ویلڈن پیمرا - محمد عرفان ندیم

یہ ایک عالی شان ہوٹل کا وسیع ہال تھا۔ وہاں موجود اسٹیج کو بھرپور انداز سے سجایا گیا تھا۔ چاروں اطراف بڑے بڑے بینر آویزاں تھے۔ اسٹیج کو کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں سے ایک حصہ مہمانوں کے لیے، دوسرے حصے میں کچھ کیبن، ایک جانب چھوٹا سا حوض تھا جس کے درمیان میں فوارے لگے تھے اور بیچ میں کہیں کہیں پھولوں کے گملے رکھے ہوئے تھے۔ ایک طرف ترتیب سے نشستیں لگی تھیں اور نشستوں پر بچے، بوڑھے، مرد، خواتین اور فیملیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔

اسٹیج پر ایک مداری بھی موجود تھا جسے لوگ میزبان کہہ رہے تھے۔ مداری نے مائیک تھاما ہوا تھا اور اونچی آواز سے چلا رہا تا کہ ‘‘فیصلہ ہونے میں چند منٹ باقی ہیں اور بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ ان چاروں میں سے انعام کون جیتتا ہے‘‘ اس کے بعد مداری آگے بڑھا اور ساتھ کھڑے چار افراد میں سے نسبتا بڑی عمر والے شخص کو کندھے سے پکڑ کر آگے لے آیا۔ سب کی نظریں مداری پر جمی تھیں۔ اس نے پہلے شخص کو کندھے سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا اور ایک بار پھر پورے زور سے کہنا شروع کردیا ‘‘اگر آپ یہ انعام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس پانی بھرے حوض میں چھلانگ لگانا پڑے گی اور اس کے بعد مجھ سے انعام مانگو‘‘۔ اس شخص نے پانی میں چھلانگ لگا دی، لالچ اچھے بھلے انسان کو اندھا کر دیتی ہے چنانچہ اس شخص نے پہلے حوض میں اچھل کود کی، حوض میں بیٹھ کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑے اور اس سے انعام مانگنے کی اداکاری کی لیکن جب مداری نہ مانا تو اس شخص نے حوض سے باہر نکل کر اس کے پاؤں پکڑ لیے، یہ ساری اداکاری ایسی صورتحال میں ہو رہی ہے جب سامنے خواتین، مرد اور فیملیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔ مداری کی بتیسی نکل آئی، اس نے شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے سائیڈ پے کیا اور اگلے شخص کو پکڑ کر اسی تماشے کے لیے آگے کردیا۔ یوں باری باری چاروں افراد نے اداکاری کی اور انعام کے حصول کے لیے مختلف طریقے اپنائے۔ کسی نے پاؤں پکڑے، کسی نے آہ و زاری کی، کسی نے غربت کا رونا رویا، کسی نے کپڑے پھاڑ ڈالے اور کوئی ہاتھ جوڑ کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ مداری یہ سب دیکھ کر خوش ہوتا رہا، اداکاری ختم ہوئی، مداری آگے بڑھا اور جس شخص نے سب سے بہترین انداز میں اپنی عزت نفس کا جنازہ پڑھایا تھا اسے انعام سے نواز دیا‘‘۔ یہ سین ختم ہوا اور دوسرا سین شروع ہوا۔

مداری نے سامعین میں سے تین افراد کا انتخاب کیا۔ ان میں قرعہ اندازی کی جس میں ایک لڑکے کا نام نکل آیا۔ مداری ایک بار پھر میدان میں آیا اور زور سے چلایا ‘‘اگر یہ انعام حاصل کرنا چاہتے ہو تو آپ کو ڈھائی منٹ پاگل پن کی اداکاری کرنی پڑے گی’’ لڑکا نو عمر تھا فوراً مان گیا۔ اداکاری شروع ہوئی، لڑکا بار بار کہہ رہا تھا میں پاگل ہوں ،میں پاگل ہوں، لیکن مداری کی تسکین نہ ہوئی تھی، لہذا اسے کہا گیا کہ صرف کہنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ پاگل بن کر دکھاؤ۔ لڑکے نے پہلے اپنے بال نوچنے شروع کیے، پھر گریبان پھاڑا، قمیض پھاڑ کر ایک طرف پھینکی اور زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ اب وہ کافی حد تک اپنے پاگل پن کا مظاہرہ کر چکا تھا اور مداری کی ذہنی تسکین ہو چکی تھی، ڈھائی منٹ تک کیمرے کے سامنے وہ لڑکا اپنی عزت کی دھجیاں تار تار کرتا رہا اور بالآخر اسے بھی انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔

اب تیسرا سین ملاحظہ کریں۔ پروگرام میں موجود نسبتاً ایک ادھیڑ عمر کی خاتون کو منتخب کیا جاتا ہے اور انہیں اسٹیج پر بلایا جاتا ہے۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ آنکھوں پر پٹی باندھ کر صرف ہاتھ سے چھو کر کچھ چیزوں کے درست نام بتا دیں گی تو آپ کو فلاں انعام سے نوازا جائے گا۔ انعام کی لالچ میں خاتون تیار ہو جاتی ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی جاتی ہے اور اسٹیج کے ایک کونے میں موجود شیشے کے بنے چندڈبوں کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ خاتون کو کہا جاتا ہے کہ وہ نیچے جھکے، شیشے کے ان ڈبوں میں ہاتھ ڈالے اوران میں جو چیز موجود ہے اسے چھو کر بتائے کہ وہ کیا ہے۔ بوڑھی عورت یکے بعد دیگرے چھ خانوں کی طرف جھکتی ہے اور چھو کر بتانے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کے اکثر جواب غلط ہوجاتے ہیں۔ پہلے خانے میں بند گوبھی کے چند پتے ہوتے ہیں ،دوسرے خانے میں چوہے، تیسرے میں کچھوے، چوتھے میں خرگوش، پانچویں میں مگرمچھ اور چٹھے خانے میں ایک موٹا تازہ سانپ ہوتا ہے۔ عورت کی آنکھوں سے پٹی کھولی جاتی ہے اوراسے اصل اشیاء دکھائی جاتی ہیں تو عورت کی چیخ نکل آتی ہے کہ وہ بند آنکھوں کے ساتھ کن کن چیزوں کو چھوتی رہی۔ پھر وہ موٹا تازہ سانپ اس کے گلے میں ڈال کر اسے حکم دیاجاتا ہے کہ وہ سامعین کی طرف جائے اور ان میں سے جو زیادہ شور مچائے آپ اس کے پاس جا کر اسے ڈرائیں گی۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کسی سرکس کے مناظر ہیں۔ غلط ،یہ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے رمضان کے پروگرامات تھے کہ جو ہر سال رمضان المبارک میں پاکستان کے پچاس سے زائد چینلز پر دکھائے جاتے ہیں۔ پچھلے سال پیمرا نے کچھ واقعات کا نوٹس لیا تھا لیکن مجموعی طور پر ہر ٹی وی چینل پر یہی فضا تھا جو میں نے آپ کے سامنے رکھی۔ اس سال پیمرا نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے رمضان سے پہلے ہی ہدایات جاری کر دی ہیں کہ اگر کسی چینل کی طرف سے اس طرح کی خرافات سامنے آئیں تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ پیمرا کی طرف سے جاری کی جانے والی ہدایات میں شامل ہے کہ موضوعات کے چناؤ، مہمانوں کا انتخاب، اسلامی اقدار و روایات کی پاسداری، لباس کا انتخاب، طرز گفتگو، ملکی سلامتی اور تحفظ، تشدد پسندانہ نظریات کی تشہیر، سحر و افطار کے اوقات میں انعامی شوز کے بجائے رشد و ہدایت کے پروگرامز، لاوارث بچوں کی حوالگی، تفریحی اور کوئز پروگرامز کو نشر کرنے کی اجازت رات نو بجے کے بعد اور آخری عشرے میں اس پر بالکل پابندی، اشتہارات میں احترام رمضان، دوران پروگرام شرکاء سے مختلف قسم کی اداکاری کروانا مثلا گانا گانا، ڈانس، آم کھانا، پاگل بن کر دکھانا، غیر معیاری اور غیر اخلاقی گفتگو سے اجتناب، سامعین کی عزت نفس کا خیال رکھنا اور ان کی طرف انعام وغیرہ نہ اچھالنا اور نہ ان سے کوئی ایسی ڈیمانڈ کرنا جس سے ان کی عزت نفس مجروح ہو، نظریہ پاکستان اور بانیان پاکستان کا احترام ،فرقہ ورانہ گفتگو سے اجتناب اور نسلی، قومی، علاقائی یا لسانی تقسیم پر مبنی تبصروں سے پرہیز کرنا ہوگا۔ پیمرا نے اپنی طرف سے ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے گیند عوام کی کورٹ میں ڈال دی ہے اب اگلا کام عوام کا ہے کہ وہ جہاں بھی ان احکامات کی خلاف ورزی دیکھیں فوراً پیمرا کو شکایت درج کروائیں تاکہ اس مقدس مہینے کا احترام کسی بھی طرح مجروح نہ ہونے پائے۔ پیمرا کے اس بروقت اقدام پر میں یہی کہوں گا کہ ویلڈن ابصار عالم، ویلڈن پیمرا۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.