی ذہنی طور اپنے آپ کو لڑکا ہی سمجھتی رہتی ہے. مگر جب دس بارہ سال کی عمر میں زنانہ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں تو مسئلہ کافی پیچیدہ ہو جاتا ہے. اب یہاں سیکس ”فی میل“ ہے اور جینڈر ”میل“. پھر وہی مسئلہ: اسے اب لڑکا بنائیں یا لڑکی.

اسی طرح ایک نفسیاتی بیماری ہے ”جینڈر ڈس فوریا“ جس میں مریض جینیاتی اور جسمانی طور پر مکمل مرد یا عورت ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر اپنی قدرتی جنس سے مطمئن نہیں ہوتا اور مخالف جنس کا ممبر بننے کی شدید اور ناقابل برداشت خواہش اپنے اندر پاتا ہے.

اس فیلڈ میں کافی ریسرچ جاری ہے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ تحقیق میں جو رجحان سامنے آ رہا ہے، وہ نہایت خطرناک ہے. اس بات کو ثابت کرنے کی کافی حد تک دانستہ کوشش کی جا رہی ہے کہ حمل کے دوران دماغ پر اثرات ہی دراصل جنس کا حقیقی تعین کرتے ہیں اور اعضاء کا کردار اس میں ثانوی ہے. اور پھر اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم جنس پرستی کا تعلق بھی پیدائشی دماغی رجحان سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے. ابھی تک تو یہ بات حتمی طور پر ثابت نہیں کی جا سکی، لیکن یہ معاملہ ایسا ہے جس میں ریسرچ کے شماریاتی پہلو کو اپنی منشاء کے مطابق توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا کوئی بہت مشکل کام نہیں. عین ممکن ہے کہ جس طرح ہم جنس پرستی کو نفسیاتی بیماریوں کی لسٹ سے نہایت مکاری سے نکلوا دیا گیا تھا، اسی طرح اس کو جسمانی طور پر ایک ”منفرد پر نارمل بی ہیوئیر“ ثابت کر دیا جائے جس کو اپنانے پر انسانی دماغ پیدائشی طور پر ”مجبور“ ہو...!!!

اگر ایسا ہوا (اور جو کہ ہوا ہی چاہتا ہے) تو یہ جدید دور کے لبرل ماحول میں پلے مسلمانوں کے لیے شاید اس صدی کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا.

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.