تبدیلی کا خواب - پروفیسر سجاد حیدر

اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ہمارا موجودہ جمہوری ماڈل ڈیلیور کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ مسائل ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ امیر کی دولت میں اضافہ کی شرح لامتناہی ہے تو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ تعلیم، صحت اور امن و امان، جو کہ کسی ملک کی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو پرکھنے کے سب سے اہم اشاریے ہوتے ہیں ، بری طرح نظرانداز کئے جا رہے ہیں۔ اصلاح احوال کی ہر کوشش بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہے۔ اگر ایک طرف سے اچھی خبر آتی ہے تو مختلف اطراف سے دس خبریں انتہائی حوصلہ شکن اور مایوس کن موصول ہوتی ہیں۔ یہی وجہ کہ عوام کی ایک بڑی تعداد جمہوریت اور موجودہ سیاسی نظام سے تقریباً مایوس ہو چکی ہے۔ اکثریت اپنے مسائل کا ذمہ دار سیاست دانوں اور حکمرانوں کو سمجھتی ہے۔ ان کے خیال میں ایک مخصوص طبقہ سیاست سے صرف طاقت کے حصول اور تمام پیداواری ذرائع پر قبضہ کی خواہش کے تحت چمٹا ہوا ہے۔ ان کا یہ خیال کچھ غلط بھی نہیں۔

معدودے چند افراد کو چھوڑ کر باقی سب دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بیورو کریسی جس کا بنیادی کام عوام کی فلاح و بہبود اور انصاف کی فراہمی کے لیے بنائی گئی پالیسیوں کہ روبہ عمل لانا ہوتا ہے وہ صرف اور صرف سیاستدانوں کے گماشتوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہر چند سال کے بعد سیاستدانوں کی نااہلیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف عوامی نفرت کو استعمال کرتے ہوئے فوج جمہوریت کی بساط لپیٹ دیتی ہے۔ گلیوں بازاروں میں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد پتہ چلتا ہے کہ فوج کچھ نئے مسائل کی دلدل میں پھنس کر انہی سیاستدانوں کو واپس بلانے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ایک بار پھر بحالی جمہوریت کا غلغلہ اُٹھتا ہے اور پھر وہی پرانے چہرے نیا غازہ لگا کر پرانی کرسیوں پر براجمان ہو چکے ہوتے ہیں۔

ہمارے موجودہ جمہوری ڈھانچے میں کسی بھی شخص کو الیکشن لڑنے کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے بات لاکھوں سے کروڑوں تک جا پہنچی ہے اب جو شخص کروڑوں خرچ کر کے کسی اسمبلی کا رکن بنتا ہے اس سے یہ امید رکھنا کہ وہ صرف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے گا اور اپنے سرمایہ کی واپسی کی تگ ودو نہیں کرے گا، ایک احمق کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں مجبور ہیں کہ انہی افراد کو میدان میں اتاریں جو نہ صرف اپنے اخراجات برداشت کریں بلکہ لیڈران کے جلسے جلوسوں کا بوجھ بھی اٹھا سکیں۔ ملکی آبادی کی اکثریت کا تعلق دیہات سے ہے اور دیہی علاقوں میں 'الیکٹ ایبلز' کی بڑی تعداد ذاتی اثرورسوخ، برادری ازم، عوام پر مکمل تسلط اور دولت کے بل بوتے پر ایوان اقتدار تک پہنچتی ہے۔ ان افراد اور گروہوں کا زور توڑنے کے لیے موجودہ طریقہ انتخاب میں کوئی سہولت موجود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کا مفاد بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ منشور، نظریہ، کارکردگی جیسے مشکل اور متروک الفاظ کا سہارا لیے بغیر ان طاقتور افراد اور گروہوں کے بل بوتے پر انتخابات مین کامیابی حاصل کی جائے۔ بیس کروڑعوام کو جوابدہ ہونے کی بجائے چند سو مفاد پرستوں کو راضی رکھنا بہرحال آسان کام ہے۔

ایسے میں اصلاح احوال کے لیے ایک طریقہ متناسب نمائندگی کا بھی ہو سکتا ہے۔ جس میں ووٹ افراد کو پڑنے کی بجائے سیاسی پارٹیوں کو دیے جائیں۔ یعنی عوام براہ راست سیاسی جماعتوں کو اپنا ووٹ کاسٹ کریں، ہر شخص کو پتہ ہو کہ وہ جس جماعت کو بھی ووٹ ڈالے گا اس کا ووٹ ضائع نہیں ہوگا۔ پانچ فیصد سے کم ووٹ حاصل کرنے والی جماعت پارلیمان میں نمائندگی کی مجاز نہ ہوگی۔ سیاسی جماعتیں اپنے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے پہلے سے مہیا کردہ لسٹوں کے مطابق پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کر سکیں گی۔ مدت اقتدار بھی پانچ سے کم کر کے چار سال کی جا سکتی ہے۔ اس عرصہ میں حکومت بلا کسی خوف و خطر کے اپنے منشور کو بروئے کار لا سکے گی۔

یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے سے سیاسی جماعتیں ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کی بلیک میلنگ سے نجات حاصل کر سکتی ہیں۔ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے تحت انتخابات ہوں اور ہر جماعت اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کرے۔ یاد رکھیں خالی خولی نعروں سے تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ مسائل کا ادراک کر کے قابل عمل حل نکال کر جب تک اسے بروئے کار نہیں لایا جائے گا، تبدیلی کا نعرہ صرف نعرہ ہی رہے گا۔

Comments

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں. اپنےاپ کو لیفٹ کے نظریات سے زیادہ قریب پاتے ہیں. اپنے لوگوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں. ایمان کی حد تک یقین کامل کہ ان تمام دکهوں کا مداوا، تمام مسائل کا حل بامقصد علم کے حصول میں مضمر ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.